| 81131 | خرید و فروخت کے احکام | قرض اور دین سے متعلق مسائل |
سوال
میں نے ایک بندہ کو 58رتی سونا قرض دیا تھا ابھی اس سے اسی مقدارکاسونا بطور قرض واپسی مانگتاہوں لیکن وہ نہیں دیتا اور کہتاہے کہ اس میں سود آتاہے، کیونکہ ابھی سونے کا نرخ بڑھ گیا ہے۔ کیا میرا یہ مطالبہ صحیح ہے یا واقعی اس میں سود آتاہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سونا بطور قرض دینا جائز ہے، جتنے وزن اور کیرٹ کا سونا قرض دیا ہو واپس دیتے ہوئے بھی اتنے ہی وزن اور کیرٹ کا ہو، کمی بیشی جائز نہیں۔ قرض کا تعلق سونے کی مقدار سے ہے نا کہ اس کی قیمت سے، لہٰذا قیمت کے اتار چڑھاؤ سے سود لازم نہیں آئے گا۔
حوالہ جات
رد المحتار (20/ 79)
وكذلك لو قال أقرضني عشرة دراهم غلة بدينار ، فأعطاه عشرة دراهم فعليه مثلها ، ولا ينظر إلى غلاء الدراهم ، ولا إلى رخصها ، وكذلك كل ما يكال ويوزن فالقرض فيه جائز ، وكذلك ما يعد من البيض والجوز ا هـ وفي الفتاوى الهندية : استقرض حنطة فأعطى مثلها بعدما تغير سعرها يجبر المقرض على القبول.
عمر فاروق
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
۶/صفر الخیر/۱۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عمرفاروق بن فرقان احمد آفاق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


