| 78527 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے فاسد معاملات کا بیان |
سوال
زید نے بکر کو کچھ بکریاں دیں اس شرط پر کہ ان بکریوں کو چرانا اور ان کی دیکھ بھال آپ کے ذمے ہے اور اس کا دودھ بھی آپ کا ہوگا،لیکن جو بچے بکریاں جنیں گی وہ آدھے آدھے ہوں گے،بکر ان شرائط پر راضی ہوگیا،کیا زید اور بکر کا یہ معاملہ درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ معاملہ اجارہ کا ہے جو اجرت مجہول ہونے کی وجہ سے فاسد ہے،اس کی متبادل جائز صورت یہ ہے کہ:
جانور کا مالک جانور کی ایک متعین قیمت لگاکر دوسرے کو جانور کا نصف حصہ فروخت کردے ،اس کے بعد اس نصف حصےکی قیمت اس سے لے یا اس کومعاف کردے،اس طرح کرنے کے بعد یہ دوسرا شخص اس جانور کے آدھے حصے کا مالک بن جائے گا اور نتیجتاً اس جانورسے حاصل ہونے والے دودھ وغیرہ میں بھی آدھے حصے کا مالک بن جائے گا ،اسکے بعدیہ جانور اس دوسرے شخص کو پرورش کے لئے دے،چارے وغیرہ کا جو خرچہ آئے گا وہ بھی ملکیتی حصوں کے مطابق آدھا آدھا ہر ایک پر آئے گا ،البتہ اگر خریدار کو رقم معاف کی گئی ہو اوروہ اس احسان کے بدلے وہ جانور کے چارے وغیرہ کے اخراجات کا آدھا حصہ بیچنے والے سے وصول نہ کرے تو بھی حرج نہیں ۔اسی طرح اگر دیکھ بال والا ،دیکھ بال کرنےکی آدھی اجرت اپنے شریک سے لینا چاہے تو بھی لے سکتا ہے۔
حوالہ جات
"رد المحتار" (6/ 285):
"وفي التتارخانية: أعطاه بذر الفليق ليقوم عليه ويعلفه بالأوراق على أن الحاصل بينهما فهو لرب البذر وللرجل عليه قيمة الأوراق وأجر مثله، وكذا لو دفع بقرة بالعلف ليكون الحادث نصفين ".
"الفتاوى الهندية" (4/ 445):
"دفع بقرة إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة وعلى صاحب البقرة للرجل أجر قيامه وقيمة علفه إن علفها من علف هو ملكه لا ما سرحها في المرعى ويرد كل اللبن إن كان قائما، وإن أتلف فالمثل إلى صاحبها لأن اللبن مثلي، وإن اتخذ من اللبن مصلا فهو للمتخذ ويضمن مثل اللبن لانقطاع حق المالك بالصنعة والحيلة في جوازه أن يبيع نصف البقرة منه بثمن ويبرئه عنه ثم يأمر باتخاذ اللبن والمصل فيكون بينهما".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
20/جمادی الاولی1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


