| 81799 | زکوة کابیان | مستحقین زکوة کا بیان |
سوال
اگر غریب پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنی ہو تو موجودہ حالات کی روشنی میں کیا طریقہ اپنایا جائے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زکوۃ کی رقم کسی بھی مستحق کو اس طرح ملکیت میں دی جائے کہ اس سے اس کی حاجت پوری ہوجائے، لہذا بہتر یہ ہے کہ مستحق اگر ہوشیاراور دیندار ہے تو اس کو نقد رقم دینا بہتر ہے اور جو مستحق دیندار یا سمجھدار نہ ہو اس کو اس کی حاجت کی چیز خریدکر دی جائے تاکہ رقم حاجت کے علاوہ دیگر خرافات میں خرچ نہ ہوسکے۔لہذازکوۃ دہندہ کا مستحق کو مالک بنائے بغیر محض خرچ کرنے سے زکوۃ ادا نہ ہوگی، البتہ مستحق کے سرپرست کواس کی طرف سے وکیل بناکر زکوۃ دی جائے تو ایسی صورت میں خرچ کرنے سے بھی زکوۃ ادا ہوجائے گی۔
حوالہ جات
۔۔۔۔۔۔۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۸ربیع الثانی۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


