03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیعانہ کی رقم کی واپسی
80460خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کو ختم کرنے کے مسائل

سوال

میں نے ایک مکان خریدا تھا جس کی مالیت ایک کروڑ پینتیس لاکھ (1,35,00,000) تھی 2021 میں ۔ فروخت کرنے والے 5 بھائی تھے، جن میں سے ایک کا انتقال ہو گیا تھا ،باقی 4 بیچتے وقت موجود تھے.میں نے پانچ لاکھ روپے (500،000) بطور ایڈوانس دیا تھا اور ساڑھے 4 ماہ میں بقیہ ادائیگی کا ان سے وقت لیا تھا۔ معاہدہ کے ٹھیک 2 دن بعد فروخت کنندہ کی 3بہنیں اور ان کے مرحوم بھائی کی بیوہ میرے گھر آتی ہیں اور مطالبہ کرتی ہیں کہ آپ اس معاہدہ سے دستبردار ہو جاےَ ،کیونکہ اس میں ہمارا حق ہے اور ہم یہ مکان فروخت نہیں کرنا چاہتی.اس کے بعد میں نے ان کا آپس میں صلح کرانے کی پوری کوشش کی جس میں 3 ماہ گزر گئے، پیسوں کی ادائیگی میں باقی ڈیرھ ماہ رہ گئے۔ ان کا آپس میں کسی بات پر کؤئی سمجھوتا نہیں ہوا۔ اس کے بعد فروخت کنندہ میں سے 2 بھائی میرے پاس مسجد آےَ اور مجھ سے کہا کہ اگلے ڈیرھ ماہ میں ادائیگی کر لو ،نہیں تو سودا ختم ہوجاےَ گا.جس پر میں نے ان سے کہا کہ آپ اپنے گھریلو معاملات صحیح کرلو، کیونکہ اس مکان کو بیچنے پر آپ کی ہمشیرہ اور بھابھی کو اعتراض ہیں،لہذا پہلے آپ وہ معاملہ ٹھیک کر لیں، اس کے بعد جو ساڑھے چار ماہ میں ادائیگی کا جو وقت ہے وہ شروع ہو گا۔ جس کو انھوں نے ماننے سے انکار کیا اور وہی بات کری کہ مقررہ تاریخ پر سودا ختم ہو جاےَ گا، آگے سے میں نے جواب دیا ،کوئی بات نہیں۔یہ معاہدہ 15 اگست 2021 کو طے پایا تھا ،اب آج کی تاریخ 4 مئی 2023 کو انھوں نے وہ مکان جس کا سودا ہوا تھا ،اسے بنانے کے لےَ اس مکان کو توڑنا شروع کر دیا۔ اب پوچھنا یہ تھا کہ میں نے ایڈوانس کی مد میں فروخت کنندہ کو جو 5 لاکھ(500،000) دیےَ تھے وہ وصول کرنا جائز ہے یا نا جائز؟ مہربانی فرما کر میری رہنمائی فرما لیں۔ جزاک اللہ خیرا

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مکان میں بہنوں کا بھی حصہ تھا اس لیے  ان کے حصوں کی حد تک یہ سودا موقوف تھا،جب انہوں نے اجازت نہیں دی تو ان کے حصوں کی حد تک بیع ختم ہوگئی،اور جن چار بھائیوں نے مکان بیچا ،ان کے حصوں میں بیع لازم تھی،تاہم ان کے ساتھ بھی آپ نے یہ بات مان لی تھی کہ اگر مقرر تاریخ تک ادائیگی مکمل نہیں ہوئی  تو بیع ختم ہوجائے گی، اس طرح اقالے کا معاملہ کرنا اگرچہ شرعا درست نہیں تھا،لیکن جب انہوں نے مکان میں دوبارہ تصرف شروع کردیا ہے اور آپ بھی اقالے پر راضی ہیں تو جو رقم بیعانہ کے طور پر آپ نے ادا کی ہے آپ کےلیے اس کو واپس لینا شرعا جائز ہے،یہ آپ کا حق ہے ،لہذا ان پر لازم ہے کہ یہ رقم آپ کو واپس کریں۔ورنہ وہ گناہ گار ہوں گے۔

حوالہ جات

فقه البیوع: (113/1):

العربون والعربان : بیع فسرہ ابن منظور بقولہ:" ھو ان یشتری السلعۃ ویدفع الی صاحبھا شیئا یلی انہ ان امضی البیع جائز حسب من الثمن، وان یمض البیع، کان لصاحب السلعۃ، ولم یرتجعہ المشتری۔واختلف الفقھاء فی جواز العربون: فقال الحنفیۃ والمالکیۃ واشافعیۃ وابو الخطاب من الحنابلۃ : انہ غیر جائز"

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

25/ذیقعدہ1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب