03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عید کے دنوں میں طالب علم کو ملنے والے سکالرشب کی وجہ سے نصاب پورا ہوتو قربانی واجب ہوگی؟
80208قربانی کا بیانقربانی کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

اگرطالب علم کو عید الفطرکے وقت اسکالرشپ کے پیسے ملے جن سے وہ اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرےگا،لیکن عید الاضحی تک اس کے پاس اتنی مالیت ہے کہ جونصاب کو پہنچے تو کیا اس پر قربانی واجب ہوگی یانہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

    اگرتعلیمی اوردیگرضروری واجب الاداء اخراجات منہاکرنے کے بعد اتنی رقم اس کے پاس بچ جاتی ہے ہے کہ جس سے وہ مستقل جانوریا بڑے جانورمیں ایک حصہ لینے کی صورت میں قربانی کرسکے تو پھر قربانی  لازم ہوگی ورنہ نہیں ۔

حوالہ جات

وإذا کان تقدیر النصاب من أموال التجارۃ بقیمتہا من الذہب والفضۃ وہو أن تبلغ قیمتہا مقدار نصاب من الذہب والفضۃ فلا بد من التقویم حتی یعرف مقدار النصاب ثم بماذا تقوم ؟ ذکر القدوری فی شرحہ مختصر الکرخی أنہٗ یقوم بأوفی القیمتین من الدراہم والدنانیر حتی إنہا إذا بلغت بالتقویم بالدراہم نصابًا ولم تبلغ بالدنانیر قومت بما تبلغ بہ النصاب وکذا روی عن أبی حنیفۃ فی الأمالی أنہٗ یقومہا بأنفع النقدین للفقراء  ومشایخنا حملوا روایۃ کتاب الزکاۃ علی ما إذا کان لا یتفاوت النفع فی حق الفقراء بالتقویم بأیہما کان جمعًا بین الروایتین وکیفما کان ینبغی أن یقوم بأدنٰی ما ینطلق علیہ اسم الدراہم أو الدنانیر وہی التی یکون الغالب فیہا الذہب والفضۃ ، وعلٰی ہٰذا إذا کان مع عروض التجارۃ ذہب وفضۃ فإنہٗ یضمہا إلی العروض ویقومہ جملۃ۔ (بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع، کتاب الزکاۃ، ج: ۲،ص:۱۹ ، ط:دارالکتاب العربی، بیروت)

واعتبار الأنفع مذہب أبی حنیفۃ ومعناہ یقوم بما یبلغ نصابًا إن کان یبلغ بأحدہما ولا یبلغ بالآخر احتیاطًا لحق الفقرائ۔ (تبیین الحقائق ، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال ، ج: ۲، ص:۷۷-۷۸،  ط:سعید)

 (وبہٖ )أی بہذا النصاب (تحرم الصدقۃ ) کما مر وتجب الأضحیۃ ونفقۃ المحارم علی الراجح وفی الرد: قولہٗ (تحرم الصدقۃ )أی الواجبۃ أما النافلۃ فإنما یحرم علیہ سؤالہا وإذا کان النصاب المذکور مستغرقًا بحاجتہٖ فلا تحرم علیہ الصدقۃ ولا یجب بہٖ ما بعدہا قولہٗ (کما مر ) أی فی قولہٖ أیضا وغنی قولہ ( ونفقۃ المحارم ) أی الفقراء العاجزین عن الکسب أو الإناث إذا کن فقیرات وقید بہم لإخراج الأبوین الفقیرین فإن المختار أن یدخلہما فی نفقتہٖ إذا کان کسوبا۔(الدر المختار مع رد المحتار ، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج:۲، ص:۳۶۰، ط: سعید)

.حکیم شاہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

06/11/1444

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب