03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عورت طلاق کی عدت کہاں گزارے گی اوراس کا خرچہ کس پر ہوگا ؟
80107طلاق کے احکامعدت کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ

میری بیوی کو تین طلاق ہوچکی ہیں ،پوچھنا اب یہ ہے کہ وہ عدت کہاں پوری کرے گی ،اوراس کے عدت کا خرچہ کس پر ہوگا ؟ وہ عورت فی الحال ساراسامان لیکر اپنے بھائیوں کے پاس چلی گئی ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طلاق کے بعدعورت پر عدت شوہر کے گھر میں گزارنا لازم ہےاور عدت  کا خرچہ شوہر پر ہوگا،تاہم اگر مطلقہ عدت کسی معتبر عذر سے اپنے والدین کے یہاں گزارے یا عدت گزرنے کے بعد اپنے والدین  کے یہاں جائے  سابق شوہر  کیلئے مطلّقہ  بیوی کو روکنا جائز نہیں ہوگا،لیکن اگرمعتبرعذرکے بغیر وہ شوہرکی اجازت کے بغیراس کے گھر کے بجائے بھائیوں کے ہاں عدت گزارے گی توپھر  اس کا نفقہ شوہرپر واجب نہیں ہوگا۔    

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 279)

ولا يجوز للمطلقة الرجعية والمبتوتة الخروج من بيتها ليلا ولا نهارا والمتوفى عنها زوجها تخرج نهارا وبعض الليل ولا تبيت في غير منزلها " أما المطلقة فلقوله تعالى: {لا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [الطلاق: 1] قيل الفاحشة نفس الخروج وقيل الزنا ويخرجن لإقامة الحد.

الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 279)

" وعلى المعتدة أن تعتد في المنزل الذي يضاف إليها بالسكنى حال وقوع الفرقة والمو ت" لقوله تعالى {لا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ}

وفی الترمذی (رقم الحدیث1189)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ قَالَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا عَلَی عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا سُکْنَی لَکِ وَلَا نَفَقَةَ قَالَ مُغِيرَةُ فَذَکَرْتُهُ لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ قَالَ عُمَرُ لَا نَدَعُ کِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ لَا نَدْرِي أَحَفِظَتْ أَمْ نَسِيَتْ وَکَانَ عُمَرُ يَجْعَلُ لَهَا السُّکْنَی وَالنَّفَقَةَ .

وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 609)

و) تجب (لمطلقة الرجعي والبائن، والفرقة بلا معصية كخيار عتق، وبلوغ وتفريق بعدم كفاءة النفقة والسكنى

والكسوة) إن طالت المدة.

وفی الھندیۃ (1/557طبع کویٹہ)

المعتدۃ من الطلاق تستحق النفقۃ والسکنی کان الطلاق رجعیااو بائنااوثلاثا، حاملا کانت  المراۃ او لم تکن،کذا فی فتاوی قاضیخان.

البحر الرائق - (ج 9 / ص 80)

إن وجد الاحتباس في بيت العدة وجبت وإلا فلا.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

  20/10/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب