| 81245 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
میں نے تقریبا دو سال پہلے انجینئرنگ سرٹیفیکیٹ/ کارڈ بیچنے سے متعلق ایک فتوی لیا تھا، فتویٰ کے مطابق اس پر لی ہوئی رقم صدقہ کردی تھی۔ اب ایک مشکل انجینئرنگ سرٹیفیکیٹ/ کارڈ کی تجدید (Renewal) کی ہے۔ پاکستان انجینئرنگ کونسل (PEC) کے قوانین کے مطابق ہر تین سال بعد اس کارڈ کی تجدید کرانی پڑتی ہے، کارڈ کی تجدید CPD پوائنٹس کے ساتھ مشروط ہوتی ہے، پہلی دفعہ تجدید کے لیے 9 CPD پوائنٹس کمانا ضروری ہے، دوسری دفعہ کے لیے اس سے زیادہ پوائنٹس حاصل کرنے پڑتے ہیں۔ اگر یہ پوائنٹس پورے نہ ہوں تو کارڈ کی تجدید (Renewal) نہیں ہوگی۔ یہ پوائنٹس کارڈ استعمال ہونے پر ملتے ہیں، کارڈ استعمال نہیں ہوگا تو پوائنٹس نہیں ملیں گے۔ پوائنٹس پورے نہیں ہوں گے تو کارڈ ایکسپائر ہوجائے گا جس کے نتیجے میں وہ بندہ رجسٹرڈ انجینئر نہیں رہے گا اور قانونی طور پر کوئی کام نہیں لے سکے گا، نہ ہی ملازمت کا اہل رہے گا۔
کارڈ بیچنے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ کارڈ ہولڈر انجینئر ٹھیکیدار کے ساتھ ایگریمنٹ پر دستخط کرتا ہے کہ میں مثلا 14 ماہ اس ٹھیکیدار کے ساتھ کام کروں گا۔ لیکن عملا ٹھیکیدار انجینئر سے کام نہیں لیتا، بلکہ اس کے ساتھ جتنی رقم پر بات ہوتی ہے وہ رقم اس کو دیدیتا ہے اور آگے کام خود چلاتا ہے، کاغذات میں یہی دکھایا جاتا ہے کہ فلاں انجینئر ہمارے ساتھ کام کرتا ہے اور وہ ہمارے پروجیکٹس کو دیکھتا ہے۔
قانونی طور پر کارڈ بیچنے کی اجازت نہیں، لیکن آج کل کوئی بھی ٹھیکیدار انجینئر نہیں رکھتا تو کارڈ بیچنا مجبوری ہوجاتی ہے۔ اس کا کوئی متبادل بھی نہیں ہے۔ اگر اس کے جواز کی کوئی بھی صورت ممکن ہو تو راہنمائی فرمادیں؛ کیونکہ تعلیم اور ڈگری پر اتنے خرچے کرنے کے بعد اگر سرٹیفیکیٹ/ کارڈ سے کچھ نہ کمائیں تو یہ بھی ایک مسئلہ ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسی انجینئر کا ٹھیکیدار سے کچھ رقم لے اس کو اپنا کارڈ دینا اور خلافِ واقعہ یہ ظاہر کرنا کہ میں اس کے کاموں کو دیکھتا ہوں، یہ جھوٹ، دھوکہ دہی، اور مفادِ عامہ کے لیے بنائے گئے حکومتی قوانین کی خلاف ورزی کی وجہ سے جائز نہیں، اس سے بچنا لازم ہے۔
ملازمت نہ ملنا اور ٹھیکیداروں کا انجینئرز کو بطورِ ملازم اپنے ساتھ نہ رکھنا بلاشبہہ ایک مسئلہ ہے، لیکن اس کی وجہ سے مذکورہ بالا ناجائز امور کا ارتکاب جائز نہیں۔ اس کا اصل حل یہ ہے کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل ٹھیکیداروں کو اس قانون پر عمل کرنے کا پابند بنائے کہ وہ باقاعدہ انجینئرز اپنے ساتھ رکھیں اور اپنے سارے منصوبے ان کی راہنمائی کے ساتھ پورے کریں۔ انجینئرز کو بھی چاہیے کہ سب سے پہلے وہ آپس میں اتفاق کریں کہ کسی ٹھیکیدار کو خلافِ قانون پیسے لے کر اپنا کارڈ نہیں دیں گے، اس کے ساتھ ساتھ اس قانون پر عمل در آمد کرانے کے لیے تمام ممکنہ اور جائز قانونی راستے اختیار کریں، حکومت اور متعلقہ اداروں سے اس خلافِ قانون رواج (Practice) کو روکنے کا مطالبہ کریں اور ٹھیکیداروں سے بائیکاٹ کریں، جب کوئی بھی انجینئر ان کو خلافِ قانون اپنا کارڈ اور سرٹیفیکیٹ نہیں دے گا تو ٹھیکیدار خود اس ناجائز اور خلافِ قانون طریقے سے باز آجائیں گے اور قانون کے مطابق انجینئرز کو اپنے ساتھ رکھنے پر مجبور ہوجائیں گے۔
یہ کام اگرچہ بظاہر مشکل لگتا ہے، لیکن اگر ہمت، حوصلہ اور حلال کمانے کا جذبہ ہو تو اللہ تعالیٰ آسان فرمادیتے ہیں۔ جو افراد اور ادارے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اس ناجائز طریقے کو ختم کرنے اور لوگوں کو جائز اور حلال طریقے سے روزگار فراہم کرنے کے لیے جد و جہد کریں گے، ان کو اس کا ثواب ملے گا۔
حوالہ جات
۔
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
20/صفر المظفر/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


