| 80169 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماءکرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
ملازمین کے اچانک چھوڑ جانے کی وجہ سے اداروں کو کئی قسم کی تکلیف کا سامنا کر نا پڑ تا ہے نیز بسا اوقات مالی نقصانات بھی بر داشت کرنے پڑتے ہیں، اسی وجہ سے عموماً اداروں میں ضابطہ بنایا جاتا ہے کہ ملازم اگر ایک ماہ کا نوٹس دیے بغیر چھوڑ گیا تو اس کی ایک ماہ کی تنخواہ کاٹی جائے گی، ہمارے ادارے میں بھی عملاً اسی رائج صورت پر عمل کیا جاتا تھا، تاہم ملازم سے اس سلسلے میں کوئی معاہدہ سائن نہیں کروایا گیا تھا، چنانچہ اس صورت کے مطابق ایک ملازم کی جب نوٹس دیے بغیر چھوڑ جانے پر تنخواہ کاٹی گئی تو اس کی طرف سے یہ اعتراض کیا گیا کہ چونکہ اس کے ساتھ اس سلسلے میں پہلے سے کوئی بات سے نہیں تھی ، اس لئے اس کی تنخواہ نہ کاٹی جائے ، اس صور تحال میں آپ سے شر عی رہنمائی مطلوب ہے کہ
ا۔کیا ملا زم سےایگریمنٹ سائن کئے بغیر فیکٹریوں کے رائج عرف کی وجہ سے نوٹس پیریڈکی تنخواہ کاٹنا جائز ہے؟
2۔ ایسا ملازم جس نے ایگریمنٹ سائن نہیں تھا لیکن مذکورہ عرف کی وجہ سے (نوٹس دیے بغیر چھوڑ کر جانے کی وجہ سے) تنخواہ کاٹی گئی اور ملازم نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا، کیا ایسا کرنا جائز تھا؟
3۔ کیا آ ئندہ اگر ملازم سے پہلے سے معاہدہ سائن کر والیا جاۓ کہ ایک ماہ کا نوٹس دیے بغیر چھوڑنے پر تنخواہ کاٹی جاۓ گی ، اوراگر کمپنی نے نوٹس دیے بغیر نکال دیا تو کمپنی ایک ماہ کی تنخواہ ادا کرے گی ، تو ایسی صورت میں تنخواہ کاٹناجائز ہوگا،اگرجائزنہیں ہے تو جائز متبادل صورت کیا ہو سکتی ہے جس سے ملازم کو ایسی حرکت پر خاطر خواہ تنبیہ ہو سکے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ملازم نے جتنے دن کام کیا ہوا اتنے دن کی تنخواہ دینا ادارے پر شرعاً لازم ہوتاہے،لہذا کسی ملازم کے نوٹس دیے بغیر نوکری چھوڑنے پرادارے کااس کی ایک مہینے کی تنخواہ کاٹ لینا شرعاً جائز نہیں ہے۔
اس کا متبادل یہ ہوسکتاہے کہ شروع میں ہی ملازم سے اس بات کا معاہدہ کرلیا جائے کہ ملازمت ترک کرنے سے ایک ماہ پہلے
اطلاع دینی ہوگی، ورنہ اطلاع کے ایک ماہ بعد تک اصالۃ ً یانیابۃ ً کام کرنا لازم ہوگا، اس صورت میں یہ ”لاضررولاضرار“کے قاعدہ کے تحت داخل ہوجائے گا ۔(کذا فی تبویب دارالعلوم کرادچی :۸۰۳/۳۳)
نیزالتزامِ تصدق کی صورت بھی اختیار کی جاسکتی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تقررکے وقت خود ملازم یہ التزام کرے کہ اگروہ ادارہ بغیر اطلاع کے چھوڑے گا تواتنی رقم خیرکے کاموں میں صدقہ کرے گا ،اس کیلئے ادارہ کے اندر ایک الگ شعبہ قائم کردیا جائے ،جو اس بات كا تعین کرے کہ ا س صدقہ کی رقم کو کن وجوہِ بر میں خرچ کیا جائےگا،کمپنی خود اس رقم کو ذاتی استعمال میں نہیں لاسکے گی۔
آب کے سوالوں کےمختصرجوابات درج ذیل ہیں :
1۔جائزنہیں ہے،جتنے دن کام کیا ہے اس کی تنخواہ دینی ہوگی ۔
2۔جائزنہیں تھا،لہذا کام کی دنوں کی تنخواہ اس کو پہنچانی ہوگی یا وہ خوشی سے معاف کرے ۔
3۔جائزنہیں ہے،اوراس کا متبادل اوپر لکھ دیاگیاہے۔
حوالہ جات
بحوث في قضايا فقهية معاصرة- القاضي محمد تقي العثماني - (1 / 38)
وأما إذا التزم أنه إن لم يوفه حقه في وقت كذا، فعليه كذا وكذا لفلان، أو صدقة للمساكين، فهذا هو محل الخلاف المعقود له هذا الباب، فالمشهور أنه لا يقضي به كما تقدم، وقال ابن دينار: يقضي به) (1) . وقال قبل ذلك: (وحكاية الباجي الاتفاق على عدم اللزوم فيما إذا كان على وجه اليمين غير مسلمة لوجود الخلاف في ذلك كما تقدم، وكما سيأتي). وإن الحطاب رحمه الله وإن رجح عدم اللزوم، ولكنه قال في آخر الباب: (إذا قلنا إن الالتزام المعلق على فعل الملتزم الذي على وجه اليمين لا يقضي به على المشهور، فاعلم أن هذا ما لم يحكم بصحة الالتزام المذكور حاكم. وأما إذا حكم حاكم بصحته أو بلزومه، فقد تعين الحكم به، لأن الحاكم إذا حكم بقول لزم العمل به وارتفع الخلاف. هذا على قول بعض المالكية. أما على أصل الحنفية، فإن الوعد غير لازم في القضاء، لكن صرح فقهاء الحنفية بأن (بعض المواعيد قد تجعل لازمة لحاجة الناس)
كتاب المعايير - (1 / 16)
يجوز أن ينص في عقود المداينة؛ مثل المرابحة، على إلتزام المدين عند المماطلة بالتصدق بمبلغ أو نسبة بشرط أن يصرف ذلك في وجوه البر بالتنسيق مع هيئة الرقابة الشرعية للمؤسسة.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
29/10/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


