03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مرحومہ والدہ کے مکان کی باقی اقساط چھوٹے بیٹےنے اداکئے ہوں اوراس کی نیت کا علم نہ ہوتو اس کاحکم
80301وصیت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

 کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

مرحومہ قسمت بی بی نے آج سے تقریباً43سال پہلے گرین ٹاؤن لاہور کی سکیم میںLDAسے ایک کوارٹر قسطوں پر لیا،اورپھر محنت مزدوری کرکے مکان کی اقساط اداکرتی رہی، 10سال کی قسطیں ادا ہو چکنے کے بعد1990ءمیں قسمت بی بی کا انتقال ہوگیا، آگے کی 5سال کی قسطیں قسمت بی بی کےچھوٹے بیٹے جاوید غوری نے اداکی،آپ نے پچھلے فتوی میں لکھتاکہ

" معاملہ کرتے ہی مذکورہ کوارٹر قسمت بی بی کی ملکیت میں آگیا تھا لہذا ان کی موت کی صورت میں یہ کواٹر ان کے ترکہ میں شامل ہوکرتمام ورثہ میں شرعی حصوں کےحساب سے تقسیم ہوگا، جہاں تک باقی اقساط کی بات ہے تووہ  ان پرقرض تھے۔بیٹے جاوید غوری کی ادا کردہ اقساط کے حکم میں یہ تفصیل ہے کہ اگریہ اقساط اس نے اپنی رقم سے صرف تعاون کے طورپر اوراقرباءکی راحت رسانی کے لئےلگائی تھی اوراس کی نیت ادئیگی کے وقت واپس لینے کی نہیں  تھی تو یہ اس کا احسان تھااور  تقسیمِ ترکہ کے وقت یہ رقم اسے واپس نہیں دی جائے گی اورنہ ہی وہ خود  اس رقم کی واپسی کا مطالبہ کرسکتاہے اوراگریہ رقم اس نے قرضہ کی نیت سے لگائی  تھیں اوراب مطالبہ بھی کرتاہے توپھریہ اس کاقرض ہے جو تقسیم کے وقت واپس کیاجائے گااوراگروہ فوت ہوگیاہوتو اس کے ورثہ (بیوی،بچوں)کوواپس کیاجائےگا،اورمیراث  میں اس کا حصہ اس کے علاوہ ہوگا،لیکن اس رقم کی وجہ سے وہ پورے کواٹرکے مالک نہیں ہوئےبلکہ ان کوصرف اپنا شرعی حصہ ملے گا اورمذکورہ رقم ملے گی بشرطیکہ کہ یہ  رقم انہوں نےقرض کی نیت سے لگائی ہوورنہ صرف حصہ ملے گا ،رقم نہیں ملے گی "

مگرمسئلہ یہ ہےکہ

١۔ جاوید غوری صاحب کا انتقال ہوچکاہےاور اس بات کا پتا لگانا اب ناممکن ہے کہ انھوں نے پانچ سال کی بقیہ اقساط کی ادائیگی میں کیا نیت کی تھی،قرض کی نیت کی تھی یاتبرع کی،اسی نیت کی وجہ سے ہی مسئلے کی نوعیت تبدیل ہورہی ہے اوریہ معلوم نہیں،لہذا یہ نیت والا مسئلہ کیسے حل کیا جائےگا؟ تاکہ ورثہ کے درمیان اختلاف نہ ہو۔

۲۔ دوسرا یہ کہ بالفرض اگر جاوید غوری صاحب نے بقیہ اقساط کی ادائیگی میں نیت قرض کی تھی تو اب اگر ان کے ورثہ اس رقم کا مطالبہ کرتے ہوں تو وہ رقم کہاں سے نکالی جائے گی؟ کیا مکان کو بیچنے کے بعد پہلے یہ قرض ادا ہو گا پھر بقیہ رقم ورثہ میں تقسیم ہو گی؟

۳۔ تیسرامسئلہ یہ ہےکہ1990 سے 1995 تک کے جس زمانے میں یہ اقساط ادا کی گئی تھی، اس وقت کے روپے کی ویلیو اور آج کے روپے کی ویلیو میں زمین آسمان کا فرق ہے۔اس وقت یہ مکان 14900 روپے میں ملتا تھا جبکہ آج صرف پلاٹ کی ویلیو 70لاکھ کے قریب ہے۔ لہذا ورثہ کے مطالبے پر کیا پانچ سال کی اقساط میں جتنا پیسہ ادا کیاگیاتھا (تقریبا 4900 روپے) صرف وہی ادا کرنا ہوگا یا ان پیسوں کو آج کی کرنسی کی ویلیو کے حساب سے ادا کرنا ہو گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

١۔جب اورکوئی دلیل نہیں تو قرائن کو دیکھاجائےگااورہمارے عرف میں جوائنٹ فیملی میں تو بالعموم ایسا ہوتاہے کہ بڑا بیٹا یا کمانے والابیٹا ایسے مواقع پر بطورتعاون ادائیگی کرتاہے مگریہاں تو دونون بھائی والدہ کی حیات میں ہی الگ الگ تھے،لہذا یہ واضح قرینہ ہے کہ یہ ادائیگی جاویدغوری صاحب نےبطورتعاون نہیں کی بلکہ بطورقرض کی تھی، لہذا اس کو قرض شمارکرکےتقسیم ترکہ سے پہلے اس کی ادائیگی کی جائے۔اوراس کے بعد بقیہ ترکہ تقسیم کیاجائے۔

۲۔اس رقم کی ادائیگی مرحومہ قسمت بی بی کی مجموعی ترکہ سے کی جائے گی ،اگراس مکان سے ہٹ  کرمرحومہ کے ترکہ میں گنجائش ہوتو اس سے ادائیگی کی جائے اوراگرباقی ترکہ میں گنجائش نہ ہو یا ورثہ باہمی خوشی سے اسی مکان کی قیمت سے اس قرض کی ادائیگی کرناچاہتے ہوں توپھروہ ایسا بھی کرسکتے ہیں، مکان کو بیچ کر پہلے اس سے قرض کی ادائیگی ہوگی اورپھر باقی رقم ورثہ میں ان کے شرعی حصوں کے حساب سے تقسیم ہوگی ۔

۳۔ چونکہ یہ قرض ہے لہذا پانچ سال کی اقساط میں جتنا پیسہ ادا کیاگیاتھا صرف وہی ادا کرنا ہوگا،قیمت ڈی ویلیوں ہونے کی وجہ سےاس رقم کی موجودہ ویلیوں کو نہیں دیکھاجائے گا۔

حوالہ جات

یقول الیشخ مصطفیٰ الزرقاء:

" القرينة كل امارة ظاھرة تقارن شيئا خفيا فتدل عليه۔" (وسائل الاثبات ، ص :489)

قال اللہ تعالی :وَجاءو عَلىٰ قَميصِهِ بِدَمٍ كَذِبٍ(  یوسف، الآیة: 18)  قال القرطبي استدل العلمآء بھذه الاية في اعمال الامارات في مسائل الفقه الخ۔(وسائل الاثبات، ص:502)

عن ابي موسيٰ رضي الله عنه ان رجلين اختصما في دابة وليس لواحد منھما بينة فقضيٰ بھا رسو ل الله صلي الله عليه وآله وسلم بينھما نصفين (ابوداؤد ج2 ص278، سنن نسائی ص218)

اليد قرينة و علامة علي الملك وھٰذا يدل علي مشروعية القرينة (وسائل الاثبات ص:508)

و عملوا بالقرائن في السفينة المحملة بالدقيق اذا تنازع فيھا ملاح و تاجر دقيق فالسفينة للملاح والدقيق للتاجر۔( رد المحتار ج5 ص565)

وفى سنن النسائي (4 / 65):

’’ حدثنا يزيد بن أبي عبيد، قال: حدثنا سلمة يعني ابن الأكوع قال: أتي النبي صلى الله عليه وسلم بجنازة، فقالوا: يا نبي الله، صل عليها، قال: «هل ترك عليه ديناً؟» ، قالوا: نعم، قال: «هل ترك من شيء؟» قالوا: لا، قال: «صلوا على صاحبكم»، قال رجل من الأنصار يقال له: أبو قتادة: صل عليه وعلي دينه، فصلى عليه‘‘. 

وفی السراجی:

ثم تقضی دیونہ من جمیع مابقی من مالہ الخ (السراجی ص۴؍ط امدادیہ دیوبند،شامی زکریاص۴۹۵؍۱۰؍کتاب الفرائض)

وفى العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية( 1: 279، دار المعرفة):

رَجُلٍ اسْتَقْرَضَ مِنْ آخَرَ مَبْلَغًا مِنْ الدَّرَاهِمِ وَتَصَرَّفَ بِهَا ثُمَّ غَلَا سِعْرُهَا فَهَلْ عَلَيْهِ رَدُّ مِثْلِهَا؟ الْجَوَابُ: نَعَمْ وَلَا يُنْظَرُ إلَى غَلَاءِ الدَّرَاهِمِ وَرُخْصِهَا.

وفى ردالمحتار( 5: 162، بيروت)

وَإِنْ اسْتَقْرَضَ دَانِقَ فُلُوسٍ أَوْ نِصْفَ دِرْهَمِ فُلُوسٍ، ثُمَّ رَخُصَتْ أَوْ غَلَتْ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ إلَّا مِثْلُ عَدَدِ الَّذِي أَخَذَهُ، وَكَذَلِكَ لَوْ قَالَ أَقْرِضْنِي عَشَرَةَ دَرَاهِمَ غَلَّةٍ بِدِينَارٍ، فَأَعْطَاهُ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ فَعَلَيْهِ مِثْلُهَا، وَلَا يُنْظَرُ إلَى غَلَاءِ الدَّرَاهِمِ، وَلَا إلَى رُخْصِهَا.

 سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

 16/11/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب