03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تقسیم میراث سے پہلے اس سے استفادہ کا حکم
80404میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میراث کے پلاٹ سے ملنے والا کرایہ والد صاحب کی زندگی ہی سے والدہ کے استعمال میں تھا اور والد صاحب کے انتقال کے بعد بھی انہی کے استعمال میں رہا، کیا ایسا کرنا درست تھا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

والد صاحب کے انتقال کے وقت ہی ان کی تمام جائیداد ان کے ورثہ کی ملکیت میں چلی گئی ہے، لہذا اس سے ملنے والے کرایہ پر بھی ان کے تمام ورثہ کا حق ہے۔ البتہ اگر تمام ورثہ بالغ ہوں اور والدہ کے اس کرایہ کے استعمال پر راضی ہوں تو ان کا یہ کرایہ استعمال کرنا جائز ہے۔

حوالہ جات

الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 285)

 (قوله: ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بإذنه وكل واحد منهما في نصيب صاحبه كالأجنبي) لأن تصرف الإنسان في مال غيره لا يجوز إلا بإذن أو ولاية.

ولی الحسنین

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

23  ذو القعدہ 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ولی الحسنین بن سمیع الحسنین

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب