| 81235 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
ایک کمپنی (الحیات پراپرٹیز گروپ) میں اگر ہم ایک لاکھ روپے انویسٹ کرتے ہیں تو ہمیں ماہانہ 8% پرافٹ ملے گا۔ اور اگر ہم کسی اور شخص کا پیسہ اپنے ذریعے اس کمپنی میں انویسٹ کرواتے ہیں تو اس پر ہمیں 7% پرافٹ ملے گا۔ تو اس طرح سے پرافٹ لینا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ کمپنی میں انویسمنٹ (سرمایہ کاری) کرنے کا جواز اس بات پر موقوف ہے کہ وہ کمپنی جو ماہانہ فکس پرافٹ(8٪) دیتی ہے وہ سرمائے کا فکس فیصد ہوتا ہے یا نفع کا، اگر آپ کے سرمائے کا فکس فیصد دیتی ہے تو یہ جائز نہیں ہے اور اس طریقہ پر اس کمپنی میں انویسمنٹ کرنا جائز نہیں ہوگا، البتہ اگر کمپنی کاروبار سے حاصل شدہ نفع کا مخصوص فیصد دیتی ہے تو اس حد تک نفع کی تقسیم طے کرنا جائز ہے، تاہم اس کمپنی میں انویسمنٹ کرنے کے جائز ہونے کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ کمپنی جس کاروبار میں آپ کا پیسہ لگاتی ہے وہ کاروبار شرعاً جائز بھی ہو، اور اس میں تمام فقہی شرائط کی رعایت بھی کی جاتی ہو۔
کمپنی کا کسی کو ریفر کرنے کی وجہ سے آپ کو کمیشن دینے کا حکم یہ ہے کہ جس شخص کو آپ خود کمپنی میں انویسمنٹ کرنے کے لیے لائیں اس کا کمیشن لینا تو جائز ہے (بشرطیکہ اس کمپنی میں انویسمنٹ کرنے کے جواز کی بقیہ تمام شرائط موجود ہوں)، لیکن آپ نے جس کو ریفر کیا ہے وہ آگے جس کو ریفر کرے اس کا کمیشن لینا آپ کے لیے جائز نہیں ہے۔اگر اس کمپنی میں انویسمنٹ کے وقت یہ بھی شرط ہو یا اس کمپنی کا اصل کام ہی اس طرح کمیشن در کمیشن دینا ہو تو بھی اس میں انویسمنٹ کرنا جائز نہیں ہے۔
حوالہ جات
{أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا} [البقرة: 275]
محمد فرحان
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
17/صفر الخیر/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد فرحان بن محمد سلیم | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


