03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کےگھروالوں نےزبردستی خلع کروالیا توکیاحکم ہوگا؟
81240طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

السلام علیکم مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ میرے گھر والوں نےز بردستی خلع کروایا ہے، جبکہ میرے شوہر نے کوئی طلاق نہیں دی اور نہ ہی خلع کے پیپرز پر کوئی سائن کیے ہیں ،تو کیا میرا خلع ہو گیا ہے ؟یا میں اپنے شوہر کے نکاح میں ہوں؟ میری راہنمائی فرمائیں اور اس بارے میں مجھے فتوی دیدیں۔

 وضاحت : میرے شوہر عدالت نہیں گئےتھے، کورٹ نے ایک طرفہ فیصلہ دیا ہےاورفیصلےمیں وکیل نے بہت سی  باتیں جھوٹ بھی  لکھی ہیں، میرے شوہر کام  بھی کرتے تھے،  میں خوشی خوشی گھر آئی  تھی، مجھے میرے گھر والوں نے واپس نہیں جانے دیا  اور خلع کروالیا ، میں اپنے شوہر کے ساتھ خوش تھی۔

تنقیح:شوہر کابھی یہی  کہناہےکہ  میں بیوی کےساتھ ہی رہنےپرراضی ہوں،ہماراآپس میں کوئی  جھگڑانہیں تھا،بس لڑکی والوں نےپیپر بنوائےاورمجھے بھجوادیے،وجہ پوچھی توشوہرنےکہامجھےاس کاعلم نہیں  ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

منسلکہ عدالتی خلع کافیصلہ شرعادرست نہیں،کیونکہ خلع یک طرفہ نہیں ہوسکتا،اس میں میاں بیوی دونوں کی رضامندی ضروری ہوتی ہےاور بیوی کی طرف سےبدل خلع(مہریاباہمی رضامندی سےطےشدہ رقم)ضروری ہوتاہے،جبکہ صورت مسئولہ میں( تنقیح سےیہ معلوم ہوتاہےکہ) شوہربھی خلع پرراضی نہیں اور(وضاحت سےیہ معلوم ہوتاہےکہ)بیوی بھی اس فیصلےپرراضی نہیں ہے(وہ شوہرکےساتھ رہناچاہتی ہے)ایسےمیں صرف بیوی کےوالدین کےمطالبےپرعدالت کی طرف سےخلع کافیصلہ شرعامعتبرنہیں ہوگا،اس لیےموجودہ صورت میں میاں بیوی کاسابقہ نکاح برقرارہے،نکاح میں کوئی فرق نہیں پڑا۔

ہاں شوہر کوچاہیےکہ اگربیوی کےوالدین کوشوہرسےواقعتاکوئی مسئلہ ہےتومل بیٹھ کر اس کوجلد حل کرے تاکہ بعدمیں اس طرح کی نوبت نہ آئے۔

حوالہ جات

قال اللہ تعالی فی سورۃ البقرة آیت  229 :

فان خفتم ألایقیماحدوداللہ فلاجناح علیہما فیماافتدت بہ۔

" الھندیة"1  /488 :                                       

اذاتشاقا الزوجان وخافاأن لایقیما حدوداللہ فلابأس بأن تفدی نفسہا منہ بمال یخلعہا بہ۔

"زادالمعاد" 2/238 :وفی تسمیتہ صلی اللہ علیہ وسلم الخلع فدیۃ دلیل علی أن فیہ معنی المعاوضۃ ولہذااعتبرفیہ رضاالزوجین ۔

"فتح القدیر" 3/199 :

الخلع ازالۃ ملک النکاح ببدل بلفظ الخلع ۔

"ردالمحتارعلی الدرالمختار" 12/109 :

وشرطہ کالطلاق (وھواھلیة الزوج وکون المراة محلاللطلاق منجزا،اومعلقاعلی الملک ،امارکنہ فھوکمافی البدائع اذاکان بعوض الایجاب والقبول لانہ عقد علی الطلاق بعوض ۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

19/صفر      1445ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب