03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ٍٍ زوجین ایک گواہ اورقاضی کے موجودگی میں کئے ہوئے نکاح کاحکم
80638نکاح کا بیانمحرمات کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ

       میرانام عالیہ ہے اورمیں ایک نومسلم خاتون ہوں ،جب میں کرسچن تھی اس وقت میری شادی 12جنوری سن 2002ء میں ایک کرسچن لڑکے سے ہوئی تھی جس  سے میرا  ایک بچہ بھی ہے،2010ء میں میرے اُس شوہر کا انتقال ہوگیا اورتقریباً 10سال گزارنے کے بعدمیرے ساتھ کام کرنےو الے آفس کے بندے نے ہمارے سینئرمنیجرکے ذریعے مجھے شادی کا پیغام بھیجا، میں نے ان کو بتایاکہ میں بیوہ ہوں اور میرا ایک بیٹابھی ہے اورہماراگزربسرہورہاہے، لیکن اس بندےنے مجھے بہت سمجھایااوردیگرلوگوں کو بھی میرے ساتھ دوسری شادی کے بارے میں بولا،خیر اللہ کی مرضی میں راضی ہوگئی ،مجھے یہ بولاگیا کہ ہمارا نکاح بنوری ٹاؤن کی مسجد میں ہوگا اورمجھے وہاں پہلے مسلمان کیاجائے گااور سند دی جائے گی،اورپھرنکاح ہوگا،لیکن جس دن میرا نکاح ہونا تھا یعنی 2020/11/27 کو ہم لوگوں کو وہ بنوری ٹاؤن کے بجائے اورنگی ٹاؤن نمبر 10 کی مسجد حنفیہ لے گیا، وہاں میری طرف سے میری بہن جوکہ کرسچن ہے شامل تھی  اورلڑکا جس کا نام وقاص ہے اوراس کا دوست جس کانام سہیل ہے وہ بھی شامل تھے اورایک مولوی صاحب بھی موجود تھے،انہوں نے عربی میں کوئی خطبہ نہیں دیا، بلکہ اردو میں پوچھاکہ آپ کو قبول ہے اوریہ الفاظ بھی میرے بولنے پر انہوں نے بولے،نکاح ہونے کے بعد جب ہمارے تعلقات ہوئے اورمیں نے اس بندے سے پوچھا کہ آپ نادرا کا نکاح نامہ نہیں لائے؟ تو اس نے بولامیرج والاپیپر میں نے پھاڑدیاہے کیونکہ میں آپ کو نادرامیں رجسٹردنہیں کرواسکتا،کیونکہ میں آپ کو اپنا نام نہیں دے سکتا،اس پر میں نے کہاکہ جب آپ نام نہیں دے سکتے تو شادی کیوں کی ؟اس پر اس  نےبولا کہ میں نے آپ سے جائز نکاح کیاہے آپ معلوم کرلیں،اس دوران میں حاملہ بھی ہوگئی لیکن اس ٹینشن کی وجہ سے میرا بلڈپیشر بھی ہائی ہوگیا اوراس دوران میرا حمل بھی ضائع ہوگیا۔اب مسئلہ مفتی صاحب یہ ہےکہ بہت سی جگہوں  سے میں نے معلوم کروایا کہ میرا نکاح ٹھیک ہے یا نہیں ؟ کافی لوگوں نے یہ کہاکہ یہ نکاح نہیں ہے کیونکہ آپ کے نکاح میں صرف ایک عورت کی گواہی ہے،مجھے اسلامی طریقہ معلوم نہیں ہے، لوگ کہتے ہیں کہ نکاح میں لڑکی کا ولی اور اس کےساتھ دو گواہ ہوتے ہیں اورلڑکے کی طرف سے بھی دو گواہ ہوتے ہیں، اس دوران مجھے ایک غلطی یہ ہوئی کہ میں نے اس شخص سے بولا کہ میرے گواہ تو ہیں ہی نہیں تو انہوں نے بولا کہ جو عورت قرآن پڑھنے آتی ہے اس کے شوہر کو بول کرآپ دو گواہ ڈلوالو جب اس نے خاتون کے شوہر سے بولا تو انہوں نے بولا کہ اس میں گواہی ڈال دیتاہوں، اس کے بعد جب میں نے نکاح والاوہ خط ایک مفتی صاحب کو دکھاکرمعلوم کیا تو انہوں نے بتایاکہ نکاح مکمل ہونے کے بعد کوئی بھی آپ یا کوئی اورنکاح کے کاغذات میں ایک لفظ نہیں لکھ سکتا۔

مفتی صاحب میں نے دل سے اسلام قبول کیا ہے اور میں نے اس شخص کو جواپنے کو میرا شوہر کہتاہے گھر سے دو سال قبل ہی منع کردیاہے اوروہ کوئی خرچہ وغیرہ بھی نہیں دیتا ۔اب مجھے پوچھنایہ ہے کہ

١۔ کیا اس نے میرے ساتھ جو نکاح کیاہے وہ نکاح ٹھیک  ہے یانہیں ؟

۲۔ میں نے اس کے ساتھ جو دن گزارے وہ گناہ میں تو نہیں گزارے؟

۳۔ اگرمذکورہ نکاح جعلی ہواورمیں اس سے جان چھڑاناچاہوں یا نکاح تو ٹھیک ہومگر میں اس کےساتھ رہنانہ چاہوں تو اس طرح اسلامی طریقے کے مطابق اس فراڈیا شخص سے کیسےجان چھراؤں گا؟کیونکہ اس شخص  سےجب  بھی میں طلاق کے حوالے سےبات کرتی ہوتو وہ  دھمکی دیتاہے کہ طلاق نہیں دوں گا، آپ خود ہی خلع لے لو،انہی ٹینشنوں کی وجہ  سے مفتی صاحب مجھے برینہیمرج اورفالج بھی ہوگیاہے لیکن اللہ کے کرم سے اب میراہاتھ اورپاؤں ٹھیک ہیں بس دماغی طورپر تھوڑی کمزوری ہے، میری شادی کے چند ماہ کے بعد اس نے اپنے چاہنے والوں کی بیٹی سے شادی کی ہے اس کی دوسری بیوی کو اس بات کا علم ہے،میری مدد فرمائیں اللہ آپ کو اجردے گا۔

۴۔ کیا میں اس شخص کے ساتھ کوئی قانونی چارہ گوئی کاحق رکھتی ہوں کیونکہ اڑھائی سال سے ہمارے درمیان میاں بیوی والےتعلقات نہیں ہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 ١۔سوال میں ذکرکردہ نکاح  درست ہے،اس لیےکہ جب لڑکا اور لڑکی دونوں خود مجلسِ نکاح میں موجود  تھے تو وہی عاقدین ٹھہرے،کیونکہ مؤکل جب بوقت ِعقد موجودہوتا ہے تو اگرچہ عقد  وکیل عقد کر رہا ہوتا ہے مگر عاقدخودمؤکل قرار پاتاہے اور وکیل گواہ بن جاتاہے،لہذا مسئولہ نکاح میں وقاص کا دوست سہیل اورنکاح خواں مولوی صاحب دو گواہ تھے،لہذا یہ نکاح صحیح ہوا،اگرچہ اس طرح گھر والوں سے چھپ کر نکاح کرنا سخت ناپسندیدہ اورمعاشرتی اقدار کے لیے سخت ضرررساں ہے۔

۲۔ چونکہ مذکورہ نکاح صحیح تھا،لہذابطورمیاں بیوی کےگزرے ایام گناہ  میں  نہیں گزرے۔

۳،۴۔جب وہ نہ طلاق دینا چاہتاہے اورنہ ہی رکھنا اورخرچہ دیناچاہتاہےجیسے کہ زبانی معلوم ہواہے تواس بنیادوں پر آپ کو ان کے خلاف عدالتی چارہ گوئی کاحق حاصل ہے،لیکن پہلے خاندانی بڑوں کو درمیان میں ڈال کر صلح صفائی کے ذریعے اچھی طرح رکھنے،خرچہ دینے یا بہترطریقے سے رخصت کرنے  کی بات کی جائے اور اُس کواِس پر امادہ کرنے کی کوشش کی جائے اگروہ پھربھی ان میں سےکسی بات پر امادہ نہ ہوتوپھرتوعدالتی چارگوئی عمل میں لائی جائے۔عدالتی چارگوئی کے حوالے سے کسی وکیل سے مشورہ کیا جاسکتاہے،البتہ عدالتی کاروائی میں یہ ضروری ہوگاکہ آپ شوہرکے خلاف یہ بات شرعی گواہوں یعنی دو مرد یا ایک مرد اوردو معتبرعورتوں کے ذریعے ثابت کریں کہ اس سے آپ کا نکاح ہواہے اوروہ اتنے عرصے سے سے نہ آپ کو ساتھ رکھ رہاہے اورنہ ہی خرچہ دے رہاہے اورآپ اس بنیاد پر اس سے فسخِ نکاح کی صورت میں علیحدگی چاہتی ہے،عدالت جب اس کو بلائے گی تو اسے ازدواجی حقوق وذمہ داریاں پوری کرنے پر ورنہ طلاق دینے پر امادہ کرے گی،اگروہ دونوں کےلیے تیارنہ ہوتو پھر عدالت فسخِ نکاح کرے گی اورپھر عدت گزرنے کے بعدآپ دوسری جگہ نکاح کرسکے گی ۔

حوالہ جات

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 322):

"(و كذا) يصح العقد (لو زوج الأب بالغة عند رجل) واحد (إن حضرت) البالغة (صح) ؛ لأنه إذا حضرت صارت كأنها عاقدة والأب وذلك الرجل شاهدان."

وفی الدر المختار مع رد المحتار: (3/ 24)

والأصل عندنا أن كل من ملك قبول النكاح بولاية نفسه انعقد بحضرته. . قوله: (والأصل عندنا إلخ) عبارة النهر قال الإسبيجابي: والأصل أن كل من صلح أن يكون وليا فيه بولاية نفسه صلح أن يكون شاهدا فيه، وقولنا بولاية نفسه لإخراج المكاتب فإنه، وإن ملك تزويج أمته لكن لا بولاية نفسه بل بما استفاده من المولى. اهـ. وهذا يقتضي عدم انعقاده بالمحجور عليه ولم أره اهـ.

قال اللہ تعالی:

نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ وَقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلَاقُوهُ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ [البقرة/223]

وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا [النساء/35]

فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ [البقرة/229]

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

24/12/ 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب