| 80678 | طلاق کے احکام | مدہوشی اور جبر کی حالت میں طلاق دینے کا حکم |
سوال
اَلسَلامُ عَلَيْكُم ۔جناب مفتی صاحب جناب عالی گزارش یہ ہے کہ میرا نام آفتاب ولد سید محمد جلال الدین ہے ،مسئلہ یہ ہے کہ میری بیوی سے ڈیڑھ مہینہ قبل لڑائی ہوئی اور بات تھانہ پولیس تک جا پہنچی، میری بیوی کے گھر والے اسے اپنے گھر لے گئے ،میں بہت پریشان اور بہت غصے میں تھا پھر میرے گھر والوں نے مجھ پر بہت زور ڈالا ہوا تھا، مجھ پر زبردستی کی اور مجھے ذہنی طور پر بہت پریشان کر دیا اور بس یہ کہنے لگے کہ اپنی بیوی کو طلاق دے، میں نہیں دینا چاہتا تھا ،میرے دل میں کوئی ارادہ نہیں تھا، میں اپنے دل سے بالکل اس چیز پر تیار نہیں تھا، لیکن میرے گھر والوں نے مجھے بہت پریشان کیا ہوا تھا، ان کا کہنا تھا اگر تو طلاق نہیں دے گا تو ہم سے تیرا کوئی واسطہ نہیں ہوگا ، انہوں نے مجھ سے زبردستی طلاق دلوائی اور23/06/2023 کو تین طلاق کےپیپربنواکرمیری بیوی کےگھربھجوا دیے،اب میں بہت پریشان ہوں اور میں رجوع کرنا چاہتا ہوں اور یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میری بیوی کوطلاق ہوئی ہے یا نہیں؟
جب طلاق کےپیپر میری بیوی کے پاس پہنچے تو وہ حالت حیض سے تھی ، وکیل نے ایک مہینے میں ایک طلاق نہیں بھیجی،بلکہ ایک ساتھ تین طلاق لکھ کر بھیج دیں اور میری بیوی سے ریسیو(وصول) کروا لیں، اس کے 4 دن بعد میری اپنی بیوی سے موبائل پربات ہوئی اوررجوع ہوا، اب میں بہت پریشان ہوں اور اپنی بیوی سے رجوع کرنا چاہتا ہوں، آپ رہنمائی فرمائیں کہ کیا ہماری طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟ اور میں کس طرح سے اپنی بیوی سے رجوع کر سکتا ہوں تاکہ ہم ایک ساتھ زندگی گزار سکیں ۔ آپ کی عین نوازش ہوگی ۔
تنقیح:سائل نےبتایاکہ زبان سےطلاق نہیں دی ،بس گھروالوں نےزبردستی میں طلا ق کے پیپربنوائے اورسائن کروالیے۔
شوہرکے گھروالوں(والدین اوربھائی بھابھی)نےاس طرح دھمکی دی تھی"اگرتوبیوی کواس گھرمیں لےکرآیاتوتجھے اس گھرسےنکال دیں گےاور جان سےماردیں گے"۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں اگرآپ کواس بات کایقین یاغالب گمان تھاکہ اگرآپ طلاق کےپیپرپردستخظ نہیں کریں گےتوآپ کےگھروالےآپ کو گھرسےنکال دیں گےاورواقعتاجان سے مارڈالیں گےاورآپ نےنہ زبان سےطلاق کےالفاظ اداکیےاورنہ دستخط کرتےوقت طلاق کی نیت تھی توایسی صورت میں طلاق نامہ پر دستخظ کرنےسےطلاق واقع نہیں ہوئی،سابقہ نکاح برقراررہےگا۔
لیکن اگرآپ کو اس بات پریقین تھاکہ طلاق نامے پردستخظ نہ کرنےکی صورت میں ایساکچھ نہیں ہوگا،بلکہ یہ صرف زبانی کلامی دھمکی دی جارہی ہے،توایسی صورت میں طلاق نامےمیں مذکورہ طلاقیں واقع ہوجائیں گی،اورچونکہ تین طلاق کاذکرہے،لہذاطلاق مغلظہ واقع ہونگی،اس کےبعد بغیرحلالہ کےدوبارہ نکاح کرنابھی جائزنہ ہوگا۔
حوالہ جات
"رد المحتار" 10 / 458:
وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق ، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا كذا في الخانية ۔
"الفتاوى الهندية " 8 / 365:
رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضي خان ۔
"رد المحتار"25 / 76:
( وشرطه ) أربعة أمور : ( قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا ) أو نحوه ( و ) الثاني ( خوف المكره ) بالفتح ( إيقاعه ) أي إيقاع ما هدد به ( في الحال ) بغلبة ظنه ليصير ملجأ ( و ) الثالث : ( كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا ) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن ، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال ( و ) الرابع : ( كون المكره ممتنعا عما أكره عليه قبله ) إما ( لحقه ) كبيع ماله ( أو لحق ) شخص ( آخر ) كإتلاف مال الغير ( أو لحق الشرع ) كشرب الخمر والزنا۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
28/ذی الحجۃ 1444ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


