| 80314 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
اگر کوئی شخص اپنی بہنوں کو والدکے ترکے میں سے حصے دینے کا انکاری ہو،اور منع کرتاہو کہ میں حصہ نہیں دے رہاہوں تو اس کا کیا حکم ہے؟وہ مسلمان ہے؟اس کی نمازجنازہ وغیرہ کاکیاحکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میراث میں سے بہنوں کو حصہ نہ دینا اور انہی محروم رکھنا گناہ کا کام اور ناجائز ہے۔تاہم اس وجہ سے وہ کافر نہیں بنتا، اس کی نماز جنازہ پڑھنا لازم ہے اورتدفین مسلمانوں کے قبرستان میں ہوگی۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں مختلف مقامات پر دوسروں کے مال کو ناحق کھانے سے سختی سے منع فرمایا ہے،میت کے انتقال کےبعد،اس کے ذمے قرض کی ادائیگی اورتہائی مال سے اس کی وصیت کے نفاذ کے بعد بچنے والا مال اس کے شرعی وارثوں کا حق بن جاتا ہے ،لہذا اگر کوئی وارث اپنے حق سے زیادہ لیتا ہےیا کسی وارث کو محروم کر دیتا ہےیا میراث کو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں سےہٹ کر تقسیم کرتاہے تو یہ تمام کام گناہ ہیں اور قرآنِ کریم میں ایسے لوگوں کو جہنم کی وعیدیں سنائی گئی ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
}إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا} [النساء: 9]
ترجمہ:"یقین رکھو کہ جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں،اور جلد ہی انہیں دہکتی ہوئی آ گ میں داخل ہونا ہو گا۔"
دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
}لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ} [البقرة: 188]
" آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقوں سے نہ کھاؤ۔"
تیسری جگہ ارشاد فرمایا:
}وَتَأْكُلُونَ التُّرَاثَ أَكْلًا لَمًّا } [الفجر: 19]
"اور میراث کا مال سمیٹ سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔"
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں میراث کے ذیلی احکام میں وارثوں کےحصوں کو جس تفصیل سے واضح طور پر بیان کیا
ہے اس تفصیل سے کسی اور حکم کے ذیلی احکام بہت کم بیان فرمائے ہیں ،اس سے میراث کو انہی مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کرنے کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
}لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا } [النساء: 7[
" مردوں کے لیےبھی اس مال میں حصہ ہے جووالدین اور قریب ترین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو،اورعورتوں کے لیےبھی اس مال میں حصہ ہے جووالدین اور قریب ترین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو،چاہے وہ (ترکہ) تھوڑا ہو یا زیادہ،یہ حصہ (اللہ تعالیٰ کی طرف سے )مقرر (اور فرض قرار کیا گیا)ہے۔"
یہ تنبیہ اس بنا پر فرمائی گئی ہے کہ کوئی شخص یہ سوچ سکتا تھا کہ اگر فلاں وارث کو اتنا حصہ ملتا تو اچھا ہوتا،یا فلاں کوکم ملنا مناسب تھا،اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ تمہیں مصلحت کا ٹھیک ٹھیک علم نہیں ہے،اللہ تعالیٰ نے جس کا جو حصہ مقرر فرمادیا ہے وہی مناسب ہے۔(آسان ترجمۂ قرآن:ص۱۸۸)
ابن ماجہ (2/902)میں حضر ت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
" عن انس قال: قال رسول اللہ ﷺ: من فر من میراث وارثہ قطع اللہ میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ۔ "
"حضوراقدس ﷺ نے فرمایا :جس نے کسی وارث کو اس کا حصہ میراث دینے سے راہ فرار اختیار کی ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنت سے اس کے حصے کو روکیں گے۔"
صحيح بخاري (3/ 129)میں حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
" عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من كانت له مظلمة لأخيه من عرضه أو شيء، فليتحلله منه اليوم، قبل أن لا يكون دينار ولا درهم، إن كان له عمل صالح أخذ منه بقدر مظلمته، وإن لم تكن له حسنات أخذ من سيئات صاحبه فحمل عليه»"
" جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کا کوئی حق رکھتا ہو،اوروہ حق خواہ کسی کی عزت ِنفس مجروح کرنے کا ہو یا کسی اور چیز سے متعلق ہو، اس کو چاہیے کہ اس حق کو آج ہی کے دن (یعنی دنیا میں )معاف کرا لے، اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس میں وہ نہ تو درہم رکھتا ہوگا نہ دینار ، اگر ظالم کے اعمال نامہ میں کچھ نیکیاں ہوں گی تو ان میں سے اس کے ظلم کے برابر یا واجب حق کے بقدر نیکیاں لے لی جائیں گی(اور مظلوم یا حقدار کو دےدی جائیں گی) اور اگر وہ کچھ نیکیاں نہیں رکھتا ہوگا تو اس صورت میں اس مظلوم یا حقدار کے گناہوں میں سے (اس کے حق کے بقدر) گناہ لے کر ظالم پر لا ددئیے جائیں گے۔"
اس لیے بھائیوں کے ذمہ لازم ہے کہ والد کے ترکے میں سے بہنوں کا جو حصہ بنتا ہے ،اسے بروقت اور مکمل طور پر اداکریں
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
15/ذیقعدہ1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


