03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سوتیلی بیٹی کےلیے گھر کی وصیت کرنا
81244میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میرے تایا ابو اور سوتیلے والد عبدالرزاق نے اپنا ایک گھر عثمانیہ میں لیا تھا اور انہوں نے  اپنی وصیت کے مطابق مجھے دے دیا تھا اور وصیت کی تھی کہ میں وصیت کرتا ہوں کہ یہ میرا گھر میری متبنی بیٹی ریحانہ کا ہے اور اس کے گواہ بھی ہے ایک ان کے چچا زاد بھائی یعقوب اور دوسرا ان کا بھانجا یاسین اور تیسرا گواہ محمد اقبال ہے اور اقبال ہی کو  اس گھر کے کاغذات میرے ہی نام یعنی سوتیلی بیٹی کے نام کرنے کو کہا تھا اور وہ کاغذات کی تیاری بھی کر رہے تھے پھر میرے سوتیلے والد اچانک بہت ہی بیمار ہوئے اور ان کو کاغذات میرے نام کرنے کا موقع نہیں مل سکا اور اس دنیا سے رخصت ہو گئے، اب مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ وصیت کے مطابق یہ پورا گھر میرا ہوگا یا نہیں؟  اگر ہوگا تو کتنا ہوگا؟  قرآن و حدیث کی روشنی میں فتویٰ صادر فرما کر ہماری رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسئولہ صورت میں اگرمرحوم عبد الرزاق نے مذکورہ مکان اپنی زندگی میں بحالتِ صحت اپنا تصرف ختم کرکے آپ(یعنی ریحانہ) کے حوالہ کردیا تھا تو پھر یہ ہبہ ہےاوریہ پوراگھرآپ کاہے اگرچہ اس ہبہ کےلیے لفظ وصیت کا استعمال ہواہے اوراگرچہ سرکاری کاغذات میں ابھی تک آپ کےنام  رجسٹرڈ نہیں ہواتھا، اس لیے کہ سرکاری کاغذات میں نام کرنا شرعاً ہبہ کےلیے کوئی ضروری نہیں ہوتا ،یہ بس قانونی مجبوری ہوتی ہے۔

اوراگر مرحوم عبد الرزاق نے مذکورہ مکان اپنی زندگی میں اپنا تصرف ختم کرکے آپ کے حوالہ نہیں کیاتھایا مذکورہ جملہ  انہوں نے مرض الموت میں کہا تھا تو  پھریہ وصیت ہے جو مرحوم عبد الرزاق کے کل مال کے ایک تہائی تک نافذ ہوگی یعنی مذکورہ مکان سمیت مرحوم کی ملکیت میں جوبھی چھوٹا بڑا منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا، چاندی،نقدی وغیرہ موت کے وقت موجوتھا اس سےکفن دفن کے اخراجات اورقرض منہاکرنے کے بعدجومال بچے اس کی تہائی کی قیمت کے برابریا اس سے کم اگر اس مکان کی قیمت تھی تو یہ پورامکان آپ کا ہے اوراگراس کی قیمت کل مال کی تہائی سے زیادہ ہے تو جتنازیادہ ہےاتناورثہ کا ہے،ہاں اگر ہ وہ بالغ ہوں مکان کا یہ زائد حصہ بھی وہ بخوشی آپ  کودیں پھر یہ پورا آپ کا ہوسکتاہے،لیکن اگروہ اجازت نہ دیں تو پھر صرف  کل مال کی تہائی کی حد تک یہ مکان آپ کا ہوگا اورباقی ورثہ کا ہوگا۔

حوالہ جات

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق - (ج 13 / ص 468)

العبرة للمعاني دون الصور ؛ ولهذا جعلت الهبة بشرط العوض بيعا ، والكفالة بشرط براءة الأصيل حوالة والحوالة بشرط أن لا يبرأ الأصيل كفالة.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق - (ج 11 / ص 450)  العبرة للمعاني لا لمجرد اللفظ.

الأشباه والنظائر - حنفي - (ج 1 / ص 39) القاعدة الثانية : الأمور بمقاصدها.

الدر المختار " (5/ 690)

"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به)..... (في) متعلق بتتم (محوز) مفرغ (مقسوم ومشاع لا) يبقى منتفعا به بعد أن (يقسم) كبيت وحمام صغيرين لأنها (لا) تتم بالقبض (فيما يقسم ولو) وهبه (لشريكه) أو لأجنبي لعدم تصور القبض الكامل كما في عامة الكتب فكان هو المذهب وفي الصيرفية عن العتابي وقيل: يجوز لشريكه، وهو المختار (فإن قسمه وسلمه صح) لزوال المانع ".

الفتاوى الهندية - (6 / 447)

التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف…ثم بالدين… ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن تجيز الورثة أكثر من الثلث ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث.

السراجي ـــ(ص_5 /8)

قال علماءنا: تتعلق بتركت الميت حقوق أربعة مرتبة:الاول:يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غير تبذير ولاتقتير،ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله ،ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما بقي بعد الدين ،ثم يقسم الباقي بين ورثته بالكتاب والسنة إجماع الامة.

الفتاوى الهندية (6/ 97)

لو أوصى لرجل بربع ماله ولآخر بنصف ماله إن أجازت الورثة فنصف المال للذي أوصى له بالنصف والربع للموصى له بالربع والباقي للورثة على فرائض الله تعالى ولو لم يجز الورثة تصح من الثلث.

الأشباه والنظائر - حنفي - (ج 1 / ص 99)

وصح له في الثلث دون ما زاد عليه دفعا لضرر الورثة حتى أجزناها بالجميع عند عدم الوارث وأوقفناها على إجازة بقية الورثة.

 سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

  21/02/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب