03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ٹیسٹ ٹیوب میں بارآوری (In Vitro Fertilization) کا حکم
81264جائز و ناجائزامور کا بیانٹیسٹ ٹیوب بے بی اورخون کی منتقلی کے احکام

سوال

اگر شادی شدہ جوڑے کی اولاد نہیں ہورہی اور وہ  اس کے لیے ( IVF) ٹریٹمنٹ کا ارادہ کرے، اس طریقے سے کہ مادہ اسی شوہر کا ہے اور رحم بھی اسی بیوی کا، مگر دونوں کے مادے مصنوعی/تکنیکی طریقے سے بیوی کے رحم میں ڈالے جائیں۔ اس طریقے پر عمل کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر میاں بیوی کی فطری طریقے سے اولاد نہ ہوتی ہو، تو آئی وی ایف (ٹیسٹ ٹیوب بے بی) کا طریقہ بطورِ علاج اختیار کرنا جائز ہے اِس شرط کے ساتھ کہ جرثومہ کسی غیر مرد کا نہ ہو، بلکہ شوہر ہی کا ہو اور اُسے بیوی کے بیضہ سے جوڑ کر بیوی ہی کے رحم میں رکھا جائے، کسی اور خاتون کے رحم میں نہ رکھا جائے۔ اور علاج کے دوران مندرجہ ذیل دوباتوں کا مزید خیال رکھا جائے:

1۔ شوہر کی منی کا اخراج بیوی کے ذریعے سے ہو۔ بیوی کے ہاتھ کے ذریعہ  بھی منی کا اخراج کیا جاسکتا ہے۔

2۔  بیوی کے رحم میں نطفہ پہنچانے کا عمل کسی لیڈی ڈاکٹر کے ذریعے انجام دیا جائے اور جتنا ستر کھولنے کی حاجت ہو، صرف اُس حد تک ستر کھولا جائے، باقی ستر کے حصے کو نہ کھولا جائے۔ اگر کسی لیڈی ڈاکٹر کا انتظام نہ ہوسکتا ہو اور نہ ہی یہ ممکن ہو کہ مرد ڈاکٹر کسی خاتون کو سکھا کر اُس کے ذریعے یہ عمل انجام دے تو پھر ایسی صورت میں مرد ڈاکٹر کے ذریعے بھی یہ عمل انجام دیا جاسکتا ہے، لیکن اِس میں پھر اِس بات کا اور زیادہ اہتمام ہو کہ ضرورت کی جگہ کے علاوہ باقی ستر کو مکمل ڈھانکا جائے، اور اِس کے ساتھ مرد ڈاکٹر کے ساتھ شوہر یا کوئی خاتون موجود ہوں تاکہ خلوت پیش نہ آئے۔

اِسی طرح مرد ڈاکٹر کو ایسی صورت میں اِس بات کا بھی اہتمام کرنا چاہیے کہ وہ دورانِ علاج ستر کے حصے کی طرف کم سے کم نظر کرے اور ضرورت کے علاوہ اپنی نظر کو دوسری طرف رکھے۔

حوالہ جات

ردالمحتار: 6/371

"وإن كان في موضع الفرج، فينبغي أن يعلم امرأة تداويها، فإن لم توجد وخافوا عليها أن تهلك أو يصيبها وجع لا تحتمله يستروا منها كل شيء، إلا موضع العلة، ثم يداويها الرجل ويغض بصره ما استطاع، إلا عن موضع الجرح".

وفیہ أیضا: 2/298

"ويجوز أن يستمني بيد زوجته وخادمته اهـ وسيذكر الشارح في الحدود عن الجوهرة أنه يكره ولعل المراد به كراهة التنزيه فلا ينافي قول المعراج يجوز تأمل وفي السراج إن أراد بذلك تسكين الشهوة المفرطة الشاغلة للقلب وكان عزبا لا زوجة له ولا أمة أو كان إلا أنه لا يقدر على الوصول إليها لعذر قال أبو الليث أرجو أن لا وبال عليه وأما إذا فعله لاستجلاب الشهوة فهو آثم اهـ"

(الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (7/ 5099)

إن مجلس مجمع الفقه الإسلامي المنعقد في دورة مؤتمره الثالث بعمان عاصمة المملكة الأردنية الهاشمية من 8 - 13 صفر 1407 هـ/11 إلى 16 أكتوبر 1986 م.بعد استعراضه لموضوع التلقيح الصناعي «أطفال الأنابيب» وذلك بالاطلاع على البحوث المقدمة والاستماع لشرح الخبراء والأطباء.وبعد التداول.تبين للمجلس:أن طرق التلقيح الصناعي المعروفة في هذه الأيام هي سبع: الأولى: أن يجري تلقيح بين نطفة مأخوذة من زوج وبييضة مأخوذة من امرأة ليست زوجته ثم تزرع اللقيحة في رحم زوجته. الثانية: أن يجري التلقيح بين نطفة رجل غير الزوج وبييضة الزوجة ثم تزرع تلك اللقيحة في رحم الزوجة. الثالثة: أن يجري تلقيح خارجي بين بذرتي زوجين ثم تزرع اللقيحة في رحم امرأة متطوعة بحملها. الرابعة: أن يجري تلقيح خارجي بين بذرتي رجل أجنبي وبييضة امرأة أجنبية وتزرع اللقيحة في رحم الزوجة. الخامسة: أن يجري تلقيح خارجي بين بذرتي زوجين ثم تزرع اللقيحة في رحم الزوجة الأخرى. السادسة: أن تؤخذ نطفة من زوج وبييضة من زوجته ويتم التلقيح خارجياً ثم تزرع اللقيحة في رحم الزوجة. السابعة: أن تؤخذ بذرة الزوج وتحقن في الموضع المناسب من مهبل زوجته أو رحمها تلقيحاً داخلياً. وقرر: أن الطرق الخمسة الأولى كلها محرمة شرعاً وممنوعة منعاً باتاً لذاتها أو لما يترتب عليها من اختلاط الأنساب وضياع الأمومة وغير ذلك من المحاذير الشرعية. أما الطريقان السادس والسابع فقد رأى مجلس المجمع أنه لا حرج من اللجوء إليهما عند الحاجة مع التأكيد على ضرورة أخذ كل الاحتياطات اللازمة.والله أعلم۔

عنایت اللہ عثمانی

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

23/صفر الخیر / 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عنایت اللہ عثمانی بن زرغن شاہ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب