| 81191 | طلاق کے احکام | بچوں کی پرورش کے مسائل |
سوال
السلام و علیکم! جان عالى!
میری سابقہ بیوی مدیحہ کنول نے، اپنے گھروالوں سے لڑائی کرکے ، اپنی مرضی اور خوشی سےکراچی آکر مجھ سے کورٹ میرج کی تھی، ،یہ کوئی Love Marriageنہیں تھی۔مدیحہ کنول کے اپنے والد سے تعلقات شادی سے پہلے ہی خراب تھے ، یہ میری شادی سےپہلے کسی لڑکے کو پسند کرتی تھی ، ان کے والدین کو یہ بات پتہ تھی،اس لڑکے کے گھر والوں کے منع کرنے کے باوجود ، اس نے لڑکے سے تعلقات قائم کرلئے اورکئی مرتبہ اس کو گھر بلا کر اس کے ساتھ راتیں گزاریں ،یہ بات خوداس کےمنہ سے نکل گئی تھی اور پھر جب میری شادی ہوئی تو مجھے پتہ چلا یہ کنواری نہیں تھی، اس نے قبول کر لیا اور میں نے اس کو معاف کردیا کہ اللہ سے معافی مانگ لو ۔ میں بھی معاف کرتا ہوں .اس کے بعد دس سالہ ازدواجی زندگی میں اللہ تعالی نےمجھے تین بچے دیئے، دوبیٹیاں اور ایک بیٹا۔اس دس سالہ زندگی میں ایک مرتبہ جب میری پہلی بیٹی تقریبا دو سال کی تھی ،کسی معمولی سی بات پر گھر چھوڑ کر رات کو بھاگ گئی اور دوسرے دن آئی ،جن صاحب کےآفس میں رات گزاری ،انہوں سفارش کی اور میں نے چونکہ بچی چھوٹی تھی نہ کوئی بدکاری کا الزام لگایا نہ سوچا ۔ اس کو اپنے ساتھ رکھ لیا ،دوسری بیٹی ہوئی توپھرایک رات بھاگ گئی، دوسرےدن آئی اور کہا کہ ایدھی ہوم میں تھی ،میں نے بس اتنا کہا کہ تم جانو یا اللہ،تم سچ بول رہی ہو یا جھوٹ۔اس کے بعد پھر تیسری مرتبہ جب میرا بیٹا ہوا اور تقریبا دودھ ہی پیتاتھا،پھر رات کوبھاگ گئی اور دوسرے دن آگئی،میں نے پھر اللہ پر چھوڑا۔ اور اس کو کچھ نہیں کہا اور پھر گھر میں رکھ لیا ۔
جناب عالی !میں نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا حق بھی دیا ہواتھا۔ پچھلے دو سالوں میں اس نے دو مرتبہ مجھے یعنی میری طرف سے اپنے آپ کو طلاق بھی دی،لیکن چونکہ صحیح الفاظ ادا نہیں کیے تھے، اس لیے میں نے دوبارہ رجوع کر لیا۔مدیحہ کنول کے زیادہ تر تعلقات مردوں سے ہیں،میں آفس میں ہوتا تو جس جس آفس میں اس نے کام کیا ،ان سب سے اب تک رابطے میں رہی ہے ۔ایک آفس میں ،جس میں اس نے کام کیا،اس کے باس سے چالیس/پچاس ہزار بچوں کے بیڈ کےلیےلیے،اور جب مجھے پتہ چلا تو میں ناراض ہوا،کیونکہ میں ایک خود دار آدمی ہوں۔پھر اس نے ایک اور جگہ نوکری کی ،میں اس زمانے میں بے روزگار تھا ۔اس کی سالگرہ پر انہوں نے اس کو تین ہزار روپے دیے کہ میری چھوٹی بہنوں کی طرح ہے،لیکن مجھے پھر بھی اچھا نہ لگا اور میں نے اس کو سمجھایا ۔ اور یہ بات بھی اس نے بعد میں بتائی ۔پچھلے دو سالوں سے اس نے ONLINE کام کرنا شروع کیا ۔ اور پھر اس نے کام میں مجھےبھی ساتھ لگا لیا۔ میں نے بھی سوچا کہ دونوں کو سہولت ہوجائے گی اور اس کے ساتھ ONLINE کام شروع کردیا ۔
7.6.2023 کو میرے چھوٹے بیٹے عبداللہ نے نانا سے ملنے کی خواہش کی ۔ نانااحسن آباد میں رہتے ہیں ۔ مدیحہ کے کیونکہ اپنے والد سے تعلقات صحیح نہیں ہیں اوروہ اپنی بیٹی کو اپنے گھر آنے نہیں دیتے۔ اس وجہ سے اس نے مجھ سے جھگڑا کیا اوراپنے چھ سالہ بیٹے کو مارا اور اسی اثناء اپنی ماں ،بہن اور بہنوئی کوفون کیاکہ میں اس کامران سے طلاق لے رہی ہوں ۔ تم لوگ کراچی آجاؤ۔ اور ماں کوکہا کہ ابا کو بولو کے اس سے کیوں ملتا ہے۔دوسرےدن 23-6-8 کو مد یحہ کے والد کا فون آیا۔ میں ان سے بات کر رہا تھا، سگنل صحیح نہیں آرہے تھے،آواز کٹ رہی تھی،میں فون سننے گلی میں آ گیا۔ اس نے گھر کا مین گیٹ اندر سے بندکر لیا ۔ اور میرے کپڑے وغیرہ با ہر پھینک دیئے اور کہا کہ نکل میں تم سے خلع ہوں گی۔ میرا سامان، document ،بچے سب اس کے پاس تھے،بہرحال میں اپنی بہن کے گھر آگیا۔ اس کے بعد وکیل وغیرہ سےمشورہ کرکےپوری پلاننگ سے اب خلع کے بجائے مجھے میسج کیے کہ تم مرد نہیں ہو،طلاق نہیں دے سکتے، جبکہ میں چاہ رہا تھا کہ خلع لیکر جس کے ساتھ جانا چاہتی ہے،جائے، بچے مجھے دے دےتا کہ میں ان کو پالوں ۔ہم گلشن میں کرائے کے مکان میں رہتے تھے، اس لئے میں 18.6.2023 کومالک مکان سے ملنے گیا ،ہم نے مکان خالی کرنا تھا ۔ میں نے مالک مکان کو کہا کہ آپ درواز ہ تک میرے ساتھ چلیں ، میں بچوں کو دیکھ لوں،جب میں نے بیل دی تو ایک 14 سال کی عمر کا پٹھان لڑکا نکلا،میں نے اس سے پوچھا آپ کون ہیں؟ بولا: میں کام کرتاہوں،میں نے پوچھا: رات کے بارہ بج رہے ہیں،تو اس نے کہا کہ میں یہاں ہی سوتاہوں۔ اس وجہ سے مجھے اپنی بچیوں کی اور بھی فکر ہوئی،مدیحہ میری بچیوں کو اکیلا چھوڑ کر باہر سے تالا لگاکر یوٹیوب چینل لگا کر دے جاتی ہے ،بچے ہندؤوں کے کارٹون،چھوٹا بھیم،موٹو پتلو وغیرہ جیسے کارٹون دیکھتے رہتے ہیں،اور یہ محترمہ کبھی رات بارہ بجے اور کبھی ایک بجےآتی ہے ،2013-6-25 کو مد یحہ کنول نے میرے گھر کا سب سامان سمیٹا ۔ میری بڑی بیٹی اس وقت اس کےساتھ تھی اور کہیں غائب ہوگئی، میرے مالک مکان کا فون میرے پاس رات کو ساڑھے دس بجےآیا اور انہوں نے بتایا آپکی بیگم سارا سامان لے گئی ہیں اور کچھ سامان چھوڑا ہے کہ آپ کاہے، آکر چیک کرلیں، تاکہ کل تک آپ کا سامان بھی چلاجائے ۔ میں نے ان کو بتایا بھی تھا سامان تو سارا میرا ہے ،مدیحہ نے تو تین کپڑوں میں مجھ سے کورٹ میں شادی کی تھی، اس کا حلف نامہ بھی ہے ۔ کہیں وہ بھی شاید مدیحہ سے ملا ہواتھا ۔ بہرحال میں نے کہا کہ ان کو بلالیں تاکہ Rent Agreementختم کر لیا جائے اور وہ کاروائی پوری کر کے تقریبا سوا بارہ بجے تین طلاق دے دی جو کہ زبانی تھیں۔ اور 2023-7-6 کومیں نے وکیل سے طلاق نامہ تحریر کرکےکورئیر کے ذریعہ بھیج دیا۔
جناب مفتی صاحب جو حقائق میں نےبیان کیےہیں، سچ پر مبنی ہیں ۔
1۔سوال یہ ہے کہ جن حالات میں، میں نےطلاق دی وہ کام میں نے جائز کیا؟اور وہ طلاق شرعی ہوگئی؟ دوبارہ رجوع تو نہیں کر سکتا ؟ گناہ ہوگا ؟
2۔میری بڑی بیٹی کی عمر اس وقت دسویں سال میں لگی ہے ۔ دوسرے نمبر کی بیٹی نویں سال میں لگی ہے اور بیٹا ساتویں سال میں لگا ہے ۔ میں ان کی کفالت کرنا چاہتا ہوں کہ میری بہن ان کی پرورش میرے ساتھ کریں،کیونکہ میری بچیاں ان کو پسند کرتی ہیں اس بات کااظہار بھی کئی مرتبہ کرچکی ہیں،کیونکہ میری سالقہ بیوی ان کو اکیلا گھربند کر کے شاپنگ کےلیے چلی جاتی ہےاور رات کو 12 یا ایک بجے آتی ہے۔ کسی بھی مرد کو میٹنگ کا کہہ کردن میں بلا لیتی ہے اور بچوں کو کارٹون میں لگادیتی ہے ۔ اور اب وہ نہ اپنے باپ کے گھر بچوں کو لیکر گئی ہے،کیونکہ وہ اس کی بے راہ روی کی وجہ سے سےناپسند کرتے ہیں نہ ہی سگے چچا کے گھر،بلکہ کسی غیر کو چچا ظاہر کرکے کرائے کے فلیٹ میں رہتی ہے،مجھے اب مدیحہ سے کچھ لینا دینا نہیں، کیونکہ میں اس کو طلاق دےچکا ہوں،لیکن مجھے اپنی بیٹیوں اور بیٹے کی عزت وآبرو ، ان کے چال چلن اوراخلاقیات کی فکر ہے ۔ اس صورت میں طلاق اور میری اولاد کی بہتر تربیت کیلئے شرعی فتوی صادر فرمائیں ،تاکہ میں عدالت سے اپنے بچوں کی کفالت کےلیے رجوع کروں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔اگر بیان کردہ صورتحال درست ہے تو پھر بیوی کو طلاق دینے کی گنجائش موجود ہونے کی وجہ سے آپ پر کوئی ملامت اور گناہ نہیں ،البتہ طلاق دینے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ایسے پاکی کے زمانہ میں، جس میں عورت سے صحبت نہ کی ہو، ایک طلاق دے کر اسے چھوڑ دیا جائے اور عدت میں زبانی یا عملی طور پر رجوع نہ کیا جائے ، عدت ختم ہوتے ہی میاں بیوی کا نکاح ختم ہوجائے گا۔
2۔یہاں چونکہ تین طلاق دی گئی ہیں،اس لیے وہ تینوں واقع ہوگئی ہیں، بیوی، شوہر پر حرمت ِمغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے،میاں بیوی کے درمیان علیحدگی لازم ہے، موجودہ حالت میں رجوع یا نکاح نہیں ہوسکتاہے۔
3۔میاں بیوی کے درمیان جدائی کی صورت میں بچوں کی پرورش ماں کے ذمہ ہے،بچے کو سات سال اور بچی کو نوسال تک اپنے پاس رکھ سکتی ہے، اخراجات بچوں کے والد کے ذمہ ہوں گے ،اگر کسی بھی شرعی یا طبعی وجہ سے ماں پرورش کی اہل نہ ہو،مثلا: وہ اجنبی جگہ نکاح کر لے یا وہاں بچوں کے بگڑنے اوردین واخلاق کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو،تو پھر یہ حق والد کا ہوگا۔ سوال میں موجود صورتحال کے مطابق ایک بچی اور بچے کی عمر ویسے بھی پوری ہوگئی ہے،جبکہ دوسری نو سال کی بچی کے بارے میں بھی چونکہ یہ خدشہ ہے کہ والدہ صحیح تربیت نہیں کرپارہی، اس لیے والد عدالت کے ذریعہ اس کو بھی اپنی تحویل میں لے سکتاہے۔
حوالہ جات
وفی الفتاوى الهندية (1/ 349):
(وأما البدعي)۔۔۔ (فالذي) يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثا في طهر واحد أو بكلمات متفرقة أو
يجمع بين التطليقتين في طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيا.
وفي الهنديه(10/196) :
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز .
وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 555):
(تثبت للأم) النسبية ۔۔۔(بعد الفرقة) (إلا أن تكون مرتدة) فحتى تسلم لأنها تحبس (أو فاجرة) فجورا يضيع الولد به كزنا وغناء وسرقة ونياحة كما في البحر والنهر بحثا.
قال المصنف: والذي يظهر العمل بإطلاقهم كما هو مذهب الشافعي أن الفاسقة بترك الصلاة لا حضانة لها. وفي القنية: الأم أحق بالولد ولو سيئة السيرة معروفة بالفجور ما لم يعقل ذلك (أو غير مأمونة) .۔۔۔(أو متزوجة بغير محرم) الصغير (أو أبت أن تربيه مجانا و) الحال أن (الأب معسر، والعمة تقبل ذلك) أي تربيته مجانا ولا تمنعه عن الأم قيل للأم: إما أن تمسكيه مجانا أو تدفعيه للعمة.۔۔۔ (ثم) أي بعد الأم بأن ماتت، أو لم تقبل أو أسقطت حقها أو تزوجت بأجنبي (أم الأم) وإن علت عند عدم أهلية القربى (ثم أم الأب وإن علت) بالشرط المذكور وأما أم أبي الأم فتؤخر عن أم الأب بل عن الخالة أيضا بحر (ثم الأخت لأب وأم ثم لأم) لأن هذا الحق لقرابة الأم (ثم) الأخت (لأب) ثم بنت الأخت لأبوين ثم لأم ثم لأب (ثم الخالات كذلك) أي لأبوين، ثم لأم ثم لأب، ثم بنت الأخت لأب ثم بنات الأخ (ثم العمات كذلك) ثم خالة الأم كذلك، ثم خالة الأب كذلك ثم عمات الأمهات والآباء بهذا الترتيب؛ ثم العصبات بترتيب الإرث، فيقدم الأب ثم الجد ثم الأخ الشقيق، ثم لأب ثم بنوه كذلك، ثم العم ثم بنوه. وإذا اجتمعوا فالأورع ثم الأسن…۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
05/صفر1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


