| 80108 | طلاق کے احکام | بچوں کی پرورش کے مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
طلاق کے بعد اگر بچہ ماں کےپاس پرورش کے سلسلے میں ہوتو کیا بچے کی ماں اوراس کےدیگر رشتہ داربھائی وغیرہ باپ کو بچہ کی ملاقات سےمنع کر سکتے ہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں بچے کو والد سےدور رکھنا اورملنے نہ دیناشرعاً بچے اور اس کے والد دونوں کے ساتھ ظلم ہوگااورقطعِ رحمی ہوگی،اورپاکستان میں اس ظلم کوروکنے کےلیےباقاعدہ ایک قانون بنام "گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890ء"بھی موجودہےجس کے تحت طلاق کےبعدوالدکو بچوں سےملنے کےلیے کچھ وقت دیاجاتاہے،لہذا والدہ اوراس کے دیگر رشتہ داروں کا بچے کو اس کے والدکی ملاقات سےروکناشرعاًوقانوناً دونوں طرح غلط ہوگا ،لہذا ایسا کرناجائزنہیں ۔
حوالہ جات
وفی الھدایة:
(وإذا أرادت المطلقة أن تخرج بولدها من المصر فليس لها ذلك) لما فيه من الإضرار بالأب."(هداية، 2/436
وفی سنن أبى داود - (2 / 60)
حدثنا مسدد حدثنا سفيان عن الزهرى عن محمد بن جبير بن مطعم عن أبيه يبلغ به النبى -صلى الله عليه
وسلم- قال « لا يدخل الجنة قاطع رحم ».
الفتاوى الهندية (1/ 543)
الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده كذا في التتارخانية ناقلا عن الحاوي.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
20/10/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


