| 81334 | زکوة کابیان | ان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی |
سوال
زید کی دس ایکڑ زرعی زمین ہے جس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو دس کروڑ روپے ہے ، اس کی مختلف تقسیم درج ذیل ہے:
۱۔ دو ایکڑ پر رہائشی عمارت ہے، جہاں زید اور ان کے اہل وعیال سکونت پذیر ہیں۔
۲۔ تین ایکڑ ٹھیکے پر کاشتکاروں کو دی ہے،جس کا سالانہ ٹھیکہ تین لاکھ روپے بنتا ہے ۔
۳۔ دو ایکڑ زید خود نہری پانی کے ساتھ کاشت کرتے ہیں اور اس کی سالانہ آمدنی دو لاکھ روپے بنتی ہے۔
۴۔ تین ایکڑ بغیر کسی کاشت اور ٹھیکہ کے خالی پڑی ہے،جس کا تاحال کوئی مصرف نہیں ہے ۔
مزید یہ بات واضح کی جاتی ہے ساری زمین سے متعلق زید کا کوئی ارادہ یا نیت پختہ نہیں کہ مستقبل میں اسکا کیا کرنا ہے ؟ ساری زرعی زمین خود کاشت کرنی ہے یا ٹھیکے پر دینی ہے؟یا رہائش کے علاوہ باقی زمین پر کوئی ہاؤسنگ اسکیم بنانی ہے؟یا کوئی فیکٹری لگانی ہے یا ڈیری فارم وغیرہ بنانا ہے۔ اب سوالات یہ ہیں:
1۔کیا دو ایکڑ رہائشی عمارت نکالنے کے علاوہ آٹھ ایکڑزرعی زمین پر زکاۃ ہو گی؟
2۔کیا زمین کی مارکیٹ ویلیو آٹھ کروڑ پر زکات ہوگی ؟
3۔کیا حاصل شدہ ٹھیکے کی رقم تین لاکھ پر ہوگی ؟
4۔خود کاشتہ زمین کی دو لاکھ آمدنی منفی بیس ہزار خرچہ ایک لاکھ اسی ہزار پر زکاۃ یا عشر ہو گا؟
5۔تین ایکڑ خالی زمین کی مارکیٹ مالیت تین کروڑ پر بھی کیا زکوة واجب ہو گی ؟
مزید یہ بات واضح کی جاتی ہے کہ مندرجہ بالا حالات و واقعات مفروضوں اور فیملی کے عارضی طور پر بیرون ملک سکونت کی وجہ سے ہیں اس لیے نیت میں پختگی نظر نہیں آتی،گردونواح کی زمین کے مالکان سب سے زیادہ نفع بخش ہاؤسنگ سوسائٹی کے کاروبار میں دھڑا دھڑ سرمایہ کاری کر رہے ہیں، لہذا اس علاقے میں فیکٹری، ڈیری فارمنگ اور کاشتکاری نقصان دہ آپشن لگتا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جیسا کہ سابقہ فتوی میں ذکر کیا گیا تھا کہ زکوة کے وجوب کے بارے میں شریعت کا اصول یہ ہے کہ زکوة صرف چار چیزوں پر واجب ہوتی ہے، سونا، چاندی، نقدی اور مالِ تجارت (جو آگے بیچنے کے ارادے سے خریدا گیا ہو) ان چار چیزوں میں سے کسی ایک دو چیزوں جن کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو جائے تو سال گزرنے کے بعد اس پر زکوة واجب ہو جاتی ہے۔
نیزفقہائے کرام رحمہم اللہ نے مالِ تجارت اس مال کو شمار کیا ہے جو آگے بیچنے کے ارادے سے خریدا گیا ہو، گویا کہ شرعا کسی چیز کے مالِ تجارت ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں:
اول: اس چیز کو خریدا گیا ہو، لہذا ایسا مال یا زمین جس کو خریدا نہ گیا ہو، بلکہ وہ زرعی زمین یا ذاتی مال ہو اور پھر اس پر محنت کر کے آگے بیچنے کے قابلِ بنایا جائے تو اس کی مالیت پر زکوة واجب نہیں۔
دوم: خریدتے وقت اس کو آگے بیچنے کی نیت ہو اور بیچنے کی نیت تاحال باقی ہو، لہذا اگر خریدتے وقت آگے بیچنے کی نیت نہ ہو یا خریدنے کے بعد آگے بیچنے کی نیت ختم ہو گئی تو بھی اس مال پر زکوة واجب نہ ہو گی۔
لہذا مذکورہ صورت میں زرعی زمین، ٹھیکہ پر دی گئی زمین(اس زمین پر عشر کے وجوب کا جواب گزشتہ فتوی میں دے دیا گیا تھا)، خالی زمین اور ہاؤسنگ اسکیم کے طور پر آگے بیچنے کے ارادے سے تیار کی گئی زرعی زمین پر زکوة واجب نہیں ہے، البتہ ان کے علاوہ اگر آپ کے پاس کوئی ایسی زمین ہو جو آپ نے آگےبیچنے کی نیت سے خریدی ہو تو اس کی موجودہ مالیت پر زکوة واجب ہو گی۔
حوالہ جات
الدر المختار شرح تنوير الأبصار (ص: 127) دار الكتب العلمية:
(أو نية التجارة) في العروض، إما صريحا ولا بد من مقارنتها لعقد التجارة كما سيجئ، أو دلالة بأن يشتري عينا بعرض التجارة، أو يؤاجر داره التي للتجارة بعرض فتصير للتجارة بلا نية صريحا۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 12) دار الكتب العلمية:
ولو اشترى عينا من الأعيان ونوى أن تكون للبذلة والمهنة دون التجارة لا تكون للتجارة سواء كان الثمن من مال التجارة أو من غير مال التجارة؛ لأن الشراء بمال التجارة إن كان دلالة التجارة فقد وجد صريح نية الابتذال ولا تعتبر الدلالة مع الصريح بخلافها.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 13) دار الكتب العلمية:
وإن كانت الدار معدة للتجارة فكان في المسألة روايتان ومشايخ بلخ كانوا يصححون رواية الجامع ويقولون: إن العين وإن كانت للتجارة لكن قد يقصد ببدل منافعها المنفعة فيؤاجر الدابة لينفق عليها والدار للعمارة فلا تصير للتجارة مع التردد إلا بالنية.
الفتاوى الهندية (1/ 180)دارالفكر، بيروت:
ولو اشترى قدورا من صفر يمسكها ويؤاجرها لا تجب فيها الزكاة كما لا تجب في بيوت الغلة، ولو دخل من أرضه حنطة تبلغ قيمتها قيمة نصاب ونوى أن يمسكها أو يبيعها فأمسكها حولا لا تجب فيه الزكاة كذا في فتاوى قاضي خان.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولو اشترى جوالق ليؤاجرها من الناس فلا زكاة فيها؛ لأنه اشتراها للغلة لا للمبايعة كذا في محيط السرخسي.
تحفة الفقهاء (1/ 272) دار الكتب العلمية، بيروت:
إذا كان له مال للتجارة ونوى أن يكون للبذلة يخرج عن التجارة وإن لم يستعمله لأن التجارة عمل معلوم ولا يوجد بمجرد النية فلا يعتبر مجرد النية فأما إذا نوى الابتذال فقد ترك التجارة للحال فتكون النية مقارنة لعمل هو ترك التجارة فاعتبرت النية۔
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 226):
إذا كان للتجارة فنوى أن تكون للبذلة خرج عن التجارة بالنية، وإن لم يستعمله؛ لأنها ترك العمل۔ فتتم بها۔
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
27/صفرالمظفر 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


