03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اسٹڈی لیو(Study Leave)کے دوران کسی جگہ ملازمت کرنے کا حکم
80713اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

ایک بندہ محکمہ تعلیم میں سرکاری ملازم ہے اور وہ اپنے محکمے سے پی، ایچ ڈی کے لئے " سٹیڈی لیو " لیتا ہے ، جو کہ چار (4) سال تک مل سکتی ہے،ان چھٹیوں کے دوران ملازم اپنی ڈیوٹی سے مکمل فارغ ہوتا ہے۔ حکومت ان چھٹیوں کے دوران ایک خاص مقررہ تناسب سےتنخواہ دیتی ہے جو کہ ریگولر ماہانہ ملنے والی تنخواہ سے مختلف ہوتی ہے، ریگولر تنخواہ چھٹی شروع ہوتے ہی بند ہو جاتی ہے۔ ان چھٹیوں میں ملنی والی تنخواہ ( جس کو لیو سیلیری کہا جاتا ہے) کا باقاعدہ الگ سے ایک بجٹ منظور کرانا پڑتا ہے، بجٹ منظور ہونے پر یہ تنخواہ یک مشت مل جاتی ہے وگرنہ تنخواہ بند ہی رہتی ہے، محکمہ چھٹی دینے سے پہلے اسٹامپ پیپر پر ایک بیان حلفی بھی لیتا ہے کہ وہ بندہ پی، ایچ، ڈی کی تکمیل کے بعد کم از کم 5 سال تک اسی محکمہ میں ہی رہے گا ،بصورت دیگر ملنے والی تنخواہ واپس کرنی پڑے گی۔ محکمہ عموماً اتنی لمبی چھٹی دیتا نہیں ہے اگر مل بھی جائے (جس کو “Extraordinary leave with out pay” کہا جاتا ہے) تو ان چھٹیوں کی تنخواہ نہیں ملتی اور چھٹی کے دوران سروس بھی شمار نہیں ہوتی، جبکہ سٹیڈی لیو میں ایسا نہیں ہوتا۔ اسٹڈی لیو د ینے سے محکمے کا مقصد یہ ہے کہ اس کے اراکین پی، ایچ ڈی کر کے مختلف فنون میں مہارت حاصل کریں، تاکہ ادارے کو کو ترقی ہو،  البتہ اس کے لئے باقاعدہ تحریری معاہدہ نہیں ہوتا کہ اس دوران ملازم کوئی اور ملازمت کر سکتا ہے یا نہیں۔بلکہ ایک عام قانون ہے جو تمام سرکاری ملازمین کے لئے ہے کہ سرکاری ملازم دوسری کوئی اور ملازمت نہیں کر سکتا، جس کے خلاف مفتیان کرام کا فتوی موجود ہے کہ وہ اجیر خاص ہے، صرف مقررہ وقت کا پابند ہے،  اس کے علاوہ اوقات میں ملازمت کر سکتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ ایسا ملازم سٹیڈی لیو کے دوران صبح کے اوقات میں کوئی اور ملازمت کر سکتا ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں کر سکتا تو اس ملازمت کی جواز کی کوئی ممکنہ صورت ہو سکتی ہے تو وہ بھی بتادیجئے مثلاً شام کے اوقات میں کوئی ملازمت کرے وغیرہ۔

وضاحت: سائل نے بتایا کہ میری کلاسیں ہفتہ اتوار شام دو بجے سے پانچ بجے تک ہوتی ہیں، باقی وقت میں فارغ ہوتا ہوں، جبکہ میری ڈیوٹی کے اوقات صبح آٹھ بجے سے شروع ہو کر دوپہر دو بجے تک چھ گھنٹے  ہیں۔ باقی اسٹڈی لیو کے بارے میں دوسری جگہ ملازمت سے متعلق کوئی قانون نہیں ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں چونکہ حکومتی معاہدے کے مطابق آپ کی ڈیوٹی کا دورانیہ چھ گھنٹے ہیں، اس لیے ڈیوٹی کے دوران آپ انہی چھ گھنٹوں کے دوران کام کرنے کے پابند تھے اور اس وقت کے دوران دوسری جگہ ملازمت کرنا جائز نہیں تھا،  لیکن جب آپ نے متعلقہ محکمہ سے حصولِ تعلیم کے لیے رخصت(Study Leave)لے لی تو اب آپ اس وقت کے پابند نہیں رہے، بلکہ  اب ڈیوٹی کے اوقات مطلوبہ تعلیم (پی ایچ ڈی) کی کلاسز میں صرف کرنا ضروری ہے،  اگرچہ وہ اوقات ڈیوٹی کے اوقات کے علاوہ ہوں، لہذا اب آپ کے ذمہ ہفتہ اتوار شام دو بجے سے پانچ بجے تک(تین گھنٹے) کلاسز میں شریک ہونا اوراس کے علاوہ کم از کم تین گھنٹے پی ایچ ڈی کے مقالہ وغیرہ کی تیاری میں صرف کرنا ضروری ہے اور یہ تین گھنٹے آپ کسی بھی وقت دے سکتے ہیں، اس کے علاوہ  آپ کے پاس جووقت فارغ بچے اس میں آپ کوئی ایسی ملازمت اختیار کر سکتے ہیں، جس سے آپ کی تعلیمی مصروفیات میں خلل واقع نہ ہو۔

حوالہ جات

درر الحكام شرح مجلة الأحكام لعلي حيدر (1/383، المادة: 422) دار الجيل:

فلو عمل الأجير الخاص بإنسان عملا لغيره فقصر في عمل مستأجره الأول لاشتغاله بعمل المستأجر الثاني في المدة المستأجر فيها للأول خاصة فللمستأجر الأول أن ينقص من أجر الأجير بقدر تقصيره في عمله كما لو استأجر إنسان ظئرا مدة فأجرت نفسها من آخر بدون علم منه في خلال تلك المدة التي استأجرها فيها لكن قامت بإرضاع ولدي المستأجرين أتم القيام ; فلها الأجرة من المستأجرين كاملة بخلاف ما لو غابت عن أحدهما باشتغالها بالآخر فللأول نقص أجرة الأيام التي انقطعت فيها عن إرضاع ابنه كما أن له فسخ الإجارة عند العلم بإيجار الظئر نفسها من الآخر۔

درر الحكام شرح مجلة الأحكام (1/ 385،، المادة: 422) دار الجيل:

الضابط الثاني : حيثما كان المعقود عليه المدة فالأجير خاص وفي هذا أيضا أربعة أوجه : الوجه الأول : أن تذكر المدة فقط . الوجهان الثاني والثالث : أن تذكر المدة والعمل فتذكر المدة أولا ثم العمل وعلى الكيفية هذه يجري عقد الإجارة . مثال الوجه الأول : ذكر المدة وحدها كقولك أستأجر مدة شهر وهذه الإجارة تكون فاسدة ; لأن العمل لم يذكر فيها . مثال الوجه الثاني : أن تعقد الإجارة بذكر المدة أولا ثم العمل ثم الأجرة وهذه الإجارة صحيحة عند الصاحبين والمعقود عليه

فيها المدة , والأجير أجير خاص . إلا أنه يشترط أن يذكر المستأجر في كلامه ما يدل على أن الأجير المذكور أجير خاص كاستئجارك حمالا لنقل حمل معلوم إلى محل معلوم بكذا قرشا , أو استئجارك إنسانا لرعي غنمك شهرا بمائة قرش . الوجه الثالث : أن يذكر فيه المدة أولا ثم الأجرة ثم العمل وعلى ذلك فالمعقود عليه هي المدة والأجير خاص فهذه الإجارة صحيحة بالاتفاق ; لأن العقد صار تاما بذكر الأجرة ثم العمل ومستند إلى قصد إتمام العمل بالمدة المبينة وذلك كاستئجار راع على أن يرعى غنما معلومة شهرا بقدر معلوم ويكون الأجير ههنا أجيرا خاصا۔

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

29/ذوالحجہ1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب