| 80329 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرے والد اور چچا دو بھائی تھے ان کے نام ایک مکان تھا ،چچا کی 1986 میں وفات ہوگئی اور میرے والد صاحب کا 1997میں انتقال ہوا۔ والدہ حیات تھیں۔ میں نے چچا کی بیوہ سے (اپنے کمائے ہوئے پیسوں سے )آدھا مکان خرید لیا تھا ۔ہم دو بہن بھائی ہیں،محمد خالد اور خالدہ پروین۔ اب مکان میں میرا اور میری بہن کا کتنا حصہ ہو گا۔اس مکان میں کاغذات کا خرچ ،اسٹیٹ کمیشن کا کمیشن اور مکان خرید وفروخت کا ٹیکس میں نے ادا کیا ہے۔
لہذا میری راہنمائی فرمائیں کہ شرعی طور پر میری بہن کا کتنا حصہ وراثت بنتا ہے۔
وضاحت: سائل کی والدہ کا بھی انتقال ہوچکا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کے والد نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں سونا، نقدی، چاندی، جائیداد، مکانات، کاروبار، غرض جو کچھ چھوٹا، بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، تو وہ سب ان کا ترکہ یعنی میراث ہے ۔اس سے متعلق حکم یہ ہے کہ سب سے پہلے ان کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں، البتہ اگر یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان اٹھائے ہوں تو پھر انہیں ترکہ سے نہیں نکالا جائے گا ۔اس کے بعد اگر ان کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے۔ اس کے بعد اگر انہوں نے کسی غیر ِوارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی(1/3) ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے۔ اس کے بعد جو بچ جائے اس کے 24 حصے بنا کر درج ذیل نقشے کے مطابق ورثاء میں تقسیم کردیا جائے۔
|
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
زوجہ |
3 حصے |
12.5% (ثمن) |
|
بیٹا |
14 حصے |
58.3333% (عصبہ بنفسہ) |
|
بیٹی |
7 حصے |
29.1666% (عصبہ بغیرہ) |
|
ٹوٹل |
24 حصے |
100 % |
آپ کے اپنے پیسوں سے خریدے ہوئے مکان کے حصے میں سےآپ کی بہن کو میراث نہیں ملے گی، وہ آپ ہی کی ملکیت ہے۔والد سے وراثت میں ملے مکان کے 24 حصوں میں آپ کی بہن 7 حصوں کی وارث ہے۔نیز مکان کا ٹیکس اور دیگر حقیقی اخراجات دونوں پر ان کے شرعی حصے کے بقدر لازم ہیں، آپ بہن سے ان کے حصے (29.1666%)کے بقدر ہونے والے حقیقی اخراجات لے سکتے ہیں۔
چونکہ آپ کی والدہ کا انتقال ہوچکا ہے،لہٰذا اگر آپ دونوں کے علاوہ ان کا اور کوئی وارث نہ ہو تو ان کی میراث آپ دونوں میں اس طرح تقسیم ہوگی کہ ان کے ترکے کے تین حصے ہونگے، دو حصے آپ کو اور ایک حصہ بہن کو ملے گا۔والد کے مکان کے سلسلے میں جو اخراجات والدہ کے حصے میں آئے ہیں ان کی تقسیم بھی اسی تناسب سے ہوگی۔
حوالہ جات
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْن} [النساء: 11]
{فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ } [النساء: 12]
محمد فرحان
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
15 /ذیقعدہ/1444 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد فرحان بن محمد سلیم | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


