03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وراثتی زمین قسطوں پربیچ دی جائےتوزمین کی کون سی قیمت کااعتبار ہوگا؟
78917میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

سوال: والدہ کی وراثت(زمین)کسی وارث کی اجازت یاعلم میں لائےبغیر بیچ دی جائےتواس کےساتھ تقسیم،بیع کےوقت کی قیمت کےلحاظ سےہوگی یا جب ا س وارث کومعلوم ہواوہ قیمت شمارہوگی یا تقسیم کےوقت زمین کی قیمت کےلحاظ سےہوگی یاجس مدت کاذکر کسی ایک وارث سےہواوہی مدت شمار ہوگی ؟

        

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

وراثت  کی تقسیم کےلیےزمین کوبیچنےکےلیےتمام ورثہ کی اجازت ضروری ہے،کسی ایک وارث کی اجازت نہ ہوتووہ خریدوفروخت کامعاملہ معتبرنہ ہوگا،ہاں اگربعدمیں راضی ہوجائےتوبعدکی اجازت بھی سابقہ اجازت شمارہوگی اوربیچنادرست ہوجائےگا،اوربیچتےوقت جوقیمت تھی اسی کےاعتبارسےمیراث تقسیم کی جائےگی۔

اوراگرراضی نہیں تویاتواس کوراضی کرنےکی کوشش کی جائےاورصلح کےنتیجےمیں باقی شرکاء کی رضامندی سےکچھ زیادہ حصہ دیدیاجائے،ورنہ دیگرورثہ کواپنےاپنےحصےکی حدتک سابقہ خریدوفروخت کامعاملہ فسخ کرنےکاحق ہوگا۔

ایسےمیں اگربیع کوفسخ کرکےدوبارہ زمین لیناممکن نہ ہوتوپھرجس وقت زمین بیچی تھی ،اس وقت زمین کی مارکیٹ ویلیو کےاعتبارسےاس وارث کو حصہ دیاجائےگا۔یعنی اس صورت میں جس قیمت پر عقد ہواہے،اس کےاعتبارسےوارث کوحصہ نہیں دیاجائےگا،بلکہ عقدکےوقت زمین کی قیمت فروخت کودیکھاجائےگا۔

ہاں اگرعقدبھی اس وقت کی قیمت فروخت کےمطابق ہواہوتوبہت اچھا ورنہ مارکیٹ ویلیو کےمطابق اس وارث کو حصہ دیاجائےگا۔

حوالہ جات

"رد المحتار"302/4:

ولو كانت الدار مشتركةً بينهما، باع أحدهما بيتاً معيناً أو نصيبه من بيت معين، فللآخر أن يبطل البيع۔

"الہدایۃ" 67/3و لکل من المتعاقدین فسخہ رفعا للفساد وہذا قبل القبض ظاہر لانہ لم یفد حکمہ فیکون الفسخ امتناعا منہ وکذا بعد القبض۔

"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع6/ 65:

’’فأما شركة الأملاك، فحكمها في النوعين جميعاً واحد، وهو أن كل واحد من الشريكين كأنه أجنبي في نصيب صاحبه، لا يجوز له التصرف فيه بغير إذنه؛ لأن المطلق للتصرف الملك أو الولاية، ولا لكل واحد منهما في نصيب صاحبه ولاية بالوكالة أو القرابة؛ ولم يوجد شيء من ذلك، وسواء كانت الشركة في العين أو الدين لما قلنا۔

"درر الحكام في شرح مجلة الأحكام"1/ 189:الشريك إذا باع نصفاً معيناً من الدار المشتركة على وجه الشيوع بينه وبين شريكه الآخر فالبيع لا يجوز، فلو باع الشريك غرفةً معينةً من الدار المشتركة بينه وبين آخر إلى أجنبي فالبيع غير صحيح في حصة البائع ولا في حصة شريكه؛ لأن الغرفة التي بيعت ليست للبائع فقط بل للشريك الآخر شركة في كل جزء منها كما للأول. (بزازية) والظاهر أن البيع في أحد النصفين جائز، وفي الآخر موقوف على إجازة الشريك.

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

16/جمادی الثانیہ    1444ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب