| 80287 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام کہ دکان کا مالک دکان سال بھر کیلئے ایک لاکھ روپے پرکرایہ کیلئے دیتا ہےاور مزید بیس ہزار بھی وصول کرلیتا ہے کہ بجلی وغیرہ کے اخراجات مالک دکان کے ذمہ ہونگیں۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ بل کم یا زیادہ بھی ہوسکتا ہے۔ کیا مالک مکان کا پیشگی رقم لے کر کرایہ دار کو بریئ الذمہ کرنا شرعاً درست ہےجبکہ کرایہ دار بھی اس پر راضی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جی درست ہے۔ مالک مکان ایک لاکھ بیس ہزار روپے دکان ، بجلی وغیرہ جمیع خدمات دینے کے عوض وصول کریگا۔
حوالہ جات
مجلة الأحكام العدلية (ص: 88)
(المادة 464) بدل الإجارة يكون معلوما بتعيين مقداره إن كان نقدا كثمن المبيع.
مجلة الأحكام العدلية (ص: 86)
(المادة 449) يلزم تعيين المأجور بناء عليه لا يصح إيجار أحد الحانوتين من دون تعيين أو تمييز.
(المادة 450) : يشترط أن تكون الأجرة معلومة.
(المادة 451) : يشترط في الإجارة أن تكون المنفعة معلومة بوجه يكون مانعا للمنازعة.
(المادة 452) المنفعة تكون معلومة ببيان مدة الإجارة في أمثال الدار والحانوت والظئر.
عنایت اللہ عثمانی
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
11/ذی قعدہ/ 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عنایت اللہ عثمانی بن زرغن شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


