03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پرورش کے دوران بچے کواپنے والدکی ملاقات سےروکنا
80108طلاق کے احکامبچوں کی پرورش کے مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ

  طلاق کے بعد اگر بچہ ماں کےپاس  پرورش کے سلسلے میں ہوتو کیا بچے کی ماں اوراس کےدیگر رشتہ داربھائی وغیرہ باپ کو بچہ کی ملاقات سےمنع کر سکتے  ہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  صورتِ مسئولہ میں بچے کو والد سےدور رکھنا اورملنے نہ دیناشرعاً بچے اور اس کے والد دونوں کے ساتھ ظلم ہوگااورقطعِ رحمی ہوگی،اورپاکستان میں اس ظلم کوروکنے کےلیےباقاعدہ ایک قانون بنام "گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890ء"بھی موجودہےجس کے تحت طلاق  کےبعدوالدکو بچوں سےملنے کےلیے کچھ وقت دیاجاتاہے،لہذا والدہ اوراس کے دیگر رشتہ داروں کا بچے کو اس کے والدکی ملاقات سےروکناشرعاًوقانوناً  دونوں طرح  غلط ہوگا ،لہذا ایسا کرناجائزنہیں ۔

حوالہ جات

  وفی الھدایة:

(وإذا أرادت المطلقة أن تخرج بولدها من المصر فليس لها ذلك) لما فيه من الإضرار بالأب."(هداية، 2/436

وفی سنن أبى داود - (2 / 60)

حدثنا مسدد حدثنا سفيان عن الزهرى عن محمد بن جبير بن مطعم عن أبيه يبلغ به النبى -صلى الله عليه

وسلم- قال « لا يدخل الجنة قاطع رحم ».

الفتاوى الهندية (1/ 543)

الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده كذا في التتارخانية ناقلا عن الحاوي.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

  20/10/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب