03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فیس لے کر میچ کھیلنا
81262اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلملازمت کے احکام

سوال

مفتی صاحب میں کرکٹر ہوں، جب مجھے کوئی میچ پر بلاتا ہے تو میں ان سے متعین فیس لیتا ہوں،

فیس لینے کی صورتیں درج ذیل ہیں:۔

1_ ہر ایک میچ کے آپ سے 1000 روپے لوں گا۔

2_ ایک دن کے 5000 روپے لوں گا، پھر چاہے دن میں 1 میچ ہو یا 10 میچ ہوں۔

3_  پورے ٹورنامنٹ کے 15000 روپے لوں گا، پھر چاہے ٹورنامنٹ کے پہلے میچ میں ہار جائیں یا فائنل جیت جائیں، پورے 15000 روپے لیتا ہوں۔

4_ ایک دن یا ایک میچ کے آپ  سے 3000 روپے لوں گا اور اگر ٹیم جیت جائے تو 1000 ہزار اضافی لوں گا ۔

ٹورنامنٹ کی تفصیل:

 بعض دفعہ ٹورنامنٹ کمپنیوں والے کرتے ہیں، ہر کمپنی اپنے لیے کرکٹرز کا انتظام کرتی ہے ،اور بعض ٹورنامنٹ 10 ٹیمیں انٹری فیس ملا کے کھیلتی ہیں اور ہر ٹیم پھر اپنے لیے کرکٹرز کو بلاتی ہیں، مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کیا یہ پیسے لینا جائز ہیں یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔دینِ اسلام کھیل اور تفریح سے مطلقاً منع نہیں کرتا، بلکہ اچھی اور صحت مند تفریح کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔البتہ اس کے لیے کچھ حدود وقیود طے کی ہیں۔جو درج ذیل ہیں:

1) کھیل میں ستر کے حدود کی رعایت کی جائے ۔

2) کھیل میں ایسا مصروف نہ ہو کہ دینی فرائض سے بھی غفلت ہوجائے ۔

3) ایسی دو طرفہ شرطیں نہ ہوں کہ جس سے قمار کی صورت پیدا ہوجائے۔

پھر  وہ کھیل زیادہ پسندیدہ ہےجس سے جسمانی ورزش و چستی پیدا ہو،جس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے گھوڑ سواری، دوڑ اور تیر اندازی کو پسند فرمایا، جو جسم میں چستی و توانائی کا باعث بنتے ہیں.

چنانچہ جسم کی ورزش اور بدن کی تندرستی بڑھانے کے لئے بطور ورزش کوئی بھی ایسا کھیل جائز ہے، جو شریعت کے احکامات کو پامال نہ کرتا ہو ،کھیلنے والےستر پوشی اور حدود کی رعایت رکھتے ہوں،  اس کھیل میں نماز باجماعت سے اور اپنی دینی، دنیاوی  ذمہ داریوں سے غفلت نہ ہو۔

شریعت میں ایسی چیز(منفعت)کاعوض(بدل)لیناجائزہے،جوقابل معاوضہ ہواورلوگوں کےدرمیان اس چیز کاعوض لینےکاعرف ہو۔لہٰذااس اصول کومدنظررکھتےہوئےکرکٹرکاکسی ادارےکی طرف سےکرکٹ کھیلنااوراس کی تنخواہ وصول کرناجائزہے،جبکہ کرکٹ کھیلنےمیں دوسری کوئی شرعی قباحت(مثلاًمرداورعورت کااختلاط،سترکاکھلا ہونا،گانےباجے،فرض واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی وغیرہ)نہ پائی جائے۔

اجرت حلال مال سے طے شدہ ہو،عام طور پر دوٹیموں کے درمیان میچ میں یا ٹورنامنٹ کی صورت میں جو رقم جمع کی جاتی ہے اور پھر کھلاڑیوں کو دی جاتی ہے اس میں قمار یعنی جوا ہوتاہے،اس سے وصول کرنا جائز نہیں ہے۔

4۔فیس طے شدہ ہو،اس میں ابہام اور جہالت نہ ہو۔پہلی تین صورتیں تو درست ہیں،جبکہ آخری صورت میں اجرت مکمل طور پر طے نہیں ہوئی ہے،اس لیے کہ اس میں یہ امکان ہے کہ میچ جیت جائے اور ہزار روپے ملے اور یہ بھی کہ میچ ہارجانے کی صورت میں ہزار روپے نہ ملے۔اگر یہ ہزار روپے میچ جیتنے کی صورت میں انعام بھی قرار دیاجائے تو بھی یہ ابتدائے معاملہ میں شرط کی صورت بنتی ہے کہ ایک دن یا ایک میچ کی اجرت طے کرتے ہوئے میچ جیتنے کی صورت میں ہزار روپے اضافی دینے کو شرط رکھا گیاہے اور اس طرح کی شرط لگانے سے معاملہ فاسد ہوجاتا ہے۔

حوالہ جات

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (2/ 384):

" لا يجوز أخذ الأجرة على المعاصي (كالغناء، والنوح، والملاهي)؛ لأن المعصية لايتصور استحقاقها بالعقد فلايجب عليه الأجر، وإن أعطاه الأجر وقبضه لايحل له ويجب عليه رده على صاحبه. وفي المحيط: إذا أخذ المال من غير شرط يباح له؛ لأنه عن طوع من غير عقد.
وفي شرح الكافي: لايجوز الإجارة على شيء من الغناء والنوح، والمزامير، والطبل أو شيء من اللهو ولا على قراءة الشعر ولا أجر في ذلك.

تکملہ فتح الملھم (4/436):

وعلیٰ ھذا الأصل فالألعاب التی یقصد بہا ریاضۃ الأبدان أو الأذھان جائزۃ فی نفسھا مالم

تشتمل علی معصیۃ اخریٰ ومالم تؤ د الانھماک فیھا إلیٰ الإخلال بواجب الانسان فی دینہ ودنیاہ۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 192):

ومنها أن تكون المنفعة مقصودة يعتاد استيفاؤها بعقد الإجارة ويجري بها التعامل بين الناس؛ لأنه عقد شرع بخلاف القياس لحاجة الناس ولا حاجة فيما لا تعامل فيه للناس فلا يجوز استئجار الأشجار لتجفيف الثياب عليها والاستظلال بها

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

23/صفر1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب