03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“King Kang”ایپ کا حکم
78602جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

ایک "App" ہے ،جس کا نام "King Kang" ہے،اگر اسے انسٹال کریں تو اس صورت میں 300روپے ملتے ہیں،اس"App" میں بندہ جتنا"Order" لیتا جائے گا تو اسے اتنے پیسے ملتے جائیں گے۔اسی طرح اگر وہ آگے کسی اور شخص کو "Invite" کرے تو اس شخص کے اس "App" کو انسٹال کرنے کی صورت میں اسے بھی رقم ملے گی۔اور چونکہ پہلے شخص کے " Invite " کر نے پر اس نے "App" کو انسٹال کیا تھا لہذا اسی کو بھی الگ سے کچھ رقم ملے گی ،اسی طرح سلسہ چلتارہے گا یعنی آگے جتنے بندے شامل ہوتے رہیں گے توپچھلے تمام افراد کو الگ الگ پیسے ملتے رہیں گے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 اس ایپ کے بارے میں جو معلومات کی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا طریقہ کار غلط ہے۔فری ارننگ کرنے کے لیے اشتہارات کو کلک کرنا پڑتا ہے۔جبکہ اشتہارات دیکھنے کا کام اجارہ (ملازمت) کا فعل ہے جس میں اشتہار دیکھنے والے کو اشتہار دیکھنے کی اجرت دی جاتی ہے۔ یہ کوئی ایسی منفعت نہیں جو اصلاً مقصود ہو اور شرعاً اس کی اجرت لی جا سکے۔ اس کے برعکس یہ کام جعل سازی کے لیے اکثر استعمال ہوتا ہے، مثلاً کمپنیاں اشتہار بازی (Advertisement) اس لیے  کرتی ہیں کہ ان کی مصنوعات کی فروخت میں اضافہ ہو سکے،  جبکہ یہاں کسی کمپنی کو یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس کی پراڈکٹ یا ایپلیکیشن تک اتنے لوگوں کی رسائی ہے حالانکہ وہ لوگ اپنے معاوضے کے لیے اشتہار دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ لہذا شرعاً یہ کام کرنا اور اس کی اجرت لینا درست نہیں ہے۔

اس میں انویسمنٹ پر جونفع ملتاہے،اتنا منافع کسی بھی قانونی کاروبار میں  مسلسل ملنا غیرمعقول  اور ناممکن ہے۔ اس لیے زیادہ گمان یہ ہے کہ  یہ فراڈ پر مبنی ہے، جس سے بچنا لازم ہے۔ نیز رقم انویسٹ کر کے اس پر متعین نفع لینا بھی جائز نہیں۔

مذکورہ کاروبار میں جب کوئی شخص انوائٹ کرکے پہلا ممبر بناتا ہے اور وہ ممبر مزید آگے ممبرز بناتا ہے تو ان آگے والے ممبران کی لین دین میں اس شخص کا کوئی ایسا عمل نہیں ہوتا جس کا تعلق براہ راست ایپلی کیشن اونر اور ممبر کے لین دین سے ہو، ایسی صورت میں یہ شخص جو اجرت لیتا ہے وہ بغیر کسی عمل کے ہوتی ہے،یا ابتدا میں بنائے گئے ممبر کے عمل کے نتیجے میں بار بار اجرت ملتی ہے اور ان دونوں صورتوں میں اجرت جائز نہیں ہے۔

خلاصہ یہ کہ اس ایپ سے خود کمائی کرنا یا کسی اور کو انوائٹ کرکے کمانا دونوں درست نہیں۔

حوالہ جات

المبسوط للسرخسي( 16/41):

وإن سلم غلاما إلى معلم ليعلمه عملا وشرط عليه أن يحذقه فهذا فاسد؛ لأن التحذيق مجهول إذ ليس لذلك غاية معلومة وهذه جهالة تفضي إلى المنازعة بينهما، وكذلك لو شرط في ذلك أشهرا مسماة؛ لأنه يلتزم إيفاء ما لا يقدر عليه فالتحذيق ليس في وسع المعلم بل ذلك باعتبار شيء في خلقة المتعلم، ثم فيما سمي من المدة لا يدري أنه هل يقدر على أن يحذقه كما شرط أم لا والتزام تسليم ما لا يقدر عليه بعقد المعاوضة لا يجوز.

شرح القواعد الفقهية،( 1/55، دار القلم):

العبرة في العقود للمقاصد والمعاني لا للألفاظ والمباني۔۔۔ والمراد بالمقاصد والمعاني: ما يشمل المقاصد التي تعينها القرائن اللفظية التي توجد في عقد فتكسبه حكم عقد آخر كما سيأتي قريبا في انعقاد الكفالة بلفظ الحوالة، وانعقاد الحوالة بلفظ الكفالة، إذا اشترط فيها براءة المديون عن المطالبة، أو عدم براءته.

وما يشمل المقاصد العرفية المرادة للناس في اصطلاح تخاطبهم، فإنها معتبرة في تعيين جهة العقود، فقد صرح الفقهاء بأنه يحمل كلام كل إنسان على لغته وعرفه وإن خالفت لغة الشرع وعرفه: (ر: رد المحتار، من الوقف عند الكلام على قولهم: وشرط الواقف كنص الشارع).

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

62/جمادی الاولی1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب