03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کرپٹو اور فاریکس
81028جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیا کرپٹو اور فاریکس ٹریڈنگ حلال ہیں؟ ان کی آن لائن ٹریڈنگ کرنا کیسا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

      کرپٹو کرنسی کے متعلق علماء کی تین طرح کی آراء ملتی ہیں۔ پہلی رائے اس کے مطلقا ناجائز ہونے کی ہے۔ دوسری رائے توقف کی ہے یعنی جب تک اس کے متعلق تمام تر صورتحال واضح نہیں ہوجاتی  اس کو جائز یا ناجائز نہیں کہا جاسکتا۔ اور تیسری رائے کے مطابق کرپٹو کرنسی کا استعمال اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ حکومتی قوانین کے تحت ہو۔

کرپٹو کرنسی اور دوسری ڈیجیٹل کرنسیوں کا کوئی حسی وجود نہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی قانونی کوئی حیثیت نہیں ہے، اس لیے بحالتِ موجودہ اس کے لین دین سے احتراز لازم ہے۔

            آن لائن فاریکس ٹریڈنگ کا اصولی حکم یہ ہے کہ کرنسی اور سونے کی خرید و فروخت کے لیے تین شرائط کا پایا جانا ضروری ہے :

1 :اس کی لین دین حقیقی ہو، فقط اکاؤنٹ میں ظاہر نہ کی جاتی ہو۔

2  :اسے بیچنے والا اس کا حقیقتاً مالک بھی ہو اور بیچنے والے نے اس پر قبضہ بھی کیا ہو۔

3:لین دین کی مجلس میں ہی کسی ایک کرنسی پر حقیقتاً یا حکماً  قبضہ کر لیا جائے۔

            اسی طرح تیل کی خرید و فروخت کے لیے بھی دو شرائط کا پایا جانا لازمی ہے:

1:اس کی لین دین حقیقی ہو، فقط اکاؤنٹ میں ظاہر نہ کیا جاتا ہو۔

2   :اسے بیچنے والا اس کا حقیقتاً مالک بھی ہو اور بیچنے والے نے اس پر قبضہ بھی کیا ہو۔

آن لائن فاریکس ایکسچینج کے مروجہ ماڈل میں نہ تو حقیقتاً لین دین ہوتی ہے اور نہ ہی قبضہ ہوتا ہے۔ لہذا ایسی ویب سائٹس پر کام کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر کسی آن لائن فاریکس ایکسچینج کے طریقہ کار کی نگرانی مستند علماء کرام  کر رہے ہوں اور انہوں نے تحریراً اس بات کی گواہی دی ہو کہ اس کا طریقہ کار شرعاً درست ہے تو اس پر کام کرنا جائز ہوگا۔(تبویب 73691)

حوالہ جات

صحيح مسلم (3/ 1219):

عن النعمان بن بشير، قال: سمعته يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: - وأهوى النعمان بإصبعيه إلى أذنيه - «إن الحلال بين، وإن الحرام بين، وبينهما مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس، فمن اتقى الشبهات استبرأ لدينه، وعرضه، ومن وقع في الشبهات وقع في الحرام ».

سنن النسائي (8/ 327):

عن أبي الحوراء السعدي، قال: قلت للحسن بن علي رضي الله عنهما: ما حفظت من رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: حفظت منه: «دع ما يريبك إلى ما لا يريبك».

محمد فرحان

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

21/محرم الحرام/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فرحان بن محمد سلیم

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب