03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مختلف الفاظ طلاق سے طلاق کا حکم
79512طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

          2015 میں میری شادی ہوئی، شادی کے فورا بعد ہم دونوں سعودیہ چلے گئے تھے۔ وہاں میری جاب تھی، ایک سال ٹھیک گزرا تھا، بچے کی ولادت کے لئے میں اور وہ واپس آگئے۔ آٹھ مہینے پاکستان میں رہے شوہر کی تنخواہ بہت کم تھی، کرائے کا گھر تھا، گھر کے حالات دیکھ کر ہم دونوں نے دوبارہ جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ میری امی اُن پرغصہ ہوتی تھیں کہ گھر اور بچے کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتا تو شادی کیوں کی تھی۔ سعودیہ میں ہم دونوں کی نہیں بنی، بات بات پر لڑائی ہو جاتی تھی۔

          مدینہ میں رہتے تھے، ایک بار حرم میں کھڑے ہوکر انہوں نے کہا: کہ میں یہاں حرم میں کھڑے ہو کر بول رہا ہوں کہ میں تمہیں چھوڑ دوں گا۔ پھر ایک بار ماسی پر جھگڑا ہو رہا تھا، تو انہوں نے غصے میں کہا: کہ اگر یہ دوبارہ اس گھر میں آئی تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔ پھر کچھ عرصے بعد جھگڑے میں بہت غصے میں تھے اور بولے میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔ ہم دونوں سعودیہ میں ساتھ ہی رہتے رہے کسی کو نہیں بتایا کیونکہ میں وہاں جاب پر تھی۔پھر میں حمل سے تھی کسی بات پر اچانک غصہ آگیا اور بولے میں تمہیں چھوڑ رہا ہوں۔

           بچے کی ولادت کے لئے میں جاب چھوڑ کر پاکستان آ گئی اور دو سال ہوگئے میں اپنی امی کے گھر پر ہی ہوں، کیونکہ یہ ساری باتیں میں نے اپنی امی کو بتائیں توانہوں نےدوبارہ شوہر کے ساتھ رہنے سے منع کردیا۔ شادی کو 8 سال ہوگئے ہیں اور چار سال میں اُن کے ساتھ رہی ہوں۔ جون میں شوہر سعودیہ چلے گئے ان کی جاب لگ گئی ہے۔ کچھ دن پہلے میری امی نے ناراض ہو کر بولا کہ تم اس سے بات نہیں کرو اور نہ بچوں سے بات کرواؤ، کیونکہ وہ خرچہ صحیح سے نہیں بھیج رہے تھے۔ اس بات پر وہ بہت غصہ ہوئے اور تیسرے بندے کو انہوں نے بولا کہ میں نے ان ماں اور بیٹی (یعنی مجھے اور میری امی) کو فارغ کر دیا ہے اور یہ بھی بولا کہ اگر میں ان کا ساتھ نہیں دوں گی تو میرا، اُن کا کوئی واسطہ نہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے ایسا بولا ہے تو میسج پر انہوں نے بولا کہ تم لوگ میری طرف سے فارغ ہو اگر تم لوگ میرے بچوں سے میری بات نہیں کرواؤ گے تو میرے کس کام کے؟ لوگ سے مراد میں اور میری امی ہیں۔

           چار سال میں ان کے ساتھ رہی ہوں چھوڑنے کی باتیں ہی کی ہیں:۱) مجھے تمہاری ضرورت نہیں۔ ۲) تمہاری کمائی مجھ پر حرام ہے۔ ۳)جاؤ اپنی ماں کے ساتھ رہو۔ جب ان سے پوچھا جائے کہ تم نے طلاق دی ہے تو صاف انکار کر دیتے ہیں کہ میں صرف دھمکی دیتا تھا میں نے کوئی طلاق نہیں دی ہے ،مانتے نہیں ہیں ایک بھی۔

           مفتی صاحب آپ اس مسئلے کا مکمل تجزیہ کر کے بتائیں کہ طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں اور میں ان کے ساتھ مستقبل میں رہ سکتی ہوں یا نہیں ؟ میرے دو بچے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

        واضح رہے کہ طلاق ماضی یا حال کے الفاظ سے واقع ہوتی ہے، مستقبل کے الفاظ سے طلاق دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، یہ صرف طلاق کی دھمکی ہے۔لہٰذا ’’تمہیں چھوڑ دوں گا‘‘ اور ’’طلاق دے دوں گا‘‘ کے الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔

        طلاق دینے کے لیے جو الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں وہ یا توصریح ہوں گے یا کنایہ، صریح الفاظ سے طلاق دینے سے ایک طلاق ِرجعی واقع ہوتی ہے، چاہے طلاق کی نیت ہو یا نہ ہو،یعنی شوہر کے پاس عدت کے اندر بغیر نکاح کے رجوع کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔کنایہ الفاظ سے طلاق دینے سے طلاقِ بائن واقع ہوتی ہے،یعنی نکاح فوراً ختم ہوجاتا ہے اور رجوع کرنے کے لیے گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہوتا ہے۔البتہ ان الفاظ سے طلادینے کے لیے ضروری ہے کہ شوہر کی طلاق دینے کی نیت ہو یا مذاکرہ طلاق یا مطالبہ طلاق ہو۔اس تفصیل کے بعد؛

’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘طلاق کے معنیٰ میں صریح ہے، ان الفاظ سے طلاق کی نیت کے بغیر بھی طلاقِ رجعی واقع ہوجاتی ہے، لہٰذا  ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے۔

        ’’میں تمہیں چھوڑ رہا ہوں‘‘ یہ الفاظ بھی طلاق کے معنیٰ میں صریح ہیں اور بغیر نیت کے ان سے بھی طلاقِ رجعی واقع ہوجاتی ہے، ان سے دوسری طلاقِ رجعی واقع ہوگئی ہے۔

        ’’ان ماں اور بیٹی کو فارغ کردیا ہے‘‘ اور ’’میرا  تم سے کوئی واسطہ نہیں‘‘ یہ الفاظ کہتے ہوئے اگر آپ کے شوہر کی نیت طلاق دینے کی تھی یا لڑائی جھگڑے کے دوران یہ الفاظ کہے تو ان سے بھی ایک طلاق بائن واقع ہوگئی اور یہ تیسری طلاق ہوگی، لیکن اگر یہ الفاظ طلاق کی نیت سے نہیں کہے تھے تو ان سے طلاق نہیں ہوگی۔

دو طلاقیں واقع ہوچکی ہیں  اور دوسری طلاق کے بعد اگر شوہر نے رجوع کرلیا تھا تو آپ اس کے ساتھ رہ سکتی ہیں لیکن اگر رجوع نہیں کیا تھا اور عدت بھی گزر گئی، اب ساتھ رہنے کے لیے گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا  ضروری ہے۔۔۔۔۔۔ واللہ اعلم

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 354)

وهو كأنت طالق ومطلقة وطلقتك وتقع واحدة رجعية وإن نوى الأكثر أو الإبانة أو لم ينو شيئا كذا في الكنز.

الفتاوى الهندية (1/ 376)

ولو قال لم يبق بيني وبينك شيء ونوى به الطلاق لا يقع وفي الفتاوى لم يبق بيني وبينك عمل ونوى يقع كذا في العتابية.

الفتاوى الهندية (1/ 384)

لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا.

الجوهرة النيرة (4/ 119)

( فإن لم يكن له نية لم يقع بهذه الألفاظ طلاق إلا أن يكونا في مذاكرة الطلاق ) ، وهو أن تطالبه بالطلاق أو تطالبه بطلاق غيرها قوله ( فيقع بها الطلاق في القضاء ولا يقع فيما بينه وبين الله تعالى إلا أن ينويه ) أما إذا كانا في مذاكرة الطلاق فإنه يقع بكل لفظة تدل على الفرقة كقوله أنت حرام وأمرك بيدك واختاري واعتدي وأنت خلية وبرية وبائن ؛ لأن هذه الألفاظ لما خرجت جوابا لسؤالها الطلاق كان ذلك طلاقا في الظاهر وإنما لم يقع فيما بينه وبين الله تعالى ؛ لأنه يحتمل أن يكون جوابا لها ويحتمل أن يكون ابتداء فلا يقع إلا بالنية .

عمر فاروق

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

۲۳/رجب الخیر/۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عمرفاروق بن فرقان احمد آفاق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب