| 81105 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ماسٹر عبد اللہ کے دوران سروس انتقال کر جانے کی وجہ سے درج ذیل فنڈز دیے جائیں گے:
1۔وہ فنڈ زجن کی کٹوتی تنخواہ سے ہوئی ہے:ا۔جی پی فنڈ ٢۔گریجویٹی فنڈ ٣۔ بینو لنٹ فنڈ ٤۔گروپ انشورنس شامل ہیں۔
2۔بعد از وفات جن کی کٹوتی تنخواہ سے نہیں ہوتی۔ ان میں1۔ دوسال دوماہ کی سیلری2۔ مالی امداد برائے بیوہ۔ 3۔ 60سال عمر پوری ہونے پر ماہانہ پنشن ۔ سوال یہ ہے کہ ان میں سے کون سے فنڈز ترکہ میں شمار ہوں گے؟ نیز مرحوم نے جی پی فنڈ کے لیے اپنی بیوی کو نامزد کیا تھا، کیا یہ فنڈ صرف بیوی کو ملے گا یا سب ورثاء اس میں شریک ہوں گے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ملازم کی وفات کے بعد گورنمنٹ کی طرف سے ملنے والے فنڈز کے بارے میں بطورِ تمہید درج ذیل نکات جانناضروری ہے، جومختلف ذرائع سے معلومات کے نتیجے میں حاصل ہوئے:
- جی پی فنڈ: ملازم کی اپنی تنخواہ سے کٹوتی کی ہوئی رقم ہوتی ہے ،کبھی یہ کٹوتی جبرا ہوتی ہے اور کبھی اختیاری، اس رقم کی ادائیگی ریٹائرمنٹ کے بعد کی جاتی ہے، ملازم ملازمت کے دوران بھی یہ رقم لے سکتا ہے، البتہ پھر وہ رقم واپس کرنا ضروری ہوتا ہے، تاکہ ریٹائرمنٹ کے بعد یکمشت رقم لے سکے، لیکن یہ بات طے ہے کہ جی پی فنڈ کی رقم پر ملازم کا استحقاق ثابت ہو جاتا ہے۔ نیزیہ رقم کسی متعین وارث کو نہیں دی جاتی، بلکہ اس میں سب ورثاء حق دار ہوتے ہیں۔
- بینوولنٹ فنڈ اور گروپ انشورنس: ان دونوں میں ایک معمولی رقم ملازم کی تنخواہ سے کاٹی جاتی ہے اوران دونوں فنڈزکے لیے بورڈ آف ٹرسٹیز قائم کیاجاتا ہے، یہ دونوں فنڈ ز اس بورڈ کی تحویل میں ہوتے ہیں اور اس بورڈ کے بارے میں ایکٹ بینوولنٹ فنڈ اینڈ گروپ انشورنس 1969ء کی دفعہ نمبر5 میں یہ تصریح کی گئی ہے کہ یہ ایک باڈی کارپوریٹ ہے، جو ایک شخصِ قانونی (LEGLE PERSON)کے طور پر جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ کا مالک بن سکتا ہے، خریدوفروخت کر سکتا ہے اور مقدمات میں مدعی اور مدعی علیہ بن سکتا ہے، لہذا ملازم کی طرف سے اس بورڈ کو دی جانے والی رقم تبرع شمار ہوکر اس بورڈ کی ملکیت میں داخل ہوتی ہے، جس کا مقصد یہ ہوتا ہےکہ ادارہ یہ رقم اپنے مجموعی فنڈ(جس میں مرکزی حکومت، دیگراداروں کی طرف سے دی گئی رقوم اور پرائیویٹ افراد اور اداروں کی طرف سے دیے گئے عطیات بھی شامل ہوتے ہیں) داخل کر کے مستحق ملازمین (خواہ وہ ان فنڈز کے استحقاق کے لیے اپنی تنخواہ سےکٹوتی کرواتے ہوں یا نہ) کا تعاون کرے، لہذا یہ فنڈ ملازمین کی شخصی یا اجتماعی ملکیت نہیں ہے اور نہ ہی کسی ملازم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ زندگی میں بہرصورت اس فنڈ میں کسی حصے کا مطالبہ کرے۔
اگر یہ کہا جائے کہ ان فنڈز میں جو رقم ملازم کی تنخواہ سے کاٹی جاتی ہے وہ تو اس کا حقِ لازم بن چکا ہے تو وہ تبرع کیسے ہوا؟ تو اس کا جواب یہ کہ ملازم کا معاہدہ کے وقت اس کٹوتی کی شرط کے ساتھ ملازمت کو قبول کرنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ اس پر راضی ہے کہ حکومت مخصوص مقدار میں اس کی تنخواہ سے کٹوتی کر کے اپنے اصول وضوابط کے مطابق مستحقین کو یہ رقم دے۔ لہذا اگرچہ یہ رقم ملازم کی تنخواہ سے عام طورپرجبریطور پر کاٹی جاتی ہے، مگر ملازم کا اس رقم پر استحقاق نہیں ہوتا، بلکہ بورڈ آف ٹرسٹیز اپنے اصول وضوابط کے مطابق اس فنڈ کو خرچ کرتا ہے اور اس کے حقدار صرف مستحق لوگ ہوتے ہیں۔
ان دونوں فنڈز میں فرق یہ ہے کہ بینوولنٹ فنڈ بعض خاص صورتوں جیسے ملازم کی جسمانی یا ذہنی معذوری، بچوں کی تعلیم وغیرہ کے لیے دیاجاتا ہے یا دورانِ ملازمت فوت ہونے کی صورت میں اس کی فیملی کو ملتا ہے، جبکہ گروپ انشورنس کی رقم ملازم کی فیملی کو ملازم کی صرف وفات کی صورت میں دی جاتی ہے، خواہ اس کا انتقال دورانِ ملازمت ہو یا ریٹائرمنٹ کے بعد۔ البتہ ان میں اتنی بات مشترک ہے کہ اگر کوئی ملازم ان دونوں فنڈز میں اپنی تنخواہ سے کٹوتی نہ کروائے تو بھی اس کی فیملی کو قانون کے مطابق یہ فنڈز بطورِ تعاون عطیہ دیے جاتے ہیں۔(ماخذہ بتصرف عدالتی فیصلے ج:2ص213تا217 از مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم)
واضح رہے کہ یہاں تنخواہ سے کٹوتی کے عوض فنڈ دینے پر عقدِ معاوضہ کا اشکال وارد نہیں ہوتا، کیونکہ یہ فنڈ ان ملازمین کو بھی ملتا ہے جو اپنی سستی یا کوتاہی کی بنیاد پر تنخواہ سے کٹوتی نہ کرواتے ہوں، البتہ ایسے ملازمین کو دیتے وقت اتنی رقم کاٹ لی جاتی ہے جتنی تنخواہ سے کٹوانا ضروری تھا۔ دوسری بات یہ کہ اس فنڈ میں صرف ملازمین کی تنخواہ کی کٹوتی شامل نہیں ہوتی، بلکہ اس میں مرکزی حکومت اور دیگر خود مختار اداروں کی دی ہوئی گرانٹ اور عطیات بھی شامل ہوتے ہیں۔
البتہ یہ حکم صرف حکومتی اداروں کے ملازمین کو ملنے والے بینوولنٹ فنڈ اور گروپ انشورنس کا ہے، اگر کوئی پرایئویٹ ادارہ اپنے ملازمین کو یہ فنڈز دے تو اس کے اصول وضوابط کے مطابق حکم لگے گا۔
- گریجویٹی اور پنشن: ملازم کے ریٹائر ہونے کے بعد دو قسم کی رقوم اس کو بطورِ عطیہ دی جاتی ہیں، ان میں سے ایک ریٹائر منٹ کے فوراً بعد یکمشت دے دی جاتی ہے، جس کو عام طور پرگریجویٹی(Gradguate)کہا جاتا ہے اور دوسری ماہانہ ملنے والی رقم ہوتی ہے،جس کوعرف میں پنشن(Pension) کہتے ہیں، لیکن قانون کی زبان میں گریجویٹی اور پنشن دونوں لفظ ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں، اسی لیے دونوں کا قانون بھی ایک ہی ہے اور ان دونوں میں ملازم کی تنخواہ سے کسی قسم کی کوئی کٹوتی نہیں ہوتی، بلکہ یہ دونوں رقوم ملازم کی ادارے میں عرصہ دراز تک خدمات انجام دینے کے نتیجے میں بطورِعطیہ دی جاتی ہیں، ان دونوں فنڈز سے متعلق قانون یہ ہے کہ جب کوئی ملازم کسی کمپنی یا ادارے میں ایک مخصوص مدت مثلا: پانچ سال تک ملازمت مکمل کرلیتا ہے تو اس کوگریجویٹی ایکٹ 1972ء کے تحت یہ رقوم ادا کی جاتی ہیں، پھر ان رقوم کی مقدار اور وصولی کے استحقاق کے سلسلہ میں ہرصوبے کے اپنے اصول اور قوانین ہیں، ان رقوم کی مقدار عام طور پر ملازم کی بنیادی تنخواہ (Basic Salary)، گریڈ اور خدمات کے سالوں کو مدِ نظر رکھ کر فارمولا کے تحت طے کی جاتی ہے، جس میں سے تقریباًتیس سے پینتیس فیصد (35%) رقم ریٹائرمنٹ یا دورانِ سروس فوت ہونے کےفوراً بعد یکمشت دی جاتی ہے اور بقیہ تقریباً پینسٹھ فیصد (65%) تا حیات ملازم کو ماہانہ دی جاتی ہے۔
گریجویٹی اور پنشن کے حقِ لازم ہونے یا نہ ہونے کے سلسلہ میں وکلاء اور متعلقہ افراد سے معلومات کی گئیں تو معلوم ہوا کہ قانون کے اعتبار سے یہ دونوں رقوم عطیہ اور حقِ لازم ہیں اور ان کامقصد ملازم کی زندگی میں محض اس کی کفالت کرنا اوراس کے فوت ہونے کے بعد ان لوگوں کی کفالت کرنا ہوتا ہے کہ جن کا نفقہ ملازم کے ذمہ واجب تھا جیسے بیوی اور اس کےبعد اس کے خاندان کےوہ افراد حق دار ہوتے ہیں جو غریب اور مستحق ہوں، پنشن اور گریجویٹی کے استحقاق کے لیے قانون میں متعین کے گئے افراد کی تفصیل درج ذیل ہے:
4.7: گریجویٹی میں خاندان کی تعریف میں درج ذيل لوگوں کو شامل کیا گیا:
- بیوی ایک ہوں یا زیادہ۔
- خاوند، جب بیوی ملازمہ ہو۔
- اولاد یعنی بیٹے اور بیٹیاں۔
- مرحوم بیٹے کی بیوہ اور اولاد۔
4.8: ملازم کے خاندان میں قانوناً درج ذیل لوگ شامل نہیں:
- بیٹے جن کی عمر چوبیس سال ہو چکی ہو۔
- مرحوم بیٹے کی اولاد جو چوبیس کی عمر کو پہنچ چکی ہو۔
- بیٹی جو شادی شدہ ہو اور اس کا خاوند زندہ ہو۔
- مرحوم بیٹے کی شادی شدہ بیٹی جس کا شوہر زندہ ہو۔
اگراولاد اور بیوی نہ ہو تو مال درج ذیل لوگوں کو ملے گا:
- بھائی جو اکیس سال سے کم ہو۔
- غیرشادی شدہ بہن اور بیوہ بہن۔
- والدین یعنی ماں اور باپ
4.10: پنشن اولاً بیوہ کو ملے گی، پھر اگر بیوہ اور بچے ملا کر چار یا چار سے کم ہوں تو پنشن سب میں برابر تقسیم ہو گی، اگر بیویاں زیادہ ہوں تو ہر ایک بیوی کو 1/4حصہ ملے گا اور بچ جانے والی رقم اولاد میں برابر تقسیم ہو گی۔ چنانچہ قانون کی عبارت حاشیہ میں ملاحظہ فرمائیں۔[1]
مذکورہ بالا تفصیل سے معلوم ہوا کہ ماہانہ پنشن اور گریجویٹی میں اتنی بات مشترک ہے کہ یہ دونوں رقوم حکومت کی طرف سے عطیہ ہے، البتہ یہ عطیہ بلا عوض نہیں، بلکہ مخصوص مدت تک ملازمت کرنے کے ساتھ مشروط ہے، اسی لیےمخصوص مدت پوری کرنے کے بعد قانوناً یہ حقِ مؤکد (لازم) ہوتا ہے ، چنانچہ اگر کوئی شخص ملازمت کی مخصوص مدت پوری کرنے کے بعد یہ رقم لینا چاہے تو ملازمت سے دستبردار ہو کر یہ رقوم وصول کر سکتا ہے اور ادارے کے نہ دینے کی صورت میں عدالت سے رجوع کرنے کا بھی حق ہے۔
البتہ ماہانہ پنشن اور گریجویٹی میں فرق یہ ہے کہ گریجویٹی کی رقم چونکہ یکمشت مل جاتی ہے اور ملازم زندگی میں مکمل رقم کے مطالبہ کا حق دار ہوتا ہے، اور شرعاً ترکہ کا اطلاق جیسے آدمی کے ملکیتی اثاثوں پر ہوتا ہے، اسی طرح حقوقِ لازمہ پر بھی صادق آتا ہے۔اس لیے اگرچہ حکومت کی طرف سے گریجویٹی مخصوص مقاصد کے پیشِ نظر متعین افراد کے نام سے جاری کی جاتی ہے، لیکن شرعاً حقِ لازم ہونے کی وجہ سے گریجویٹی کو مکمل طور پرترکہ شمار کیا جائے گا اور ملازم کے تمام ورثاء اپنے شرعی حصوں کے مطابق اس کے حق دار ہوتے ہیں، خواہ ملازم کا دورانِ سروس انتقال ہو جائے یا وہ ملازمت کی مدت پوری کر کے ریٹائر ہو جائے۔
جبکہ ماہانہ ملنے والی پنشن قانونًا ریٹائرمنٹ کے بعدمہینہ پورا ہونے سے پہلے حقِ لازم نہیں ہوتی، بلکہ مہینہ گزرنے کے ساتھ ساتھ حقِ لازم بنتی ہے، یہی وجہ ہے کہ مہینہ پورا ہونے سے پہلے ملازم کو اس کے مطالبے کا حق نہیں حاصل ہوتا، اسی طرح مہینہ گزرنے کے بعد بھی صرف گزشتہ مہینے کی پنشن کے مطالبے کا حق ہوتا ہے، آئندہ مہینوں کی پنشن کا مطالبہ ملازم نہیں کر سکتا، اس سے معلوم ہوا کہ آئندہ مہینوں کی پنشن ملازم کا حقِ لازم نہیں بنی تھی، لہذا اگرملازم کی وفات ہوجائےتو آنے والے مہینوں کی پنشن اس کا ترکہ نہیں شمار ہو گی، بلکہ وہ قانون کے مطابق متعین افراد کے لیے عطیہ شمار ہو گی، اگرچہ اس عطیہ کا سبب اس کی ملازمت ہے، لیکن صرف سبب کی وجہ سے اس پر ترکہ کا حکم نہیں لگایا جا سکتا، چنانچہ حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمہ اللہ امداد الفتاوی میں ماہانہ پنشن سے متعلق ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:
’’چوں کہ میراث مملوکہ اموال میں جاری ہوتی ہے اور یہ وظیفہ محض تبرع واحسانِ سرکار ہے، بدون قبضہ کے مملوک نہیں ہوتا، لہذا آئندہ جو وظیفہ ملے گا اس میں میراث جاری نہیں ہوگی، سرکار کو اختیار ہے جس طرح چاہے تقسیم کردے‘‘۔ (امداد الفتاوی:343/4، ط: دارالعلوم)
اس کے علاوہ دیگر اردو فتاوی میں بھی ماہانہ پنشن کو ترکہ شمار نہیں کیا گیا، البتہ اگر ملازم اپنی زندگی میں کسی عذر وغیرہ کی وجہ سے کئی مہینے تک ماہانہ پنشن وصول نہ کر سکے اور وصولی سے پہلے اس کا انتقال ہو جائے تو گزشتہ مہینوں کی پنشن حقِ لازم ہونے کی وجہ سے ترکہ میں شامل ہو کر ملازم کے تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گی۔
یہاں یہ بات یاد رہے کہ چونکہ یہ پنشن عطیہ محضہ نہیں، بلکہ یہ مشروط بالعمل ہے، کیونکہ ملازمت کے معاہدے میں باقاعدہ تصریح ہوتی ہے کہ اتنی مدت تک یہ ملازمت کرو گے تو پنشن اور گریجویٹی ملے گی، ورنہ نہیں، اسی بنیاد پر ملازم کو قانونا اس کے مطالبے کا بھی حق حاصل ہوتا ہے، اس لیے اگر یہ پنشن کسی حرام اور ناجائز ملازمت کے سبب مل رہی ہو تو اس کا لینا مکروہ تحریمی ہو گا، کیونکہ قانوناً حقِ لازم ہونے کی وجہ سے اس صورت میں یہ ناجائز عمل کے نتیجہ میں ہی متصور ہو گی اور اس کا لینا درست نہ ہو گا۔
- لیو ان کیشمنٹ (Leave Encashment):لیو ان کیشمنٹ کی رقم دراصل ملازم کی ان تعطیلات کا معاوضہ ہوتی ہے جو تعطیلات(تنخواہ کے ساتھ) ملازم کا حق تھا، مگر اس نے رخصت لینے کی بجائے ان تعطیلات میں بھی کام کیا تو ادارے کی طرف سے ان کی تنخواہ بھی ملازم کو ریٹارمنٹ کے بعد دی جاتی ہے۔ اسی طرح ماہانہ تنخواہ (Salary) بھی ملازم کاحقِ لازم ہے، اگرچہ اس کی وصولی وفات کے بعد کی جائے۔
اس تمہید کے بعد سوال کا جواب یہ ہے کہ سوال میں ذکرکیے گئے فنڈز میں سے جی پی فنڈ، گریجویٹی، ليو انكيشمنٹ اور بقیہ ماہانہ سیلری(Salary)کی رقم پیچھے ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گی، کیونکہ یہ رقوم زندگی میں ملازم کا حقِ لازم بن چکا تھا، البتہ جی پی فنڈ کی رقم میں اگر اپنے اختیار سے کٹوتی کروائی گئی ہو تو اس صورت میں اضافی ملنے والی رقم کو صدقہ کرنا بہتر ہے،لازم نہیں۔
لہذا جی پی فنڈ کی رقم بھی بہرصورت (اگرچہ ملازم نے زندگی میں اس کی وصولی کے کسی فرد کو متعین کر دیا ہو) ترکہ میں ہی شامل ہو گی، کیونکہ یہ درحقیقت ملازم کی اجرتِ مؤجلہ(بعد میں دی جانے والی اجرت) ہے، جو حکومت کے ذمہ بطورِ دین (علامہ کاسانی رحمہ اللہ کی تصریح کے مطابق یہ دینِ متوسط ہے) واجب تھی، جس کی ادائیگی قانونی طور پر بہر صورت حکومت کے ذمہ واجب تھی اور یہ ملازم کا حقِ لازم بن چکا تھا، اس لیے اگر ملازم کسی وارث کو متعین کر جائے تو بھی اس میں تمام ورثاء شریک ہوں گے، جیسا کہ اپنی دیگر متروکہ جائیداد کے بارے میں کوئی شخص یہ کہہ جائے کہ میرا یہ مال فلاں وارث کو ہی دیا جائے تو شریعت نے اس کا اعتبار نہیں کیا، بلکہ دیگر ورثاء کو بھی ان کے شرعی حصوں کے مطابق اس میں حق دار ٹھہرایا ہے۔
اس کے علاوہ مرحوم کی بیوہ کو بطورِ امداد دی جانے والی رقم، ماہانہ ملنے والی پنشن، بینوولنٹ فنڈ اورگروپ انشورنس کی رقم پر ملازم کا زندگی میں استحقاق ثابت نہیں ہوتا،(بشرطیکہ مرحوم سرکاری ملازم ہو، اگر کسی پرائیوٹ ادارے کا ملازم ہو تو اس کے اصول وضوابط کے مطابق حکم لگے گا) اس لیے یہ رقم ادارہ اپنے اصول وضوابط کے مطابق جس کو ادارہ مالک بنا کر یہ رقم دےگاوہی اس کا مالک ہو گا، تمام ورثاء اس کے حق دار نہیں ہوں گے، نیز گروپ انشورنس میں ملازم کی تنخواہ سے کاٹی جانے والی اور جو اضافی رقم بورڈ آف ٹرسٹی نے ملازم کی طرف سے انشورنس کمپنی کے پاس جمع کروائی ہو اتنی رقم ورثاء کے لیے لینا تو بہرحال جائز ہے، اس کے علاوہ انشورنس کمپنی کی طرف سے دی جانے والی اضافی رقم کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اگر حکومتی ادارہ انشورنس کمپنی سے وصول کر کے اپنے خزانہ(مشتركہ اکاؤنٹ) میں شامل کر کے دے تو اس کا لینا جائز ہے، لیکن اگر یہ رقم انشورنس کمپنی سے خود وصول کرنا پڑتی ہو تو اس صورت میں یہ رقم لینا جائز نہیں، کیونکہ انشورنس کمپنی کی طرف سے بلاواسطہ دی جانے والی اضافی رقم سود اور جوئے کا عنصر پائے جانے کی وجہ سے حرام ہے۔
[1]The Punjab Civil Services Pension Rules.
B - GRATUITY 4.7 (1) The term “family” for the purpose of payment of gratuity under this section shall include the following relatives of the Government servants- (a) (b) (c) (d) Wife or wives, in the case of a male Government servant; Husband in the case of a female Government servant; Children of the Government servant; Widow or widows and children of a deceased son of the Government servant.
4.8 When the amount of gratuity has become payable, it shall be the duty of the Accounts Officer to make payment according to the following procedure: (a) The amount of the gratuity or any part thereof, to which the nomination relates, shall become payable to his/her nominee or nominees in the proportion specified in the nomination. (b) If nomination relates only to a part of the amount of the gratuity, the part to which it does not relates shall be distributed equally only among the members of the family other than the nominees; (c) If no valid nomination subsists, the whole amount of the gratuity shall become payable to the members of his/her family in equal shares;
Provided that in case of (b) or (c) above no share shall be payable to - (i) sons who have attained the age of 24 years; (ii) (iii) (iv) sons of a deceased son who have attained the age of 24 years; married daughters whose husbands are alive; and married daughters of a deceased son where husbands are alive;
4.10: Family for the purpose of payment of family pension shall be as defined in sub-rule: (1) of rule 4.7. It shall also include the Government Servant's relatives mentioned in clause (d) of rule 4.8.
(2) (A) A family pension sanctioned under this section shall be allowed as under: (i) (a) To the widow of the deceased, if the deceased is a male Government servant, or to the husband, if the deceased is a female Government servant. (b) If the Government servant had more than one wife, and the number of his surviving widows and children does not exceed 4, the pension shall be divided equally among the surviving widows and eligible children. If the number of surviving widows and children together is more than 4, the pension shall be divided in the following manner, viz. each surviving widow shall get 1/4th of the pension and the balance (if any) shall be divided equally among the surviving eligible children. Distribution in the above manner shall also take place whenever the Government servant leaves behind surviving children of a wife that has predeceased him in addition to the widow and her children, if any. (c) In the case of a female Government servant leaving behind children from a former marriage in addition to her husband and children by her surviving husband, the amount of pension shall be divided equally among the husband and all eligible children. In case the total number of beneficiaries exceeds four, the husband shall be allowed 1/4th of the pension and the remaining amount distributed equally among the eligible children.
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 759) دار الفكر-بيروت:
(يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها كالرهن والعبد الجاني) والمأذون المديون والمبيع المحبوس بالثمن والدار المستأجرة.
قال ابن عابدين: (قوله الخالية إلخ) صفة كاشفة لأن تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية. واعلم أنه يدخل في التركة
الدية الواجبة بالقتل الخطأ أو بالصلح عن العمد أو بانقلاب القصاص مالا بعفو بعض الأولياء، فتقضى منه ديون الميت وتنفذ وصاياه كما في الذخيرة.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 518) دار الفكر-بيروت:
قال: في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها. أقول: وكذا لا تضمن بالإتلاف قال: في شرح الزيادات للسرخسي وإتلاف مجرد الحق لا يوجب الضمان؛ لأن الاعتياض عن مجرد الحق باطل إلا إذا فوت حقا مؤكدا، فإنه يلحق بتفويت حقيقة الملك في حق الضمان كحق المرتهن؛ ولذا لا يضمن بإتلاف شيء من الغنيمة أو وطء جارية منها قبل الإحراز؛ لأن الفائت مجرد الحق وإنه غير مضمون وبعد الإحراز بدار الإسلام، ولو قبل القسمة يضمن لتفويت حقيقة الملك ويجب عليه القيمة في قتله عبدا من الغنيمة يعد الإحراز في ثلاث سنين بيري، وأراد بقوله لتفويت حقيقة الملك الحق المؤكد إذ لا تحصل حقيقة الملك إلا بعد القسمة كما مر.
(وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم (و) عند قبض (مائتين منه لغيرها) أي من بدل مال لغير تجارة وهو المتوسط كثمن سائمة وعبيد خدمة ونحوهما مما هو مشغول بحوائجه الأصلية كطعام وشراب وأملاك. ويعتبر ما مضى من الحول قبلالقبض في الأصح، ومثله ما لو ورث دينا على رجل (و) عند قبض (مائتين مع حولان الحول بعده) أي بعد القبض (من) دين ضعيف وهو (بدل غير مال) كمهر ودية وبدل كتابة وخلع.
درر الحكام شرح مجلة الأحكام (الکتاب العاشر الشرکات ،3/ 55،ط:دار الجلیل:
المادة (2 9 0 1) - (كما تكون أعيان المتوفى المتروكة مشتركة بين وارثيه على حسب حصصهم كذلك يكون الدين الذي له في ذمة آخر مشتركا بين وارثيه على حسب حصصهم) كما تكون أعيان المتوفى المتروكة مشتركة بين - وارثيه، على حسب حصصهم الإرثية بموجب علم الفرائض أو بين الموصى لهم بموجب أحكام المسائل المتعلقة بالوصية كذلك يكون الدين الذي له في ذمة آخر مشتركا بين ورثته على حسب حصصهم الإرثية أو بين الموصى لهم بموجب الوصية لأن هذا الدين ناشئ عن سبب واحد الذي هو الإرث
أو الوصية. وإن يكن أن سبب الدين حقيقة لم يكن الإرث والوصية بل سببه إقراض المورث أو الموصي لآخر أو بيعه أو إيجاره مالا لأن الدين كما عرف في المادة (581).
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (10/7697) (الفصل الأول، تعریف علم المیراث: 10/ 7697/ط:دار الفکر):
"الإرث لغةً: بقاء شخص بعد موت آخر بحيث يأخذ الباقي ما يخلفه الميت. و فقهاً: ما خلفه الميت من الأموال و الحقوق التي يستحقها بموته الوارث الشرعي."
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
28/محرم الحرام 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


