03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سودی قرض کی وصولی کرنے والے کال سینٹر میں نوکری کا حکم
81207اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

میں کال سینٹر میں بطور منیجر کام کر رہا ہوں (قرض کی وصولی کیلئے)۔ جس کمپنی میں مَیں نوکری کر رہا ہوں یہ کمپنی پاکستان میں رجسٹرڈ ہے۔ یہ کمپنی دوسری قرض دینے والی کمپنیوں سے ٹینڈر لے رہی ہے چائنہ میں ۔ دوسری قرض دینے والی تمام کمپنیاں چائینز کی ہیں جو کے سود پر کام کرتے ہیں مختلف ممالک میں جیسے کے(جنوبی افریقہ)، (نیپال)، (ہندوستان) وغیرہ۔ کمپنی ہمیں رقم کی وصولی کیلئے تمام اختیار دیتی ہے، کمپنی کہتی ہے کہ پہلے آرام سے بات چیت کریں اگر پیسےنہیں بھیجتے تو سب کچھ کرو (گالیاں دینا، دھمکیاں دینا، غیر اخلاقی تصویروں میں ترمیم کرنا وغیرہ) جب تک کہ وہ پیسے واپس نہ بھیجیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ آیا مجھے یہ نوکری جاری رکھنی چاہیے؟ کیا یہ کام اسلام میں جائز ہے؟ راہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جس طرح سود کا لین دین حرام ہے اسی طرح سودی معاملے میں تعاون کرنا بھی ناجائز و حرام ہے۔ سودی قرضہ وصول کرنا بھی سودی معاملے میں تعاون کرنا ہے، جو کہ جائز نہیں، لہٰذا آپ کے لیے اس طرح کے کال سینٹر میں کام کرنا درست نہیں۔ مزید یہ کہ دوسری جگہ ملازمت تلاش کر کے جلد از جلد اس جگہ سے ملازمت چھوڑ دیں۔

حوالہ جات

صحيح مسلم (3/ 1219)

(1598) حدثنا محمد بن الصباح، وزهير بن حرب، وعثمان بن أبي شيبة، قالوا: حدثنا هشيم، أخبرنا أبو الزبير، عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: «هم سواء»

شرح النووي على مسلم (5/ 468)

وفيه : تحريم الإعانة على الباطل

عمر فاروق

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

۱۶/صفر الخیر/۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عمرفاروق بن فرقان احمد آفاق

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب