03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مشترکہ مکانات میں ذاتی کام کرنے یا اپنے نام کرنے کی صورت میں تقسیم وراثت کا حکم
81313میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہم دو بھائی سعودیہ میں کام کے لیے گئے وہاں سے جو بھی تنخواہ ملتی ابا کو پاکستان روانہ کر دیا کرتے تھے جس مکان میں ہم رہ رہے تھے وہ مشترکہ مکان تھا، میرے والد اور ان کے چھوٹے بھائی کے درمیان۔وقت رہتے ہیں ہم نے میرے چاچا کو ایک علیحدہ مکان خرید کر دیا اور جو مشترکہ مکان کے کاغذ تھے وہ سارے ہم نے اپنے والد کے نام پر منتقل کروا دیے، اس کے بعد ہم نے ایک اور فلیٹ شادی کے مقصد کے لیے خریدا ۔شادی کے کچھ عرصے بعد میں اور میرا بھائی دوبارہ سعودیہ چلے گئے ،سعودیہ جانے کے بعد میرا بڑا بھائی نوکری چھوڑ کر واپس پاکستان آگیا دو ماہ بعد۔ میری اور میرے بھائی کی فیملی ایک ساتھ رہتے تھے ،میرے والد کے گھر میں اور ہمارا کھانا پینا سب ساتھ تھا، اس دوران میرے بھائی اور والد نے میری مشاورت کے بغیر فلیٹ فروخت کر دیا اور اس فلیٹ کی کچھ رقم سے پلاٹ خریدا جس کے کاغذ میرے والد کے نام پر تھے، اسی دوران میرا بھی معاہدہ ختم ہو گیا تو میں بھی پاکستان واپس آگیا۔ وقت گزرنے کے بعد ہم نے نئے پلاٹ کا کام مکمل کروایا اور مکان مکمل ہونے کے بعد میرا بڑا بھائی والدہ کے ساتھ نئے مکان میں شفٹ ہو گئے اور میرے والد اور میں اپنی فیملی کے ساتھ پرانے گھر میں رہتے رہے میرے والد ہمیشہ نصیحت کرتے تھے کہ تم دونوں بھائی جس گھر میں رہ رہے ہو تم اس کو اپنے نام پر کروا لو پر ہم نے اس وقت مکان اپنے نام پر نہیں کروائے اور اس دوران ہمارے والد کا انتقال ہو گیا ہمارے والد کا جو پرانا مکان تھا وہ میں نے والدہ کے نام پر کروا دیا اور نیا مکان جو میرے والد کے نام پر تھا میرے بڑے بھائی نے اس مکان کی پاور اف اٹرنی ہم سے دستخط کروا کر اپنے نام پر کروا لیے ہمیں اندھیرے میں رکھ کر۔ میرے والد کا پرانا مکان جو بالکل خستہ حال تھا اس میں میری بیوی نے اپنا زیور 45 تولہ بیچ کر تعمیر کروایا ،لیکن وہ مکان مشترکہ تھا، میری والدہ کا نام پر تھا ،اسی مکان کے حوالے سے میری چھوٹی بہن اور بڑے بھائی نے حصہ لینے سے زبانی طور پر معاف کر دیا تھا اور میری والدہ کی بھی یہی نصیحت کی کہ میری بڑی بیٹی کو حصہ دے دینا صرف اس مکان میں سے ۔سب اپنی بات پر قائم تھے، پر میں نے اپنی بیٹی کا نکاح ان کی مرضی کے خلاف جا کر کیا تو سارے بھائی بہن میرے خلاف ہو گئے، جب میں یہ مکان فروخت کرنا چاہ رہا ہوں تو میرا بڑا بھائی اور چھوٹی بہن صرف اس وجہ سے دوبارہ اپنے حصے کا تقاضہ کر رہے ہیں ۔جبکہ انہوں نے والدہ کی حیات ہی میں حصہ لینے سے زبانی طور پر منع کر دیا تھا۔ آپ سے گزارش ہے کہ اپ اس مسئلے پر روشنی ڈالیے کہ وراثت دو بھائی اور دو بہنوں میں کس طرح تقسیم ہوگی کہ کیا وراثت دو مکانوں میں سے تقسیم ہوگی؟ یا صرف ایک مکان میں سے؟ آپ اصلاح فرمائیں اس مسئلے پر، میں اس وقت کرائے کے گھر میں رہ رہا ہوں، کیونکہ میرے بیٹے کی جاب دوسرے شہر میں ہو گئی ہے تو اس لیے میں یہ مکان کرائے پر لگا کر دوسرے شہر میں رہ رہا ہوں اور میرے بھائی بہن اپنے ذاتی مکان میں رہ رہے ہیں۔ جزاک اللہ

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صرف کاغذات نام کرانے سے ملکیت ثابت نہیں ہوتی ،جب تک اصل مالک کسی کو باقاعدہ مالکانہ اختیارات کے ساتھ حوالگی کی تصریح نہ کرے اور عملا اس کو مکمل نہ کرے،لہذاوراثت دونوں مکانوں میں جاری ہوگی اور ان مکانوں پر جس قدر خرچہ کسی وراث وغیرہ نے اپنی ذاتی رقم سے خرچ کیا ہو تو اس قدر مالیت وراثت سے مستثنی ہوگی۔

حوالہ جات

۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۷صفر۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب