03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زبردستی خالی طلاق نامہ پر دستخظ لینے کاحکم
80192طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

      میں نے اپنے کزن سے نکاح کیا،میری بیوی کے گھر والے راضی نہیں تھے اورنہ ہی شادی میں شامل ہوئے،چاردن میری بیوی میرے پاس رہی پھر اس کے گھر والے میرے بھائیوں کے پاس آئے اورکہاکہ آپ ہمیں لڑکی واپس کردیں ہم  15دن کے اندرعزت سے رخصتی دیدینگے،میری بیوی کے والد نے مجھے کہا کہ  تم میری عزت رکھو،میں  صلح کے ساتھ تمہیں رخصتی دیتاہوں ، میں نے اپنی بیوی ان کے حوالے کردی کہ وہ رخصتی  دیں گےلیکن وہ میری بیوی کولیکر دھمکیاں دینے لگ گئے،اورکہنے لگے کہ ہمیں صرف طلاق چاہیے، میں نے کہاکہ میں طلاق نہیں دوں گا اورمیری بیوی بھی طلاق لینا نہیں چاہتی تھی،روزانہ ان کی دھمکیاں بڑھ گئیں،میرا ایک بہنوئی ہے یعنی میری بہن کا شوہروہ میرے بیوی کا ماموں بھی  ہے وہ کہنے لگاکہ تم طلاق نہیں دوں گے تو میں تمہاری بہن کو طلاق دیدونگا  اورہم تمہیں جان سے ماردینگے ،میرے بھائیوں  کو اس کی وجہ کافی خوف ہوا اورزیادہ پریشرکی وجہ سے وہ ڈرگئے، نہ میری نیت طلاق کی تھی اورنہ ہی میں نے تسلیم کیاکہ میں نے طلاق دی ہے ،یہ لوگ میرے بھائی کے پاس آئے اوران کے کہنے پر بھائی نے عدالت سےمیرے نام کا اسٹام نکلوایااورخالی اسٹام پیپر پر مجھ سے انگوٹھالگوایا اورسائن کروائے،اسٹام پیپراس وقت بالکل خالی تھا اس پر کوئی لکھائی نہیں تھی،اپنی مرضی سے جاکرانہوں نےاس پر لکھا،میں نے نہ اسے دیکھاہے اورنہ ہی لکھاہےاس وقت وقت اسٹام پیپرخالی تھا،انہوں نے کہاکہ دستخظ کرو ورنہ تو ہم تمہاری بہن کو طلاق دیدیں گے اورتمہیں اورتمہارے گھر والوں کو جان سے ماردیں گے،آپ مجھے فتوی دیں کہ ان حالات میں میری طلاق ہوئی ہے یانہیں ؟میری بیوی اب بھی میرے حق میں ہے اورمیرے پاس آنا چاہتی ہےم رجوع کرناچاہتی ہے،مفتی صاحب نہ میں نے منہ سے طلاق دی تھی  اورنہ ہی دینا چاہتاتھا،صرف زبردستی دھمکیاں دیکرلکھواگئےہیں،میری بیوی  اورمیراآمنا سامنانہیں ہوا اورنہ ہی میں نے منہ سے طلاق دی ہے اورنہ دینا چاہتاتھا۔

   واضح رہے کہ زبردستی کی نوعیت یہ تھی کہ انہوں نے مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی کہ ٹکڑے ٹکڑے کردیں گے اورآپ کی ساری نسل کو قتل کرکے صفحہ ہستی سے مٹادیں گے اورآپ کی بھائیوں کی ساری بیٹیاں اٹھاکر لے جائیں گے، اگردستخط نہیں کیا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

       مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال کے مطابق جواب دیتا ہے، سوال میں سچ اورجھوٹ  کی ذمہ داری سائل پر ہوتی ہے، غلط بیانی کرکے اپنے مطلب کا فتویٰ حاصل کرنے سے حرام ، حلال نہیں ہوتا اور نہ حلال ، حرام ہوتا ہے بلکہ حرام بدستور حرام اور حلال بدستور حلال ہی رہتا ہے، اگر کوئی غلط بیانی کے ذریعہ فتویٰ حاصل کرے گا تو اس کا وبال اسی پر ہوگا۔ 

پہلے یہ سمجھیں کہ والدین اور  خاندان سے چھپ کر شادی کرنا شرعاً، عرفاً  اور اخلاقاً نہایت نامناسب عمل ہے جس سے گریز کرنا چاہیے،محبت کی ایسی شادی بالعموم زیادہ دیرنہیں چلتی ،جبکہ خاندانوں اور رشتوں کی جانچ پڑتال کا تجربہ رکھنے والے والدین اور خاندان کے بزرگوں کے کرائے ہوئے رشتے زیادہ پائے دار ثابت ہوتے ہیں اور بالعموم شریف گھرانوں کا یہی طریقہ کارہے۔ والدین کو بھی چاہیے کہ اولاد کی رائے کا احترام کریں اور ایسا رویہ ہرگز  اختیار نہ کریں کہ جس کی وجہ سے اولاد کوئی ایسا قدم اٹھانے پر مجبور ہوجائے جو سب کے لیے رسوائی کا باعث ہو۔لہٰذا سائل کو چاہیے تھاکہ  وہ خفیہ طور پر نکاح نہ کرتا، بلکہ خاندان کے بزرگوں کے توسط سے رشتے کی بات کرتا، اور مذکورہ لڑکی کو بھی چاہیےتھا کہ وہ خفیہ رابطہ رکھنے کے بجائے اپنی والدہ یا خاندان کی کسی نیک سمجھ دار خاتون کے ذریعے والدین کو رشتے پر آمادہ کرتی۔

   بہرحال اگرنکاحِ مذکور دو مسلمان گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب وقبول کرکے ہوا ہے اورکفؤ (برابری رکھنے والے والے خاندان)کے لڑکے سے ہواہے تو یہ نکاح ہوگیا ہے ،اگرچہ ایساچھپ چھپاکرنکاح کرناشرعاً برا ہے ۔لہذا اس کے بعد لڑکی والوں کا طلاق کا مطالبہ کرنا درست نہیں، ہاں مذکورہ نکاح جو ولی کی اجازت کے بغیر ہواہےاگرغیر کفو  میں ہوا ہوتو پھر راجح قول کے مطابق یہ نکاح  منعقدہی  نہیں ہوا۔

                  اس تمہید کے بعداب آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگرمذکورہ نکاح کفؤ  میں ہوا تھا  اورذکر کردہ صورتِ حال واقعہ کے مطابق اور درست ہے کہ  سائل کے سسرال والوں نے اس سےخالی کاغذ پر دستخط لیے، اور سائل نے ذہنی دباؤ اور پریشانی میں اس پر دستخط کیے، اورنہ اس وقت اور  نہ  ہی بعد میں سائل نے  زبان سے طلاق کے الفاظ کہے اور نہ کاغذ پر طلاق کے الفاظ لکھے اور نہ ہی سسرال والوں کو طلاق کے الفاظ لکھنے کا کہا یا اختیار دیا،   بعد ازاں اس کاغذ  پر سائل کے سسرال والوں نے ازخود طلاق کا مذکورہ مضمون لکھا،اورسائل اس تحریر  کا اقرار  بھی نہیں کرتا تو ایسی صورت میں سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، دونوں کا نکاح بدستور قائم ہے۔ 

سادہ کاغذ پر دستخط کروانے کا کوئی اعتبار نہیں ؛ بلکہ تحریر کے بعد دستخط کا اعتبار ہوتا ہے اور سادہ کاغذ پر دستخط کرا لینا اور لینے والے کا اپنی مرضی کے مطابق اس پر لکھنا اس آیت کریمہ کے مقصد کے خلاف ہے۔فَلْیَکْتُبْ وَلْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْہِ الْحَقُّ۔

حوالہ جات

’’عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم:  أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ، وَاجْعَلُوهُ فِي الْمَسَاجِدِ ...‘‘ الحديث.(سنن الترمذي، باب ما جاء في إعلان النكاح)

وفی سنن ابن ماجة :

ايما امراة نکحت نفسها بغير اذن وليها فنکاحها باطل فنکاحها باطل فنکاحها باطل.

قال اللہ تعالی:

وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْ ھُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَجَھُن [البقرة: 232]

وقال رسول اللہ ﷺ

لا تُنْکَحُ الْأَیِّمُ حَتَّی تُسْتَاْمَرَ وَلَا تُنْکَحُ الْبِکْرُ حَتَّی تُسْتَأْذَنَ قَالُوا یَارَسُولَ اللَّہِ وَکَیْفَ اِذْنُھَا قَالَ أَنْ تُسْکُتَ( صحيح البخاري کتاب النکاح  7/ 17ط الشاملۃ)

وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 55)

(فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا.

 وفی الشامیة:

" طلب أولياؤها طلاقها، فقال الزوج لأبيها: ما تريد مني؟ افعل ما تريد! وخرج فطلقها أبوها لم تطلق إن

لم يرد الزوج التفويض؛ فالقول له فيه، خلاصة.(قوله: ما تريد مني) استفهام، وقوله: افعل ما تريد أمر (قوله:لم تطلق إلخ) أي؛ لأنه وإن كان في مذاكرة الطلاق لكنه لا يتعين تفويضاً؛ لاحتمال التهكم أي افعل إن قدرت، تأمل" . (3/330، باب الامر بالید، کتاب الطلاق، ط: سعید)

وفیہ ایضاً:

"وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه" .

وفی المحيط البرهاني:

وإن لم تقم عليه بينة بالكتاب ولم يقر أنه كتابه ولكنه وصف الأمر على وجهه، فإنه لا يلزمه الطلاق في القضاء ولا فيما بينه وبين الله تعالى، وكذلك كل كتاب لا يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع به الطلاق إذا لم يقر أنه كتابه.(المحيط البرهاني،باب الخلع،ج3ص429)

 ( فإن اختلفا في وجود الشرط ) أي ثبوته ليعم العدمي ( فالقول له مع اليمين ) لإنكاره الطلاق۔(الدر المختار،ج3ص356)

بدائع الصنائع، دارالكتب العلمية (2/ 317)

وأما الثاني فالنكاح الذي الكفاءة فيه شرط لزومه هو إنكاح المرأة نفسها من غير رضا الأولياء لا يلزم حتى لو زوجت نفسها من غير كفء من غير رضا الأولياء لا يلزم. وللأولياء حق الاعتراض؛ لأن في الكفاءة حقا للأولياء؛ لأنهم ينتفعون بذلك ألا ترى أنهم يتفاخرون بعلو نسب الختن، ويتعيرون بدناءة نسبه، فيتضررون بذلك، فكان لهم أن يدفعوا الضرر عن أنفسهم بالاعتراض.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (3/ 264)

وقيدنا بكونه على النطق لأنه لو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا كذا في الخانية، وفي البزازية أكره على طلاقها فكتب فلانة بنت فلان طالق لم يقع اهـ.

وفی مسندالإمام أحمدرحمہ اللہ تعالی :

قال النبي الكريم صلى الله عليه وآله وسلمليس منا من خبب امرأة على زوجها أو عبداً على سيدهرواه الإمام أحمد وأبو داود وصححه السيوطي.

 سیدحکیم شاہ عفی عنہ

 دارالافتاء جامعۃ الرشید

    ۲/١١/١۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب