03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مجبوری میں طلاق نامہ پر دستخط کرنا
80179طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

 میرا نام عمرفاروق ہے اور میں لاہور کا رہنے والا ہوں،میں جبراً طلاق کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں  میں ایک گورنمنٹ ملازم ہوں اور کنٹریکٹ پر ہوں اور ابھی ریگولرنہیں ہوا ہوں، لیکن میں نے اس وقت عدالت میں اپنے ریگولر ہونے کے لیے درخواست دائر کی ہوئی ہے اور میرے ساتھ دو لوگ اوربھی ہیں ۔  مسئلہ یہ ہے کہ جب میرا رشتہ طے ہور ہا تھا اور میرے سسر اور ساس جب مجھے دیکھنے کے لیے آئے تو میں نے ان کو بتایا کہ میں ایک مستقل ملازم ہوں جس کی بناء پر میرارشتہ طے ہوا اور پھر 2022-10-29 کو شادی ہوئی اور پھر جنوری میں میری بیگم کومیری امی سے پتہ چلا کے میرے بیٹے نے ریگولرہونےکے لیے عدالت میں کیس کیا ہوا ہے اور ان کی سیلری بھی کچھ ماہ کے بعد آتی ہےپھر میری بیوی نے اس بات کا مجھ سے تذکرہ کیا اورمعلومات لی، میں نے اس کو سب کچھ سچ سچ بتا دیا، وہ کچھ دن مجھے کہتی رہی کے پارٹ ٹائم کام کرلو،ہم کیسے اپنا گھر چلائیں گے؟ کیسے اپنے بچے کا خرچہ پوراکریں گے؟ میری بیوی اس وقت تقریباً تین ماہ کی حاملہ تھی ،میں اس وقت واپڈا کے ہیڈ آفس کالونی میں رہتا ہوں جو کہ میرے بھائی کے نام ہے  اور والد صاحب بھی واپڈا سے ہی ریٹائر ہیں،میں صبح نو بجے جانے کے بعد شام چھ بجے گھر آتا ہوں، اس لیے اس وقت کے بعدمیرے لیے پارٹ ٹائم کام کرنا مشکل ہور ہا تھا، لیکن میں نے اس کو یقین دلا یا کہ انشاء اللہ میں کام کرلوں گا، آپ بے فکر ہوجاؤ، سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، لیکن کچھ دنوں کے بعد جب وہ اپنے گھر گئی تو اس نے یہ بات اپنے ماں باپ کو بتائی ،معلوم نہیں کیاکیا اپنے ماں باپ کو میرے بارے میں بتایا، میرے کام کے بارے میں بتایا پھر میری بیگم نے مجھے میسج کر کے بتایا کہ میں نے اپنے گھر میں آپ کے کام کے بارے میں سب کچھ بتا دیا ہے آپ آ جائیں تو آرام سے بات ہو جائے گی ورنہ پھر میرے سارے خاندان والے فیصلہ کرنے ہی آئیں گے، میں گھبرا گیا کہ اب کیا ہوگا؟ اس لیے میں ان کے گھر نہیں گیا جب ان کے گھر والےآ ئیں تو انہوں نے میرے والد صاحب کو کچھ بحث کرنے کے بعد کہا کہ ہم آپ کو دو ماہ کا وقت دیتے ہیں کہ لڑ کا کچھ کام کر کے دیکھائے، جب تک اس کی سیلری ریگولرنہیں ہوتی ہم لڑکی کو ساتھ لیکرجاتےہیں،اوراپنی بیٹی کو لیکرچلے گئیں،میں گھبرایا ہوا تھا کہ میرے ساتھ اچانک یہ کیا ہور ہا ہے ؟ پھر میں اگلے دن ان کے گھر گیا اورلڑکی کے والد اور لڑکی سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ کچھ کر کے دیکھاؤ،کچھ گارنٹی دوتو پھر میں واپس آ جاؤ نگی اور میری بیوی نے مجھے خود کہا کہ میں آپ کو چھ ماہ کا وقت دیتی ہوں  اگر کچھ کرلیا تو ٹھیک ور نہ میں پھر کچھ سخت فیصلہ لینے کا حق رکھتی ہوں اور اس نے مجھے یہ بھی کہا کہ  2023-02-14 سے آپ کےچھ ماہ کا وقت شروع ہورہا ہے ۔پھر ایک ہفتے یادو ہفتے کے بعد لڑکی کے والدین اوران کے ساتھ ان کے ایک دو بڑے لوگ ہمارے گھر آئیں اورکہاکہ ہم پرانی با تیں نہیں کرنا چاہتےہیں بس آپ ہمیں اگرلڑکے کی گارنٹی دیدیں توہم لڑکی کو چھوڑ جاتے ہیں، میرے والد صاحب نے کہا کہ میں اپنے لڑکے کی کیا گارنٹی دے سکتا ہوں،؟ وہ بالغ ہے اورسمجھ دار ہے خودکر لے گا اور نوکری کر تو رہا ہے ،ریگولربھی ہو جائے گا، لیکن کچھ بحث کےبعد پھرلڑکی کے والد نے چھ ماہ کا ٹائم دیا اوریہ کہہ کے چلے گئے کہ اپنا گھر بنالوتو پھر میں دیکھوں گا  کہ لڑکی کوبھیجوں یا نہ بھیجوں،اس سارے وقت کے دوران جب میری بیوی سسرال میں تھی میں ایک دو مرتبہ ان کے گھر اس سےملنے گیا ہوں، لڑکی کے باپ نے میرے سامنے اس کو کہا کہ مجھے تیرا مستقیل اس لڑکے کے ساتھ ٹھیک نہیں لگتا  آگے تو سوچ لیں، یہ الفاظ ذہنی طور پر میرے لیے برداشت کر نا بہت ہی مشکل تھے،لیکن اس سارے وقت کے دوران میری اپنی بیگم سے بات ہوتی رہی اور وہ مجھے کہتی تھی کہ میں نے الگ ہی رہنا ہے،آپ کی ماں مجھے جھوٹ بول کر شادی کر کے لائی ہیں ، بس اس کے یہی الفاظ ہوتے تھے  کہ جھوٹ بولا ہے، جھوٹ بولا ہے ۔ لیکن جب وہ2023-03-05 کو اپنا سامان لینے کے لیے آئے جو کہ قریب قریب آٹھ سے دس بندے تھے اور کچھ خواتین بھی تھیں تو ان کے ماموں نےآتے ہی کہا کہ آپ ہماری بیٹی کو طلاق دے دو یا پھر ہم کورٹ جائیں گے تو میں نے ان کو کہا کہ ٹھیک ہے آپ کورٹ چلے جائیں، میں طلاق نہیں دوں گا،اس وقت گھر میں صرف میری امی، ابو اورمیں خود تھالیکن میں نے پھر فون کر کے اپنی خالہ کو بلالیا اور ایک دو گھنٹے بعد میرے خالو بھی آگئے ،اس دوران انہوں نے اپنا سارا سامان اٹھالیا تھا،میرے رشتہ داروں نے بھی معاملہ ٹھیک کرنے کی کوشش کی،مگر بے سود ،اس دوران انہوں نے مجھ سے میرے شناختی کارڈ کی کاپی مانگی کہ ہم ایک سٹام پیپر بنائیں گے جو ہم آپ کے گھر سے اپنی لڑکی کا سامان لے کر جار ہے ہیں اس کے بارے میں تا کہ بعد میں اس کے اوپر کوئی بھی مسئلہ نہ ہوتو میں نے اپنی شناختی کارڈ کی کاپی دیدی اور کچھ دیر کے بعد لڑکی کے والد نے مجھ سے میرا اصلی شناختی کارڈبھی مانگا جس کی انہوں نے موبائل سے تصاویر بنا کرآ گے بھیج دی لیکن مجھے نہیں پتہ تھاکہ کس مقصد کے لیے بھیجی، بہرحال انہوں نے طلاق نامہ بنوایا اوریہ میری مرضی سے نہیں تھا، میرے شناختی کارڈ کاانہوں نے غلط استعمال کیا،جب وہ سارا سامان اٹھا چکے تو میری امی نے کہا کے سارا سامان آپ لوگوں نے اٹھالیا ہے تو پھر ہمارا زیوربھی دیدو کیونکہ میری شادی غیروں میں ہوئی ہے،اس لیے ہم نے اپنا زیور کا تقاضہ کیا تو انہوں نے کہا کہ دے دیتے ہیں، ان کی کچھ چیزیں ہمارے پاس تھیں ہم نے کہا کہ زیور واپس کریں گے تو یہ چیزیں آپ لے جاسکیں گے، انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو زیور چاہیے تو لڑ کا طلاق کے کاغذات پر دستخط کر دے تب ہم آپ کو آپ کا زیور دیدیں گے، میرے والد صاحب نے مسجد سے مولوی صاحب کو بلالیا کہ یہ مسئلہ چل رہا ہے،انہوں لڑکی والوں کو کچھ سمجھایا اور ان کو احادیث کا حوال بھی دیا کہ اگرلڑ کے کے مالی حالات ٹھیک نہیں تو اسلام لڑکے کو اپنے مالی حالات ٹھیک کرنے کےلیے ایک سال کا وقت دیتا ہے،لیکن لڑکی کا باپ یہ بات ماننے کو تیارہی نہیں تھا اور کہتا تھا کہ میں نے تو طلاق ہی لینی ہے، اگر یہ طلاق نامہ پر دستخط نہیں کرے گا تو میں اس کو عدالت میں لے کر جاؤنگا اوراس کی ناک کی لکیریں نکلواؤں گا  ادران کے ساتھ اس وقت دوسرے دو اور لوگ بھی تھے جو کہ لڑکی کے تایا زاد بھائی تھےجو مجھے کہہ رہے تھے کہ ہم آرمی میں ہیں ،تمہیں دیکھ لیں گے،جب کہ لڑکی کا تایا کہہ رہے تھے کہ لڑ کے کو دوماہ کا وقت دیتے ہیں لیکن لڑکی کے والد نے مجھے وقت نہیں دیا، اس وقت میری حالت بہت خراب تھی میں ذہنی طور پر ان لوگوں کی باتوں سے بہت پریشان تھا اور ہمارا محلے میں ایک تماشا لگا ہواتھا،تیسری مرتبہ میں نے اور میرے والد صاحب نے ان کو بلالیا اور میرے والد نے کہا کردو دستخط  بیٹا روز روز کے تماشے سے تو  یہ بہتر ہے جبکہ میں اس کام کے لیے دل سے راضی نہ تھا اور نہ ہی دستخط کرنا چاہتا تھا لیکن میں نے روز روز کی ذہنی پر یشانی سے بچنے کے لیے اور تاکہ اپنے گھروالوں کا محلے والوں کے سامنے تماشہ نہ بنے دستخط کر دیے،میں نے اس طلاق نامہ کو پڑھا نہیں تھا،کیونکہ میرے لیے اس وقت اس کو پڑھنا بہت مشکل عمل تھا، میں نے مولوی صاحب کو کہا کہ آپ اس کو ایک مرتبہ پڑھ کر دیکھ لیں انہوں نے ایک دو لفظوں کی غلطیاں  نکالی تو میں سے ان سے کہا کہ اس کو ٹھیک کرواکر لے آؤ ،میرا مقصد دستخط نہیں کرناتھا،لیکن پھر لڑکی والے کہنے لگ جاتے تھے کہ ہم کورٹ جائیں گے، پھر مولوی صاحب نے پڑھ کرسنایا لیکن اس وقت میں ایسی حالت میں تھاکہ میرے لیے سننابھی مشکل ہو رہاتھا  دستخط کرتے وقت میری بیوی حاملہ تھی،مولوی صاحب نے لڑکی کے والد کو کہاکہ میری لڑکی سے بات کرواؤ، لیکن انہوں نے لڑکی سے بات نہیں کروائی،مولوی صاحب نے کہا کے ایک وقت میں تین طلاقیں اسلام میں نہیں دی جاسکتی لیکن وہ کہتے تھے کہ جو بھی گناہ ہو گا میرے سر پر ہوگا،مفتی صاحب میں نے لڑکی کو زبان سے طلاق نہیں دی تھی، کیونکہ وہ اس وقت میرےسامنے موجود نہ تھی اور نہ ہی میں اس کو طلاق دینا چاہتا تھا اور نہ ہی طلاق دینے کی غرض سے دستخط کیے تھے۔ میں نے اس حوالے سےایک فتوی بھی لیا ہے آپ اس کو بھی دیکھ لیں اور اپنی رائے بھی اس معاملے کے بارےمیں لکھ کر مجھے بھیج دیں کہ آیا کہ طلاق ہوگئی یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ شرعی اکراہ تحقق کےلیےشوہرکومارنے پیٹنےیاجان سےمارنے یاکم ازکم اتنی بات کی دھمکی دیناضروری ہے کہ جس کی وجہ سےاس پر اتنا پر یشرآئےکہ جس کی وجہ سے  اس کی رضاءفوت ہوجائےاوریہ بات مختلف لوگوں میں  مختلف ہوتاہےکسی کی رضاءکم دباؤ سے بھی ختم جاتی ہے جیسےکہ وہ کوئی خاندانی اور شریف النفس شخص ہو اورکسی کی رضاء زیادہ پریشرسے بھی ختم نہیں ہوتی جیسےکہ عادی مجرم،لہذا  اکراہ کا تحقق ہرایک کے حق میں مختلف طریقوں سے ہوتاہے، اس کے لیے ایک پیمانہ مقررنہیں کیاجاسکتا۔

مسئولہ صورت میں سسرال والوں کی کورٹ میں مسئلہ لیجانے کیوجہ سے عمرفاروق کو اس قسم کی کوئی مالی یا جسمانی تکلیف پہنچنے کا اندیشہ نہیں تھا،صرف یہ تھاکہ کورٹ بیوی کو اس سے علیحدہ کردے گی اوریہ کوئی شرعی اکراہ نہیں ہے،لہذا مسئولہ صورت میں شرعی اکراہ متحقق  نہ ہونے کی وجہ سے تین طلاق  واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،لہذ بحالاتِ موجود نہ رجوع ہوسکتاہے اورنہ  ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر نکاح ۔

واضح رہے کہ جہاں عمرفاروق کےلیے سسرال والوں کے سامنےجھوٹ بولنا اوریہ کہنا کہ میری نوکری ریگولرہے جائز نہیں تھا، کبیرہ گناہ تھا جس سے توبہ استغفاراورآئندہ کےلیے اجتناب عمرفاروق پر لازم ہے وہی عمرفاروق کےسسرال والوں کا بھی بلاکسی معقول شرعی وجہ کےعمرفاروق پربیوی کو طلاق دینےکے حوالے سے دباؤڈالنا اورمجبورکرنااورکورٹ کی دھمکیاں دیناشرعاًجائز نہیں تھا،کیونکہ ان کی بیٹی کو نان ونفقہ اورسکنی تو مہیاکیاگیاتھا اس کے وجودطلاق کا مطالبہ کرنا بڑے گناہ اورمعصیت کا کام تھا جس سے توبہ واستغفارکرنا اورآئندہ کے لئے اس طرح کے کاموں سے اجتناب کرنا ان پرشرعاً لازم ہے،مال ودولت اورنوکریاں آنے جانے والی والی چیزیں ہیں ان کی وجہ سے رشتے ناطے ٹورنا طلاقیں دلکھوانا اوربچی کا مستقبل داؤ ہرلگانا کوئی عقلمندی کی بات نہیں۔

حوالہ جات

"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع "(7/ 175):

"وأما بيان أنواع الإكراه فنقول: إنه نوعان: نوع يوجب الإلجاء والاضطرار طبعا كالقتل والقطع والضرب الذي يخاف فيه تلف النفس أو العضو قل الضرب أو كثر، ومنهم من قدره بعدد ضربات الحد، وأنه غير سديد؛ لأن المعول عليه تحقق الضرورة فإذا تحققت فلا معنى لصورة العدد، وهذا النوع يسمى إكراها تاما، ونوع لا يوجب الإلجاء والاضطرار وهو الحبس والقيد والضرب الذي لا يخاف منه التلف، وليس فيه تقدير لازم سوى أن يلحقه منه الاغتمام البين من هذه الأشياء أعني الحبس والقيد والضرب، وهذا النوع من الإكراه يسمى إكراها ناقصا".

"الدر المختار " (6/ 129):

"(وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه (و) الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ (و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال".

وفی المبسوط لشمس الدين السرخسي - (ج 18 / ص 95)

 ولا نص في التقديرهنا وأحوال الناس تختلف باختلاف تحمل أبدانهم للضرب وخلافه فلاطريق سوى رجوع المكره إلى غالب رأيه فان وقع في غالب رأيه أنه لاتتلف به نفسه ولا عضو من أعضائه لا يصير ملجأ وان خاف على نفسه التلف منه يصير ملجأ وان كان التهديد بعشرة أسواط.

"الدر المختار " (6/ 141):

وإن هددها بطلاق أو تزوج عليها أو تسر فليس بإكراه خانية وفي مجمع الفتاوى: منع امرأته المريضة عن المسير إلى أبويها إلا أن تهبه مهرها فوهبته بعض المهر فالهبة باطلة، لأنها كالمكره.

قال رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم

’’إِذَا کَذَبَ العَبْدُ تَبَاعَدَ عَنْہُ الْمَـلَکُ مِيْلًا مِنْ نَتْنِ مَا جَاءَ بِہٖ(سنن ترمذی :1972)

وفی مسندالإمام أحمدرحمہ اللہ تعالی

قال النبي الكريم صلى الله عليه وآله وسلمليس منا من خبب امرأة على زوجها أو عبداً على سيدهرواه الإمام أحمد وأبو داود وصححه السيوطي.

وفی مسند أحمد مخرجا (22/ 275)

عن جابر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن إبليس يضع عرشه على الماء، ثم يبعث سراياه، فأدناهم منه منزلة أعظمهم فتنة، يجيء أحدهم، فيقول: فعلت كذا وكذا، فيقول: ما صنعت شيئا، قال: ويجيء أحدهم، فيقول: ما تركته حتى فرقت بينه وبين أهله، قال: فيدنيه منه - أو قال: فيلتزمه - ويقول: نعم أنت أنت "، قال أبو معاوية مرة: فيدنيه منه.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

 دارالافتاء جامعۃ الرشید

28/شوال 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب