03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ہنڈی کی رقم میں مارکیٹ ریٹ کی رعایت نہ رکھنا
80150خرید و فروخت کے احکامبیع صرف سونے چاندی اور کرنسی نوٹوں کی خریدوفروخت کا بیان

سوال

ہنڈی پر بھیجتے وقت 10ریال بھی لیتے ہیں اور ریال ریٹ میں بھی اضافی چارج کرتے ہیں،مثلا:ریٹ 55 روپے ہے اور یہ لگالیتے ہیں،54.80،وغیرہ،تو یہ اضافی رقم روکنا کیسا ہے؟اور یہ پوشیدہ طور پر کرتے ہیں،کسٹمر کو بھی معلوم نہیں ہوتا

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سودا عام مارکیٹ کے ریٹ پرکرنالازم ہے، یعنی عام مارکیٹ میں معاملہ کے دن اس کرنسی کی جو قیمت ہوگی اسی قیمت کے مطابق تبادلہ کیاجائے،اس سے کم یا زیادہ مقرر کرنا جائز نہیں۔

حوالہ جات

بحوث فی قضایا فقهیة معاصرة (1/175):

وقد یقع إشکال علی جواز النسیئة أنه لو أجیزت النسیئة فی مبادلة عملات مختلفة، یمکن أن تصبح النسیئة حیلة لأکل الربا…. وحل هذا الإشکال ماذکرنا من أن یشترط فی جواز النسیئة أن یکون بسعر المثل یوم العقد. فإن اشتراط ثمن المثل فی عقود النسیئة یقطع الاحتیال علی الربا. واشتراط سعر المثل فی المبادلات له نظائر کثیرة فی الفقه، مثل أجرة کتابة الفتوی، أجازها الفقهاء بشرط أن لایتجاوز فیه عن أجر المثل، وذلك لئلا یتخذ ذلك حیلة لتقاضی الأجرة علی الإفتاء نفسه.

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

26/شوال1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب