03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
باپ کے فوت ہونے پر معذور بچیوں کا ولی کون ہو گا؟
80843نکاح کا بیانولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان

سوال

غلام سرور کی دو بیٹیاں اور غلام عباس کی چار بیٹیوں میں سے دو بیٹیاں معذرو ہیں، غلام سرور اور غلام عباس دونوں کا انتقال ہو چکا ہے، اب ان کی وراثت تقسیم ہونی ہے، سوال یہ ہے کہ ان بچیوں کا ولی کون ہو گا؟ جو وراثت کا مال سنبھالے اور بچیوں کی نگہداشت کا ذمہ دار بھی ہو، بچیوں کی مائیں ، ان کے ماموں اور چچا زاد بھائی موجود ہیں۔ البتہ ان بچیوں کا دادا فوت ہو چکا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں اگر بچیاں نابالغ ہیں تو فقہائے کرام رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ اگر بچے کا باپ اور دادا موجود نہ ہو تو مال کی ولایت کسی اور رشتہ دار کو حاصل نہیں ہے، بلکہ اس صورت میں بچوں کے مال کا ولی قاضی ہو گا، لیکن چونکہ آج کل عدالت کی طرف سے یتیموں کے اموال کی حفاظت اور ان کی نگرانی کا کوئی انتظام نہیں ہے، اس لیے اب قاضی کے قائم مقام جماعت المسلمین ہو گی، لہذا محلے کے تین چار صالح اور سمجھدار آدمی (جن میں سے ایک یا دو عالم بھی ہوں اور ان میں فاسق کوئی نہ ہو، کیونکہ جماعت المسلین کی شرائط میں سے ہے کہ جماعت کے تمام ارکان صالح ہوں) آپس میں مشورہ کر کے اتفاقِ رائےسے کسی امانت دار اور صالح شخص کو اس کے مال کا نگران بنا دیں تو شرعاً اس کو ان بچیوں کے مال کی حفاظت اور ان پر خرچ کرنے کا اختیار ہو گا، نیز یہ جماعت ماں کو بھی ان بچیوں کے اموال کا ولی بنا سکتی ہے۔

جب یہ بچیاں بالغ ہو جائیں اور ان میں سمجھ بوجھ اور مالی معاملات کی کچھ بصیرت پیدا ہو جائے تو  یہ مال ان کے سپرد کر دیا جائے، البتہ اگر ان کو سمجھ بوجھ نہ ہو تو اس صورت میں بھی مال کا ولی وہی شخص ہو گا جس کو جماعت المسلمین نے مقرر کیا ہو۔

حوالہ جات

جامع الفصولين (2/ 9):

"وليس لغير أبيه وجده ووصيهما التصرف في ماله، وكذا لو وهب له فلمن هو في حجره قبضه لا إنفاقه عليه، لما مر".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين  (6/ 714) دار الفكر ، بيروت:

"الولاية في مال الصغير للأب ثم وصيه ثم وصي وصيه ولو بعد، فلو مات الأب ولم يوص فالولاية لأبي الأب ثم وصيه ثم وصي وصيه، فإن لم يكن فللقاضي ومنصوبه".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 76 دار الفكر , بيروت:

"(الولي في النكاح) لا المال (العصبة بنفسه) ...... (قوله: لا المال) فإن الولي فيه الأب ووصيه والجد ووصيه والقاضي ونائبه". فقط۔

"شرح مختصر خليل للخرشي" (4/ 198) دار الفكر ،بيروت:

"وجماعة المسلمين العدول يقومون مقام الحاكم في ذلك وفي كل أمر يتعذر الوصول إلى الحاكم أو لكونه غير عدل".

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

11/محرم الحرام1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب