03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میراث کے حصے پر رضامندی کے بعد دوبارہ زیادہ مانگنا
78515میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

مفتی صاحب  کچھ سوالات کے جوابات مطلوب ہیں،پہلے کچھ تفصیل میں ترتیب سے تحریر کر رہا ہوں۔

1۔میرے والد کی دکان صدر میں تھی جس پر 1971 سے میں نے بھی والد کے ساتھ جانا اور ان کا ہاتھ بٹانا شروع کردیا ۔

2۔ 1977 میں میرے والد کا انتقال ہو گیا ،ہم 8بھائی ، دوبہنیں اور والده،والدکےوارث بنے۔

3۔ 1978 میں مجھ سے بڑے بھائی دارالعلوم کو رنگی سے فتوی لے آئے،یوں تمام در ثاء کے حصے مقرر ہو گئے اور مجھ سے بڑے اورچھوٹے بھائی اپنا اپنا حصہ لیکر علیحدہ ہو گئے۔بڑے بھائی کے بعد میں تھا اس لیے باقی ورثاء کی کفالت اوراخراجات کی ذمہ داری مجھ پر آئی۔ میں نے والد کی دکان سنبھالی، چونکہ اکیلا ہو گیا تھا اس لئے والدہ نے13/14 سال کے  چھوٹے بھائی عثمان کو میرے ساتھ دکان پربھیجنا شروع کر دیا۔ دکان کے فنانس کی تمام ذمہ داری مجھ پرتھی ۔

4۔1990 میں عثمان احمد کی شادی ہوئی اور عثمان نےمجھ سے مطالبہ کیا کہ میرا حصہ مجھے دیا جائے میں علیحدہ کاروبار کروں گا۔چنانچہ اس وقت جتنے اثاثہ جات موجود تھے۔ ان سب کا حساب لگایا گیا اور جو فتوی میرے بڑے بھائی نے لیا تھا اس کے مطابق تمام ورثاء کے حصوں کو میں نے %24 فیصد بڑھا کر 4 بھائی اور2 بہنوں اور والدہ کا حصہ الگ کیا اور باقی جو مال بچا اس میں سے 40 فیصد عثمان احمد اور 60 فیصد خود لینے کا ارادہ کیا۔

5۔عثمان احمد نے اس وقت مجھ سے اختلاف کیا کہ آپکے اور میرےدرمیان 40 اور 60 نہیں بلکہ میرا بھی 50 فیصد اور آپ کا بھی 50فیصد ہو، یعنی برابری سے تقسیم ہو، یہ اختلاف والدہ اورہمارےبڑے بھائی نے باہمی رضامندی سے حل کروادیا کہ رضوان احمدنے والد کے انتقال سے سات سال پہلے سے والد کا ہاتھ بٹایا ہے اورانتقال کے بعد بھی فنانس کی تمام ذمہ داری اسی نے سنبھالی ہے،چنانچہ یہ مسئلہ وقتی طور پر حل ہو گیا۔

6۔40 فیصد اور 60 فیصد کے حساب سے عثمان احمد اور رضوان احمد کے درمیان 410,104

( چار لاکھ دس ہزار ایک سو چار روپے)کا فرق بنتا ہے ۔

7۔چنانچہ جب یہ مسئلہ حل ہو گیا تو رضوان احمد نے عثمان احمد کو ان کا حصہ یعنی 40فیصداور تین بھائیوں اور ایک بہن کا حصہ یعنی کل چارورثاء کے حصے بھی ان کو دیئے کہ آپ انھیں دیدیجیے گا اس طرح یہ تقسیم مکمل ہوگئی ۔

8۔تمام بہن بھائیوں کے حصے دینے کے بعد کاروبار میں رقم بہت کم رہ گئی تھی، اس لیے رضوان احمد نے اس دکان کو فروخت کردیا اور دوسرےعلا قہ میں اس سے کم قیمت وكان لی اور نیا کاروبار شروع کیا،تقریباً 3 سے 4 سال کا عرصہ بہت مشقت میں گزرا پھراللہ نے آسودگی عطا کردی۔

9۔ دوسری طرف عثمان نے ناصرف اپنا حصہ (40 فیصد) استعمال کیا، بلکہ ان کو چارورثاء کے جو حصے امانتا دیئے گئے تھے ، وہ بھی استعمال کرلیے اور ورثاء کو نہیں دیئے۔

12۔اسی طرح رضوان احمد اور عثمان احمد کے گودام واقع صدر جو کہ ایک ساتھ ایک ہی جگہ میں تھے، 2019 میں عثمان احمد نے ان پربھی اپنا حق ظاہر کیا۔ رضوان نے گودام کرائے پر دیا ہواتھاچنانچہ عثمان احمد نے کرایہ دار سے کہا کہ یہ گودام میرے بھائی رضوان احمد کا نہیں ہے، بلکہ میرا ہے آیندہ اس کے کرائے کی رقم اب تم مجھے دینا ،ورنہ میں تمہارے خلاف قانونی کاروائی کروں گا،کرایہ دار نےرضوان احمد سے رابطہ کیا تو رضوان احمد نےاس اختلاف کو گھر ہی میں حل کرنے کےلیےکرایہ دار سےکہا کہ آپ عثمان احمد کو ہی کرایہ دیا کریں، حالانکہ یہ بات پورے ہوش حواس کے ساتھ عثمان احمد کے علم میں ہے کہ یہ گودام رضوان احمد کی ملکیت ہے، چنانچہ 2019 - 6 – 18سے عثمان احمد اس گودام کا کرایہ بھی خودہی وصول کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ عثمان احمد نے 2019 میں اس تقسیم کے 25سال گزرنے کے بعد یہ دعوی بھی کیا کہ 1994 میں جو میرے بڑے بھائی رضوان احمد اور عثمان احمد کے درمیان جو 40 فیصد اور60 فیصدتقسیم ہوئی تھی اس میں میرے اور بھائی کے حصے میں 410,104کا فرق تھا ،ہم دونوں بھائیوں نے محنت کی تھی مگر مجھے تقسیم کے وقت یہ رقم کم ملی تھی،لہذا اب وہ رقم بھی واپس کریں اور 25 سال اس کے استعمال کا نفع بھی مجھے دیں ورنہ میں ان کے خلاف قانونی کاروائی کروں گا ۔اس تمام تفصیل کے بعد مجھے آپ سے یہ سوالات پوچھنے ہیں۔

1۔ رضوان احمد خود بھی چاہتے ہیں کہ چار لاکھ دس ہزار ایک سو چار کی رقم ان کو واپس کر دے مگر یہ اس وقت سے اب تک یہ رقم چونکہ رضوان احمد کے پاس رہی اس پورے زمانے کا نفع ساتھ مانگ رہے ہیں ،تو کیا یہ نفع مانگنا ان کے لئے درست ہے ؟

2۔اگر ان کو نفع دیا جائے تو اسکا حساب کسی طرح لگایا جائے گا؟کیونکہ کاروبار میں نقصان اور نفع دونوں ہوتا ہے اور میں نے بھی جودوسرا کاروبار شروع کیا اس میں بھی نقصان بھی ہوا اور نفع بھی۔

3۔عثمان احمد نے 3 بھائیوں اور بہن کا حصہ بھی ابھی تک ادانہیں کیا تو کیا ان پر واجب ہے کہ وہ بھی اب نفع کے ساتھ ان کو حصہ ادا کریں۔

4۔رضوان احمد کے گودام کا کرایہ گذشته 3 سال 5 مہینےسے عثمان احمد خود وصول کر رہے ہیں وہ عثمان احمد کےلئے کیا حیثیت رکھتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر والد نے اپنے سرمایے سے کاروبار شروع کیا ، بعد میں اس کے بیٹوں میں سے بعض شریک کار ہوگئے ، مگر الگ

سے انہوں نے اپنا کوئی سرمایہ نہیں لگایا ،والد نے بھی اجرت کے اعتبارسے ان کی کوئی حیثیت متعین نہیں کی، وہ والدکی کفالت میں تھے، تواس صورت میں وہ لڑکے والد کے معاون شمار کیے جائیں گے اوراگر باپ کی زیر کفالت نہیں ہیں تو عرفاً جواجرتِ عمل ہوسکتی ہے وہ ان کو دی جائےگی۔لہذا والد کے ساتھ آپ کا عمل اگر پہلی صورت پر مبنی تھا پھر تو برابر تقسیم کرنا چاہیے تھا۔اگر دوسری صورت پر مبنی تھا تو پھر یہ اضافی حصہ بطور اجرت آپ کا حق بن سکتاہے۔تاہم موجودہ صورتحال میں چونکہ  محمدعثمان نے اپنا حصہ لے کر کچھ باقی حصےکے بارے میں آپ سے صلح کی ہے ،اور اپنے اس حق سے دستبردار ہوچکاہے،اس لیے اب دوبارہ مانگنا درست نہیں ہے۔

اس تفصیل کے مطابق آپ کے سوالات کے جوابات یہ  ہیں:۔

1۔آپ اگر اپنی مرضی سے ان کو کچھ دینا چاہتے ہیں تو دیدیں ،البتہ ان کو شرعا یہ رقم یا اس کا نفع مانگنے کا حق نہیں ہے۔

2۔نفع دینا لازم نہیں ہے۔

3۔محمد عثمان کے ذمہ اپنی والدہ اور بہنوں کے حصہ کی ادائیگی لازم ہے۔نفع کے بارے میں یہ حکم ہے کہ

اگر والدہ اور بہنوں کا حصہ ان کی اجازت سے کاروبار میں لگایا ہو اور اجازت بطور قرض تھی تب نفع میں ان کا حصہ نہ ہوگا اور اگر اجازت بطور کاروبار میں شرکت کےتھی تو نفع میں بھی  ان کاحصہ ہوگا،اگر  ان کی طرف سے نہ صراحتاً اجازت تھی اور نہ دلالۃًتو ایسی صورت میں  ان کے حصہ سے حاصل شدہ نفع کو فقراء پر صدقہ کرنا لازمی ہوگا۔نیز صدقہ کے طور پرخود ان کو بھی دینا درست ہے۔

4۔گودام اگر محمد رضوان کا ہے تو محمد عثمان کے ذمے لازم ہے کہ ان کے حوالے کرے،مستقبل کے حوالے سے کرایہ کا حق دار بھی محمد رضوان ہے۔اب تک چونکہ محمد عثمان نے محمد رضوان کی مرضی اور اجازت سے کرایہ وصول کیا ہے،اس لیے محمد عثمان کے ذمہ وہ کرایہ واپس کرنا لازم نہیں ہے۔

حوالہ جات

الھدایہ: (420/4):

و لو اختلفا فی التقویم لم یلتفت الیہ، لانہ دعویٰ الغبن و لا معتبر بہ فی البیع، فکذا فی القسمۃ لوجود التراضی۔

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (2/ 18):

"قال علمائنا :أب وابن ‌يكتسبان ‌في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء ثم اجتمع لهما مال يكون كله

للأب إذا كان الابن في عياله فهو مشروط كما يعلم من عباراتهم بشروط منها اتحاد الصنعة وعدم مال سابق لهما وكون الابن في عيال أبيه فإذا عدم واحد منها لا يكون كسب الابن للأب.

شرح المجلة(4/29،30):

إذا أخذ أحد الورثة مبلغاً من الدّراهم من التركة قبل القسمة بدونِ إذنِ الآخرين و عمل فيه و خسر فتكون الخسارة عائدة إليه كما أنّه إذا ربح فلا يسوغ لبقيّةِ الورثةِ طلبُ حصّةٍ منه) لأنه إما غاصب أو مستودع، وكل منهما استربح فيما في يده لنفسه، يكون ربحه له لا للمالك، لكن يملكه ملكا خبيثا سبيله التصدق على الفقراء

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

20/جمادی الاولی1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب