03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میراث میں بہنوں کو حصے سے محروم کرنا
81233میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں، میر عالم خان کی تین بیویاں دوبیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ ان کی وفات کے بعد 360 ایکڑجائیداد ان کے بڑے بیٹے دلیل خان نے سنبھالی اب پتہ نہیں یہ جائیداد ولیل خان کو میراث میں ملی یا والد کی زندگی میں مالکانہ طورپر، اور یہ بھی پتہ نہیں میرعالم خان کی بیویوں اور دو بیٹیوں کو جائیداد میں حصہ ملا تھا یانہیں۔

دلیل خان کی وفات کے بعد جائیداد دو حصوں میں تقسیم ہوئی۔ آدھا حصہ دلیل خان کےبھائی نے لیا اور آدھا دلیل خان کے بیٹوں نے لیا، حالانکہ ان کی (دلیل خان) کے پانچ بیٹیوں نے باعتبار پٹھانوں کے عرف کے، کبھی مطالبہ نہیں کیا اور بھائیوں نے دینے کی زحمت بھی نہیں کی۔یاد رہے یہ جائیداد ان کو وراثت میں ملی۔جب ان تین بھائیوں نے اس کو تقسیم کیا تو انہوں نےبہنوں کو محروم کیا۔ اور ہر ایک کے حصے میں تقریبا 60 ایکٹر زمین آئی۔

ان تینوں میں سے ایک کا نام سید خان ہے۔اس کے ساتھ سید خان نے تقریبا 25 ایکڑزمين مزيد خريدلی تو کل جائیداد 85 ایکڑ ہوگئی ۔ سید خان نے اپنی زندگی میں پوری جائیداد اپنےایک بیٹے اور تین پوتوں کو مالکانہ طور پر دی حالانکہ سید خان نے اپنے پانچ بیٹیوں کو جائیداد میں کچھ نہیں دیا۔اس طرح سید خان کے بیٹے زرین خان نے اپنی زندگی میں تمام جاندار اپنے بیٹوں کے نام کر دی اوراپنی دو بیٹیوں کو کچھ نہیں دیا۔ان تین بیٹوں میں سے ہر ایک کے حصہ میں 27 ایکڑ زمین آئی۔ ان تینوں میں سے ایک کا نام مشتاق خان ہے جو کہ میرے والد محترم ہیں۔ ہم تین بھائی اور ایک بہن ہیں۔ میرے والد نےجائیداد میں ہر بیٹے کو حصہ دیا اور ہر ایک کے حصے میں 9 ایکڑ رمین آگئی اور میری بہن کو محروم کر دیا۔

... سوالات ..

(1)۔ یہ 9 ایکڑ زمین میرے لیے لینا جائز ہے یا نا جائز؟

(2)۔اگر جائز ہے تو دلیل خان کی محروم شدہ پانچ بیٹیوں کا حصہ میری جائیداد میں آیا ہےاوران کے دینے کا کیا طریقہ ہوگا ؟

(3)۔ مالکانہ طور پر اپنے بیٹوں کو دینے اور بیٹیوں کو محروم کرنے کا جو سلسلہ چلا ہے اس کا کیا ہوگا؟

(4) بالغ ہونے کے بعد تقریبا 20 سال تک والد صاحب نے خوب کھلایا پلایا اور پڑھایا ہے،تو کیا یہ کھانا پینا اس مال مشتبہ سے میرے لیے  جائز تھا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔ ساری زمین آپ کے لیے ناجائز نہیں ہے، جو آپ کا حق ہے، وہ لے سکتے ہیں۔

2۔میر عالم خان سے یہ زمین دلیل خان کی طرف منتقل ہوئی،جس کانصف حصہ اس کی اولاد کو اور نصف دلیل خان کے بھائی کو ملا۔ان کی بہنوں کے بارے میں علم نہیں۔

دلیل خان کی اولاد کو ملنے والی زمین180 ایکڑ تھی،جس میں ہر بیٹے کاحصہ 32.7272ایکڑ زمین ہے،جبکہ مجموعی طور پر تمام  بیٹوں کا حصہ 98.1818ایکڑ ہے۔

 ہر بیٹی کا حصہ  16.3636 ایکڑبنتاہے،کل پانچ بیٹیوں کا حصہ 81.8181 ایکڑ زمین ہے۔یہ حساب وکتاب بھی اس صورت میں ہے کہ بیٹوں  اور بیٹیوں کے علاوہ کوئی اور وارث نہ ہو۔اس کے بعد یہ زمین سیدخان ،پھر ان سے زرین خان اور پھر ان سے مشتاق خان کی طرف منتقل ہوئی ہے،یہ گویا تین نسل کاحساب ہے،اور آخری دو دفعہ انتقال میں ہدیہ کی گئی ہے،جس میں قبضہ کی شرط کی رعایت رکھناضروری ہے۔

اب اس مسئلے کاآسان حل یہ ہے کہ ان پانچ خواتین میں سے جوحیات ہیں،ان کے پاس حاضر ہوں،اور جوحیات نہیں، ان کے ورثہ کے پاس جاکر صلح کی جائے ،جس کاطریقہ کار یہ ہے کہ ان کواپنی ذاتی ملکیت سے بطورعوض کوئی چیز  دیدیں،اور وہ  میراث میں اپنا حصہ معاف  کردیں۔

3۔ اپنی زندگی میں اولاد کو جائیدادوغیرہ دینا ہدیہ ہے اورہدیہ دینے میں برابری لازم ہے،بلاوجہ کسی کو کم کسی کو زیادہ دیادہ دیناناجائز ہے،لہذابغیر کسی شرعی وجہ کے بیٹیوں کو کم دینا یا بالکل محروم کرنا شرعی حکم کی خلاف ورزی

اور گناہ کا کام ہے،البتہ کسی معقول وجہ ، مثلا دینداری،خدمت،تنگ دستی وغیرہ کی بناء پر کسی ایک کو زیادہ دینے کی

گنجائش ہے۔امام ابویوسف رحمہ اللہ کے نزدیک مساوات سے مراد یہ ہے کہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں ،سب کو برابر دیں،امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک  میراث کی طرح یہاں بھی تقسیم اس طرح ہوگی کہ لڑکی کو لڑکے کے حصے کے مقابلے میں نصف حصہ دیا جائے گا۔فتوی امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالی کے قول پر ہے۔

4۔آپ کے والدکا کاروبار یا آمدنی کے دیگر ذرائع اگر درست ہیں تو محض اس بناء پران کا تمام مال حرام یا مشتبہ نہیں ہوا ہے کہ ان کے دادا نے  اپنی بہنوں کو وراثت میں سے حصہ نہیں دیا۔ان خواتین کے حق پر مشتمل صرف اتنی مقدار مشتبہ تھی جوتین نسلوں سے منتقل ہونے کے بعد آپ کے والد کے حصے میں آئی ہے،اس لیے آپ صلح کے طریقہ کار پر عمل کرکے اس حق کی ادائیگی کریں۔اور جو کچھ ہوگیاہے اس پر توبہ واستغفار کریں۔

حوالہ جات

"المبسوط للسرخسي "(12/ 56):

"فالمذهب أنه ينبغي للوالد أن يسوي بين الأولاد في العطية عند محمد - رحمه الله - على سبيل الإرث للذكر مثل حظ الأنثيين، وعند أبي يوسف - رحمه الله - يسوى بين الذكور والإناث قال: - عليه الصلاة والسلام - «ساووا بين أولادكم حتى في القبل، ولو كنت مفضلا أحدا لفضلت الإناث»:" .

"بدائع الصنائع "(6/ 127):

"وذكر محمد في الموطإ ينبغي للرجل أن يسوي بين ولده في النحل ولا يفضل بعضهم على بعض.

وظاهر هذا يقتضي أن يكون قوله مع قول أبي يوسف وهو الصحيح لما روي أن بشيرا أبا النعمان أتى بالنعمان إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي فقال له رسول الله - صلى الله عليه وسلم - كل ولدك نحلته مثل هذا فقال لا فقال النبي - عليه الصلاة والسلام - فأرجعه وهذا إشارة إلى العدل بين الأولاد في النحلة وهو التسوية بينهم ولأن في التسوية تأليف القلوب والتفضيل يورث الوحشة بينهم فكانت التسوية أولى ولو نحل بعضا وحرم بعضا جاز من طريق الحكم لأنه تصرف في خالص ملكه لا حق لأحد فيه إلا أنه لا يكون عدلا سواء كان المحروم فقيها تقيا أو جاهلا فاسقا على قول المتقدمين من مشايخنا وأما على قول المتأخرين منهم لا بأس أن يعطي المتأدبين والمتفقهين دون الفسقة الفجرة".

"الدر المختار " (5/ 696):

"وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ".

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

18/صفر1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب