03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“جاؤ، تم میری طرف سے آزاد ہو!” کہنے کا حکم
80172طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

شادی کے بعد اگر لڑکی اپنے شوہر کے ساتھ خوش نہ ہو، اور بار بار طلاق کا مطالبہ کرتی ہو، پھر شوہر ایک دن غصے میں یہ بول دیتا ہے کہ جاؤ، تم میری طرف سے آزاد ہو۔ تین سے چار بار ان الفاظ کو دہرایا ہو۔ کیا طلاق واقع ہو جائے گی؟ اور اگر واقع ہوگی تو عدّت کے بعد بھی رجوع کیا جا سکتا ہے؟ اس بات کو 6 ماہ گزرچکے ہیں۔

وضاحت: سائلہ نے بذریعہ فون بتایا ہے کہ ان کے شوہر نے ہِندکو زبان میں یہ جملہ کہا تھا: "تو چاہندی ای ہیں تاجل، تو آزاد ہے میری طرف سے، جل تو آزاد ہے۔"

جس کا مطلب یہ ہے: اگر تم چاہتی ہو تو جاؤ، تم میری طرف سے آزاد ہو۔

نیز سائلہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ شوہر کا اب یہ دعویٰ ہے کہ انہوں نے مذکورہ بالا جملہ طلاق دینے کی نیت سے نہیں کہا تھا۔ بلکہ بیوی کے بار بار مطالبہ کی وجہ سے کہہ دیا تھا، لیکن شوہر کی نیت طلاق کی نہیں تھی۔ تاہم اس واقعے کے بعد علاقے کے علماء نے زوجین کے درمیان علیحدگی کروا دی تھی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ "جاؤ، تم میری طرف سے آزاد ہو" طلاق کے باب میں کنائی جملہ ہے، اس جملے کے ذریعہ طلاق اُس وقت واقع ہوتی ہے جب شوہر کی نیت طلاق دینے کی ہو، یا اگر عورت بار بار طلاق کا مطالبہ کر رہی ہو، اور شوہر اُس کے مطالبے کے جواب میں یہ جملہ کہے، یا شوہر غصے کی حالت میں اس جملے کو کہے، تو ان سب  صورتوں میں  بیوی کو طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ اور آخری دونوں صورتوں میں اگر شوہر یہ دعویٰ کرے کہ اُس کی نیت طلاق دینے کی نہیں تھی، تو قضاءً شوہر کا یہ دعویٰ معتبر نہیں ہوگا۔

لہٰذا سوال میں ذکر کردہ صورت میں لڑکی کی طرف سے بار بار طلاق کا مطالبہ کرنے پر شوہر نے "جاؤ، تم میری طرف سے آزاد ہو" کہا تھا، اس لیے لڑکی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوچکی ہے۔ اور شوہر کا طلاق دینے کی نیت نہ ہونے کا دعویٰ معتبر نہیں ہے۔ نیز لڑکی کی عدتِ طلاق بھی مکمل ہوچکی ہے۔ اس لیے اب لڑکا، لڑکی  نیا نکاح کرکے دوبارہ رجوع کر سکتے ہیں۔ نکاح کے لیے اُس اہتمام اور اعلان وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے جو عموماً نکاح میں ہوتا ہے، بلکہ صرف دو مسلمان مردوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرلیں تو نکاح منعقد ہو جائے گا۔ البتہ اس نکاح کے لیے الگ سے نیا مہر مقرر کرنا ضروری ہے۔ اور آئندہ شوہر کو صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔

حوالہ جات

الدر المختار (3/246):

"(ويقع الطلاق بلفظ العتق بنية) أو دلالة حال، (لا عكسه)؛ لأن إزالة الملك أقوى من إزالة القيد."

رد المحتار (10/495):

"(قوله: ويقع الطلاق إلخ) يعني: إذا قال لامرأته: أعتقتك، تطلق إذا نوى أو دل عليه الحال."

الدر المختار (3/296):

"( كنايته [الطلاق]) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق، ( واحتمله وغيره. (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء، (إلا بنية أو دلالة الحال)، وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب. فالحالات ثلاث: رضا، وغضب، ومذاكرة، والكنايات ثلاث: ما يحتمل الرد، أو ما يصلح للسب، أو لا ولا ... ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال، والقول له. (وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع، وإلا لا. (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو؛ لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية؛ لأنها أقوى، لكونها ظاهرة، والنية باطنة."

رد المحتار (11/177):

"(قوله: تأثيرا) تمييز محول عن الفاعل: أي يتوقف تأثير الأقسام الثلاثة على نية. ط. (قوله: للاحتمال) لما ذكرنا من أن كل واحد من الألفاظ يحتمل الطلاق وغيره، والحال لا تدل على أحدهما، فيسأل عن نيته، ويصدق في ذلك قضاء."

رد المحتار (11/179):

"والحاصل أن الأول [ما يحتمل الرد] يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة. والثاني [ما يصلح للسب] في حالة الرضا والغضب فقط، ويقع في حالة المذاكرة بلا نية. والثالث [ما لا يحتمل الرد، وما لا يحتمل للسب] يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلا نية."

رد المحتار (11/198):

"والبائن لا يلحق البائن، يعني البائن اللفظي، أما البائن المعنوي يلحق اللفظي مثل الثلاث."

الدر المختار (3/308):

"(لا) يلحق البائن (البائن) إذا أمكن جعله إخبارا عن الأول: كأنت بائن بائن، أو أبنتك بتطليقة، فلا يقع؛ لأنه إخبار، فلا ضرورة في جعله إنشاء، بخلاف أبنتك بأخرى، أو أنت طالق بائن، أو قال: نويت البينونة الكبرى، لتعذر حمله على الإخبار، فيجعل إنشاء، ولذا وقع المعلق. كما قال: (إلا إذا كان) البائن (معلقا بشرط) أو مضافا (قبل) إيجاد (المنجز البائن)، كقوله: إن دخلت الدار فأنت بائن ناويا، ثم أبانها، ثم دخلت، بانت بأخرى؛ لأنه لا يصلح إخبارا. ومثله المضاف، كأنت بائن غدا، ثم أبانها، ثم جاء الغد، يقع أخرى. وفي البحر عن الوهبانية: أنت بائن كناية، معلقا كان أو منجزا، فيغتفر للنية."

الدر المختار (3/9):

"(وينعقد [النكاح] بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر ... (و) شرط (حضور) شاهدين(حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) على الأصح."

الدر المختار (3/102):

"ويتأكد [المهر] (عند وطء، أو خلوة صحت) من الزوج، (أو موت أحدهما)، أو تزوج ثانيا في العدة."

رد المحتار (9/500):

"(قوله: ويتأكد) ... أفاد أن المهر وجب بنفس العقد، لكن مع احتمال سقوطه، ... وإنما يتأكد لزوم تمامه بالوطء ونحوه. (قوله: أو تزوج ثانيا) هذا مؤكد رابع زاده في البحر بحثا بقوله: وينبغي أن لا يزاد رابع، وهو وجوب العدة عليها منه فيما لو طلقها بائنا بعد الدخول، ثم تزوجها في العدة، وجب كمال المهر الثاني بدون الخلوة والدخول؛ لأن وجوب العدة عليها فوق الخلوة."

محمد مسعود الحسن صدیقی

دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی

26/شوال المکرم/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد مسعود الحسن صدیقی ولد احمد حسن صدیقی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب