| 80391 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میٹرک اور انٹر یعنی کالج کے سالانہ امتحانات میں سکولوں کے اساتذہ کی ڈیوٹیاں لگتی ہیں، اساتذہ کو اپنے اسکول کے علاوہ کسی بھی دوسرے سکول میں ڈیوٹی کےلئے صوبائی امتحانی بورڈ کی طرف سے قرعہ اندازی کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے اور امتحان کے بعد صوبائی بورڈز باقاعدہ ڈیوٹی کا معاوضہ دیتے ہیں ۔ لیکن ان ڈیوٹی والے اساتذہ کو دوسرے اسکولز یا کالجز کی طرف سے چائے کھانا وغیرہ کا تکلف بھی کیا جاتا ہے، جو کے ان کی ذمہ داریوں میں ہر گز شامل نہیں ۔ ان کی یہ خاطر مداری بظاہر امتحانی ہال میں نقل چھوڑنے کے لیے ہوتی ہے ۔
کچھ ہمارے دیندار ساتھی (ظاہراً جن میں علماء بھی شامل ہیں) اس کھانے کو مہمان نوازی قرار دے کر جائز سمجھتے ہیں ۔ اسی طرح جس اسکول کے بچوں پر وہ ڈیوٹی کرتے ہیں وہ اسکول والے ان کے لیے گھر سے اسکول تک سواری کا بندوبست یا پھر ان کی گھاڑی میں پیٹرول ڈلواتے ہیں اور یہ سب ان کے نزدیک جائز اور مہمان نوازی ہے ۔ یہ بھی امتحانی ہال میں نقل چھوڑتے ہیں ۔
ہمارے کچھ اور دیندار ساتھی ( ظاہراً بشمول علماء) ان سب چیزوں کو رشوت کے مترادف قرار دیتے ہیں اور ان کے نزدیک یہ سب حرام ہے، لیکن چائے بسکٹ وغیرہ اسکول والوں کے بے پناہ اسرار کی وجہ سے لے لیتے ہیں ۔ یہ بھی نقل چھوڑتے ہیں ۔
جبکہ ہمارے تیسر ے قسم کے دیندار ساتھی (ظاہراً بشمول علماء) کسی بھی دباؤ میں نہیں آتے اور کچھ کھائے پیئے بغیر ڈیوٹی کرتے ہیں، لیکن ہمارے یہ ساتھی بھی نقل چھوڑنے پر مجبور ہو تے ہیں ۔نقل چھوڑنے کی وجوہات درج ذیل ہیں:
1۔ بچوں کے والدین، اساتذہ، رشتہ داروں اور دوستوں وغیرہ کی سفارشات ۔
2۔نقل نہ چھوڑنے پر سکول مالکان یا شریر لڑکوں کی طرف سے مار دھاڑ یا کوئی اور نقصان کا خدشہ ۔
3 صوبائی امتحانی مراکز کے دفتر ی عملے کی طرف سے نرمی کرنے پر زور۔ جبکہ میڈیا پر وہی لوگ نقل نہ چھوڑنے پر زور دیتے ہیں۔ مطلب میڈیا پر بدنامی سے بچنے کے لیے صرف دکھاوا ۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ پرائیویٹ سکول یا کالجز والے بورڈ کے عملے کو پیسے دےکر اپنی پسند کے اساتذہ کی ڈیوٹیاں لگواتے ہیں، تا کہ سالانہ امتحانات میں(نقل کے ذریعہ) اچھے نمبر لے کر نام کما سکے۔
4 ایک اور بڑی وجہ نقل چھوڑنے کی یہ بھی ہے کہ کچھ بچے اسکول (خاص طور پر سرکاری سکول والے۔ جو کہ اکثر غریب ہوتے ہیں اور اپنے گھر کے بڑوں کی ساتھ کمائی وغیرہ کرتے ہیں، ان کے پاس عموماً پڑھنے کا وقت نہیں ہوتا) میں صرف امتحان پاس کرنے کے ارادے سے آتے ہیں، جو گھر کے مسائل ، غربت یا پھر کسی اور وجوہات کی بنا پر پڑھنے سے قاصر ہوتے ہیں، ان کا مقصد صرف میٹرک یا کالج کا سرٹیفکیٹ لے کر کسی دوسرے ملک جانے کے لئے اپنے آپ کو اہل کرنا ہوتا ہے، تاکہ وہ وہاں مزدوری وغیرہ کر سکے۔ اسی طرح مدارس کے بچے ہوتے ہیں جو کہ مدارس کے اسباق میں مشغولیت کی وجہ سے تیاری نہیں کر پاتے اور ہم ان کو بھی نقل کرنے کی اجازت دیتے ہیں ۔
5۔ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ اگر امتحانی مراکز میں 100 فیصد سختی کی جائے تو 90 فیصد بچوں کے فیل ہونے کا خطرہ ہوتا ہے ۔ کیونکہ بچے محنت بہت کم کرتے ہیں اور ان کا اتنی بڑی تعداد میں فیل ہونا استاذ کی بدنامی کا باعث ہوتا ہے ۔
ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میرے سوالات یہ ہیں :
1۔ جس ا سکول میں ڈیوٹی ہوتی ہے کیا اساتذہ کے لیےان کا کھانا پینا اور اسی طرح پیٹرول وغیرہ لینا جائز ہے؟
2۔ اگر یہ سب کچھ جائز نہیں تو کیا ان کے بے پناہ اسرار پر چائے وغیرہ پی لینا جائز ہے۔
3۔ اور اگر یہ بھی جائز نہیں تو کیا اوپر دئیے گئے وجوہات کی بنا پر نقل چھوڑ نا بغیر کچھ کھائے پیئے (اور چھوڑنا بھی اس طرح ہو گا کہ سب بچے نقل کریں گے یعنی برابر معاملہ) اور پھر اس ڈیوٹی پر ملنے والا معاوضہ حلال زمرے میں آئے گا یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
- صورتِ مسئولہ میں چونکہ حکومت کی طرف سے امتحان میں نگرانی کرانے والے اساتذہ کی بنیادی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ طلباء کو نقل کرنے اور ایک دوسرے سے تعاون کرنے سے منع کریں اور اسی چیز کا حکومت کی طرف سے ان کو معاوضہ دیا جاتا ہے، لہذا اگر اسکول والوں کی طرف سے امتحان حال میں نقل لگانے یا باہر سے تعاون کی اجازت لینے کے لیے نگران اساتذہ کو پیٹرول کا خرچ اور کھانا وغیرہ کھلایا جاتا ہے تو یہ رشوت میں داخل ہے، جس کا لیناشرعاً ناجائز اور گناہ ہے، لہذا اس کی اجازت نہیں ہے۔
- نگران اساتذہ کے لیے اگر اسکول والوں کی طرف سے معمول کی چائے اور بسکویٹ وغیرہ انتظام کیا جائے تو اس کی عرف کی وجہ سے گنجائش ہے، کیونکہ عام طور پر عصری تعلیمی اداروں دوپہر کے وقت تفریح کے وقت میں چائے کا اہتمام کیا جاتا ہے، لہذا اگر معمول کے مطابق نگران اساتذہ کے لیے چائے کا انتظام کیا جائے تو نگران حضرات کے لیے اس کے نوش فرمانے کی اجازت ہے، بشرطیکہ امتحان حال میں نقل اور تعاون وغیرہ کی غرض سے چائے کا پرتکلف انتظام نہ ہو۔
- امتحان کا مقصد محنت کرنے والے طلباء اور بد محنت طلباء کے امتیاز کرنا ہوتا ہے اور امتحان میں کامیاب ہونے کی بنیاد پر ہی ڈگری دی جاتی ہے اور پھر اسی ڈگری کی بنیاد پر مستقبل میں لوگوں کا مختلف عہدوں کے لیے تعین اورانتخاب کیا جاتا ہے، لہذا ڈگری ہرطالب علم کی صلاحیت اور استعداد کی نمائندگی کرتی ہے اور اس ڈگری کی سراسر بنیاد امتحانی نظم کے مضبوط ہونے پر ہوتی ہے، اگر امتحانی نظم کمزور ہو اور طلباء کو علی الاعلان نقل کرنے اور باہر سے تعاون حاصل کرنے کی اجازت دی جائے تو اس کا اثر دور تک جاتا ہے، جس کا نتیجہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے، کیونکہ نالائق، غبی اور کند ذہن طلباء نقل لگا کر اچھے نمبر حاصل کرکے بڑے عہدوں پر بیٹھ جاتے ہیں، جبکہ ان کے اندر اس عہدے کے مناسب صلاحیت اور استعداد بالکل نہیں ہوتی۔جبکہ دوسری طرف ذہین، ذی استعداد اور اچھے کردار کے مالک طلباء انتہائی محنت کے باوجود نقل وغیرہ نہ کرنے کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں، جو کہ ان کے ساتھ واضح ظلم اور ناانصافی ہے۔
لہذا سوال میں ذکر کی گئی تمام وجوہ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بھی نقل چھوڑنے یا امتحان گاہ میں باہر سے تعاون لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، نقل چھوڑنے کا واضح مقصد نااہل طلباء کو کامیاب کرانا ہے، جو شرعاً وعقلاً کسی طرح بھی درست نہیں، کیونکہ ملک وملت کی مصلحت اور فائدہ بھی اسی میں ہے کہ نااہل طلباء کو پاس نہ کیا جائے، ورنہ امتحانی نظم کا کوئی فائدہ نہیں۔ البتہ اگر کسی نگران کو طلباء یا اسکول کے عملہ وغیرہ کی طرف سے اپنے ساتھ کسی ظلم یا زیادتی کا خدشہ ہوتو وہ نگرانی کی ذمہ داری قبول نہ کرے، کیونکہ معلومات کے مطابق محکمہٴ تعلیم کی طرف سے امتحان گاہ میں نگرانی کرنے پر کسی اسکول ٹیچرکو مجبور نہیں کیا جاتا، بلکہ اگر کوئی عذر پیش کر دے تو محکمہ اس کی جگہ دوسرے ٹیچر کا تعیّن کر دیتا ہے۔
حوالہ جات
فتح القدير للكمال ابن الهمام (7/ 254) دار الفكر، بيروت:
الرشوة أربعة أقسام: منها ما هو حرام على الآخذ والمعطي وهو الرشوة على تقليد القضاء والإمارة لا يصير قاضيا. الثاني ارتشاء القاضي ليحكم وهو كذلك حرام من الجانبين ثم لا ينفذ قضاؤه في تلك الواقعة التي ارتشى فيها سواء كان بحق أو بباطل. أما في الحق فلأنه واجب عليه فلا يحل أخذ المال عليه. وأما في الباطل فأظهر.. .......... الثالث: أخذ المال ليسوي أمره عند السلطان دفعا للضرر أو جلبا للنفع وهو حرام على الآخر لا الدافع، وحيلة حلها للآخذ أن يستأجره يوما إلى الليل أو يومين فتصير منافعه مملوكة ثم يستعمله في الذهاب إلى السلطان للأمر الفلاني. وفي الأقضية قسم الهدية .
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 103) دار احياء التراث العربي، بيروت:
قال: "ولا يقبل هدية إلا من ذي رحم محرم أو ممن جرت عادته قبل القضاء بمهاداته" لأن الأول صلة الرحم والثاني ليس للقضاء بل جرى على العادة، وفيما وراء ذلك يصير آكلا بقضائه، حتى لو كانت للقريب خصومة لا يقبل هديته، وكذا إذا زاد المهدي على المعتاد أو كانت له خصومة لأنه لأجل القضاء فيتحاماه. ولا يحضر دعوة إلا أن تكون عامة لأن الخاصة لأجل القضاء فيتهم بالإجابة، بخلاف العامة، ويدخل في هذا الجواب قريبه وهو قولهما. وعن محمد رحمه الله أنه يجيبه وإن كانت خاصة كالهدية، والخاصة ما لو علم المضيف أن القاضي لا يحضرها لا يتخذها.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (588/4)دار الجيل:
أقسام الهدية: الهدية تنقسم إلى أربعة أقسام. القسم الأول: الهدية تكون حلالا للجانبين وهي الهدايا التي تهدى إلى غير القاضي والموظف كهدايا الأحباء بعضهم إلى بعض وليس للقاضي، والموظف في أحد وظائف الحكومة أن يأخذ هدية من أحد الناس من هذا النوع أي إن أخذ الهدية التي تعاطيها حلال ومشروع بين الناس هو حرام ورشوة للقاضي والموظف والهدية التي هي موضوع البحث في هذه المادة هي هذا النوع من الهدايا. القسم الثاني: الهدايا المحرمة على الجانبين كالهدية للإعانة على الباطل فيأثم المعطي والآخذ ويكونان مرتكبين الحرام، ويجب رد الهدية إلى معطيها وهذا النوع من الهدايا محرم على القاضي وعلى الناس الآخرين. القسم الرابع: الهدية التي تعطى من الدافع لخوفه من المدفوع إليه على نفسه أو مال ويحل للدافع إعطاء هذه الهدية ويحرم أخذها؛ لأن دفع الضرر عن الغير واجب ولا يجوز أخذ المال لإجراء الواجب.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
24/ذوالقعدة 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


