03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سورۃ المائدہ آیت 44 کے مطابق مسلم حکمرانوں کا حکم
80496جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

سورت المائدہ کی آیت "جو اللہ کے اتارے ہوئے احکامات کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہی تو کافر ہیں" کے تحت موجودہ مسلم ممالک کے حکمران کافر ہو جاتے ہیں کیا؟ کیونکہ وہ شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے۔ براہ کرم تفصیل سے اس کے متعلق رہنمائی فرمائیے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سورۃ المائدہ آیت نمبر 44 :

( وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ)

ما انزل اللہ کے موافق حکم نہ کرنے سے غالباًمراد ہے کہ منصوص حکم کے وجود ہی سے انکار کردے اور اس کی جگہ دوسرے احکام اپنی رائے اور خواہش سے تصنیف کرلے،تو ایسے لوگوں کے کافر ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے،اور اگر مراد یہ ہو کہ ما انزل اللہ کو عقیدۃً ثابت مان کر پھر فیصلہ عملاً اس کے خلاف کرے تو کافر سے مراد عملی کافر ہوگا یعنی اس کی عملی حالت کافروں جیسی ہے۔(تفسیر عثمانی:سورۃ المائدہ 44)

یعنی جو لوگ اللہ کے نازل کئے ہوئے احکام کو واجب نہیں سمجھتے اور ان پر فیصلہ نہیں دیتے،بلکہ ان کے خلاف فیصلہ کرتے ہیں،وہ کافر ومنکر ہیں جن کی سزا دائمی عذاب جہنم ہے۔(معارف لقرآن 3/162)

مذکورۃتفصیل کے بعد کسی بھی مسلم ممالک کے حکمران کا شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کرنے سے یہ سمجھنا کہ وہ عقیدۃً اس کے خلاف کر رہے ہیں یہ بات ایک مسلمان کے لئے کسی بھی طرح شائبہ نہیں دیتی،لہٰذا شریعت کے خلاف فیصلے کرنے سے ان کو کافر نہیں کہا جاسکتا جبکہ وہ ان احکام کو عقیدۃً ثابت مانتے ہوں،البتہ محض غلبہ نفس یا کسی دنیاوی مجبوری اور معذوری کی بنا  پر  خلاف شریعت فیصلہ کرنےسےفاسق،ظالم اور  گناہ گار ہوں گے۔

لہٰذا ان پر لازم ہے کہ عقیدۃً ثابت ماننے کے ساتھ ساتھ عملاً بھی شریعت کے مطابق فیصلے کریں  کیونکہ اسی میں کامیابی ہے اوردنیا میں ذلت و رسوائی، خواری و ناداری سے بچنے کا یہی واحد حل ہے ۔

حوالہ جات

تفسیر روح المعانی (سورۃ المائدہ، آیت :44)

"وأجيب بأن الآية متروكة الظاهر، فإن الحكم وإن كان شاملا لفعل القلب والجوارح لكن المراد به هنا عمل القلب وهو التصديق، ولا نزاع في كفر من لم يصدق بما أنزل الله تعالى، وأيضا إن المراد عموم النفي بحمل ما على الجنس، ولا شك أن من لم يحكم بشيء مما أنزل الله تعالى لا يكون إلا غير مصدق ولا نزاع في كفره"۔

تفسیر قرطبی(سورۃ المائدہ، آیت:44)

"هي عامة في كل من لم يحكم بما أنزل الله من المسلمين واليهود والكفار أي معتقدا ذلك ومستحلا له، فأما من فعل ذلك وهو معتقد أنه راكب محرم فهو من فساق المسلمين، وأمره إلى الله تعالى إن شاء عذبه، وإن شاء غفر له. وقال ابن عباس في رواية: ومن لم يحكم بما أنزل الله فقد فعل فعلا يضاهي أفعال الكفار"۔

محمدمصطفیٰ رضا

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

28/ذو القعدہ/1444ھ

 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد مصطفیٰ رضا بن رضا خان

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب