03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قراء حضرات کا تلاوت پر اجرت لینا
78533جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

ہمارے پاکستان میں ایک عرصے سے یہ رواج چلا آرہا ہے کہ کچھ لوگ بیرون ملک سے قراء حضرات کو محفل حسن قراءت کے لیے دورے پر بلاتے ہیں،ان سے پیسوں کی ڈیلنگ کرنے کے بعد یہ ایجنٹ حضرات پاکستان کے مختلف اضلاع میں یہاں کے قراء حضرات سے محفل حسن قراءت کی ڈیل کرتے ہیں،تقریبا ایک ایک محفل کے ایک لاکھ یا اس سے زیادہ لیتے ہیں۔

واضح رہے کہ بیرون ملک کے قراء حضرات ڈاڑھی مونڈھے ہوتے ہیں،یہ بھی واضح رہے کے یہاں کے قراء حضرات یہ رقم مدرسے کے فنڈ سے لیتے ہیں یا طلبہ کو مختلف مساجد میں بھیج کر چندہ کرتے ہیں،اس تمہید کے بعد درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:

ان قراء حضرات کے لیے تلاوت پر اجرت لینا کیسا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

تلاوت پر اجرت لینا شرعا جائز نہیں،اس لئے قراء حضرات تلاوت کی اجرت تو نہیں لے سکتے،البتہ آنے جانے کے اخراجات وصول کرسکتے ہیں۔

نیز باقاعدہ طے کئے بغیر اگرآنے جانے کے اخراجات کے علاوہ بھی انہیں کوئی ہدیہ رقم وغیرہ کی صورت میں پیش کیا جائے تو اس کے لینے اور دینے کی گنجائش ہے۔

حوالہ جات

"رد المحتار" (6/ 56):

وقد اتفقت كلمتهم جميعا في الشروح والفتاوى على التعليل بالضرورة وهي خشية ضياع القرآن كما في الهداية، وقد نقلت لك ما في مشاهير متون المذهب الموضوعة للفتوى فلا حاجة إلى نقل ما في الشروح والفتاوى، وقد اتفقت كلمتهم جميعا على التصريح بأصل المذهب من عدم الجواز، ثم استثنوا بعده ما علمته، فهذا دليل قاطع وبرهان ساطع على أن المفتى به ليس هو جواز الاستئجار على كل طاعة بل على ما ذكروه فقط مما فيه ضرورة ظاهرة تبيح الخروج عن أصل المذهب من طرو المنع، فإن مفاهيم الكتب حجة ولو مفهوم لقب على ما صرح به الأصوليون بل هو منطوق.....

واختلفوا في الاستئجار على قراءة القرآن مدة معلومةقال بعضهم: لا يجوز: وقال بعضهم: يجوز وهو المختار اهـ والصواب أن يقال على تعليم القرآن، فإن الخلاف فيه كما علمت لا في القراءة المجردة فإنه لا ضرورة فيها، فإن كان ما في الجوهرة سبق قلم فلا كلام، وإن كان عن عمد فهو مخالف لكلامهم قاطبة فلا يقبل وقد أطنب في رده صاحب تبيين المحارم مستندا إلى النقول الصريحة".

"عمدة القاري " (12/ 97):

"وقال الشعبي :"لا يشترط المعلم إلا أن يعطى شيئا فليقبله".

الشعبي هو عامر بن شراحيل، ووصل تعليقه ابن أبي شيبة عن مروان بن معاوية عن عثمان بن الحارث، قال: حدثنا وكيع حدثنا سفيان عن أيوب بن عائذ الطائي عنه، وقول الشعبي هذا يدل على أن أخذ الأجر بالاشتراط لا يجوز فإن اعطى من غير شرط فإنه يجوز أخذه لأنه إما هبة أو صدقة، وليس بأجرة، وأصحابنا الحنفية قائلون بهذا أيضا".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

20/جمادی الاولی1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب