03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
استمناء بالید کی حرمت سے متعلق چند شبہات کا جواب
81581جائز و ناجائزامور کا بیانخاندانی منصوبہ بندی

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ عام طور پر ہم علماء کرام سے سنتے ہیں کہ مشت زنی کرنا مکروہ تحریمی ہے، لیکن مفتی صاحب! (۱)جیسا کہ پوری امت کا اتفاق ہے کہ مشت زنی کے بارے میں وارد ساری احادیث ضعیف ہیں اور ضعیف احادیث صرف فضائل میں بیان ہوتی ہیں، اس سے حرام اور حلال کا مسئلہ ثابت نہیں ہوتا اور(۲) علماء کرام سورہ مومنون کی آیت 6،7،اور 8 سے استدلال پکڑتے ہیں، لیکن اگر دیکھا جائے تو وہاں حافظون کا لفظ استعمال ہوا اگر اس کا مطلب اپنی شرمگاہ کو لونڈی اور بیوی کے علاوہ اپنے آپ سے بھی حفاظت کرانے والا لیا جائے تو پھر تو اپنی شرمگاہ کو ہاتھ لگانا اور دیکھنابھی جائز نہیں ہوگا ،کیونکہ جس طرح بیوی اور لونڈی کے علاوہ کسی کے شرمگاہ کو دیکھنا اور ہاتھ لگانا جائز نہیں تو اسی طرح خود لگانا بھی جائز نہیں، لیکن حدیث میں تو اس کا الٹ ہے شرمگاہ کو ہاتھ لگانے کی اجازت معلوم ہوتی ہے اگر اس کا تشریح یہ کی جائے کہ وہ تو ضرورت کی وجہ سے ہاتھ لگانا جائز ہے تو پھر بھی حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی محدث یا فقیہ نے آج تک اپنی شرگاہ کو بنا ضرورت ہاتھ لگانے کو حرام قرار نہیں دیا تو اس تفصیل کی روشنی مندرجہ بالا آیات کہ مفہوم یہی نکلتا ہے کہ یہاں اللہ تعالی ہمیں حرام انٹرکوس سے منع کرنا چاہتا ہے جیسے زنا لواطت وغیرہ اور(۳) اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان احادیث سے مشت زنی کی حرمت کا نتیجہ نکالا جائے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کی طاقت نہ رکھنے کی صورت میں روزوں کا حکم دیا اور مشت زنی کا حکم نہیں دیا،تو مفتی صاحب! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شایان شان نہیں کہ وہ مکروہ تنزیہی کا حکم دے کسی کو، بلکہ پیغمبر ہمیشہ اعلی چیز کا حکم دیتے ہیں، بلا شبہ کثرت سے روزے رکھنا مشت زنی سے ہزار گنا بہتر ہے تو یہاں سے بھی مشت زنی کے حرام ہونے کا استدلال نہیں پکڑا جا سکتا اور(۴) اگر عثمان بن مزعون رضی اللہ عنہ کی حدیث جس میں آپ رضی اللہ عنہ نے حالت سفر میں بیوی سے دور ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو خصی کرنے کی اجازت مانگی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ،لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت نہیں دی تو اس سے بھی مشت زنی کے مکروہ تحریمی کا استدلال نہیں کیا جا سکتا ،کیونکہ کسی چیز کا حکم نہ دینا اس چیز کے حرام ہونے کی دلالت نہیں کرتا۔ اور جیسے کہ پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ کثرت سے روزے رکھنا مشت زنی سے ہزار گنا بہتر ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شایان شان نہ تھا کہ مکروہ تنزیہی کا حکم دیتے اور(۵) بہت سارے تابعین سے اس کے مکروہ تنزیہی اور یا مباح کا تذکرہ بھی ملتا ہے جیسے نمونے کے طور پر عمر بن دینا ،عطاء وغیرہ اور(۶) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے جس شخص نے سوال کیا وہ زنی کے بارے میں تو اس نے جواب دیا کہ اس سے اچھا تھا کہ آپ لونڈی سے نکاح کرتے ، اور ہاں یہ زنا سے بہتر ہے تو اس روایت سے بھی مشت زنی کی حرمت ثابت نہیں ہوتی، لیکن اگر یہ کہا جائے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے سوال سنتے ہی سر جھکایا یا منہ پھیر لیا تھا تو لہذا یہ عمل مکروہ تحریمی ہے تو اس روایت میں کہیں بھی نہیں ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس عمل کو گناہ سمجھ کر منہ پھیر لیا۔ پہلے تو یہ روایت ضعیف ہے اگر صحیح بھی مانا جائے تو یہ منہ پھیرنا شرم کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ (۷)یہاں پر بات دلائل سے واضح نہیں تو پھر علماء کرام کس دلیل کی وجہ سے مشت زنی کو مکروہ تحریمی کہتے ہیں مہربانی فرما کر اس مسئلے کی ہرپہلو کو غور سے مطالعہ کرکے جواب عنایت کی جائے صرف فقہ حنفی میں چونکہ مکروہ تحریمی ہے، اسلئے ہم بھی مکروہ تحریمی کہیں گے، اس پر اکتفا نہ کیا جائے ۔کسی بھی قسم کی اگر گستاخی کی ہو یا الفاظ نا مناسب ہوں اس کے لئے معافی چاہتا ہوں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پہلے تو اس مسئلہ کے بارے میں حکم شرعی اور اس کے دلائل لکھے جاتے ہیں، اس کے بعد سؤال میں جمہور کے موقف کے  دلائل  پرذکر کردہ شبہات اور اعتراضات کا جائز لیا جاتا ہے۔

 استمناء بالید (مشت زنی) کا حکم:

استمناء بالید کے بارے میں عام حالات میں جمہور علماءومذاہب اربعہ( مالکیہ ،شافعیہ حنابلہ اور حنفیہ) کے نزدیک حرمت کا حکم ہے، جبکہ حنفیہ کا دوسرا قول کراہت تحریمی اورامام شافعی کا قول قدیم اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی سے عند الحاجۃ کی قید کے ساتھ اباحت(کراہت تنزیہی) کی روایت بھی منقول ہے،(موسوعہ فقہیہ کویتیہ،وشامیہ) لیکن بعض حنابلہ اس قول کی تشریح اور تاویل روایت حرمت/ کرہت تحریمی کی روشنی میں جمہور کے مطابق فرماتے ہیں، جیساکہ اعتراضات کے جوابات کے ذیل میں انشاء اللہ تعالی آگے آتا ہے۔

جمہور کےدلائل:

 اس مسئلہ میں جمہور کی دلیل سورۃ مؤمنون اور سورہ معارج کی آیات ہیں،ان کے نزدیک استدلال سورت مؤمنون کی آیت"فمن ابتغی وراء ذالک فاؤلئک ھم العادون" کے کلمات عموم سے ہے جیساکہ علامہ آلوسی رحمہ اللہ تعالی نے اس کی تصریح فرمائی ہے،نیز  تفسیر قرطبی کے مطابق امام مالک  رحمہ اللہ تعالی نے اس آیت سے استمناء کے حرمت پر استدلال فرمایاہے اورتفسیر ابن کثیر  اور سنن کبری کے مطابق امام شافعی رحمہ اللہ تعالی نے بھی اس آیت سے استمناء کے حرمت پر استدلال فرمایا ہے ،اور علامہ آلوسی رحمہ اللہ تعالی نے اس بات کی پرزور ومدلل تردید فرمائی ہے کہ اس آیت کے عموم میں استمناء بالید داخل نہیں اور تصریحات ائمہ کے علاوہ اصول فقہ کے مطابق بھی اس آیت سے استدلال کو بالکل بے غبار قرار دیا ہے۔البتہ بعض ائمہ احناف( جیساکہ امام زیلعی) کے مطابق آیت " ھم لفروجھم حافظون الا علی ازواجھم او ماملکت ایمانھم" مستدل ہے، جیساکہ رد المحتار میں لکھا ہے،جبکہ بعض حضرات نے اس بارے میں بعض احادیث وآثار کا بھی سہارا لیا ہے،لہذا جمہور کے دلائل اوراحادیث وآثار کے اسنادی حالت پرفنی لحاظ سے کلام نقل کیاجا تا ہے۔

 القرآن المجید:

(۱)قال اللہ تعالی:{وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ (5) إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ (6) فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ (7)} [المؤمنون: 5 - 7]

التفسير المظهري (6/ 365):

وايضا في هذه الآية دليل على ان الاستمناء باليد حرام- وهو قول العلماء

تفسير ابن كثير ت سلامة (5/ 463):

وقد استدل الإمام الشافعي، رحمه الله، ومن وافقه على تحريم الاستمناء باليد بهذه الآية الكريمة {والذين هم لفروجهم حافظون. إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم} قال: فهذا الصنيع خارج عن هذين القسمين، وقد قال: {فمن ابتغى وراء ذلك فأولئك هم العادون} وقد استأنسوا بحديث رواه الإمام الحسن بن عرفة في جزئه المشهور حيث قال:

حدثني علي بن ثابت الجزري، عن مسلمة بن جعفر، عن حسان بن حميد  ، عن أنس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "سبعة لا ينظر الله إليهم يوم القيامة، ولا يزكيهم، ولا يجمعهم مع العاملين، ويدخلهم النار أول الداخلين، إلا أن يتوبوا، فمن تاب تاب الله عليه: ناكح يده  ، والفاعل، والمفعول به، ومدمن  الخمر، والضارب والديه حتى يستغيثا، والمؤذي جيرانه حتى يلعنوه، والناكح حليلة جاره" .هذا حديث غريب، وإسناده فيه من لا يعرف؛ لجهالته، والله أعلم.

السنن الكبرى للبيهقي (7/ 323)

قال الشافعي رحمه الله: قال الله تبارك وتعالى: {والذين هم لفروجهم حافظون إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم فإنهم غير ملومين فمن ابتغى وراء ذلك فأولئك هم العادون} [المؤمنون: 6] قال الشافعي رحمه الله: فلا يحل العمل بالذكر إلا في زوجة أو ملك يمين فلا يحل الاستمناء , والله أعلم

تفسير القرطبي (12/ 105)

قال محمد بن عبد الحكم: سمعت حرملة بن عبد العزيز قال: سألت مالكا عن الرجل يجلد عميرة، فتلا هذه الآية:" والذين هم لفروجهم حافظون"- إلى قوله-" العادون". وهذا لأنهم يكنون عن الذكر بعميرة،

تفسير الألوسي = روح المعاني (9/ 213)

وكذا اختلف في استمناء الرجل بيده ويسمى الخضخضة وجلد عميرة فجمهور الأئمة على تحريمه وهو عندهم داخل فيما وراء ذلك، وكان أحمد بن حنبل يجيزه لأن المني فضلة في البدن فجاز إخراجها عند الحاجة كالفصد والحجامة، وقال ابن الهمام: يحرم فإن غلبته الشهوة ففعل إرادة تسكينها به فالرجاء أن لا يعاقب ومن الناس من منع دخوله فيما ذكر ففي البحر: كان قد جرى لي في ذلك كلام مع قاضي القضاة أبي الفتح محمد بن علي ابن مطيع القشيري بن دقيق العيد فاستدل على منع ذلك بهذه الآية فقلت: إن ذلك خرج مخرج ما كانت العرب تفعله من الزنا والتفاخر به في أشعارها وكان ذلك كثيرا فيهم بحيث كان في بغاياهم صاحبات رايات ولم يكونوا ينكرون ذلك وأما جلد عميرة فلم يكن معهودا فيهم ولا ذكره أحد منهم في شعر فيما علمناه فليس بمندرج فيما وراء ذلك انتهى، وأنت تعلم أنه إذا ثبت أن جلد عميرة كناية عن الاستمناء باليد عند العرب كما هو ظاهر عبارة القاموس فالظاهر أن هذا الفعل كان موجودا فيما بينهم وإن لم يكن كثيرا شائعا كالزنا فمتى كان ذلك من أفراد العام لم يتوقف اندراجه تحته على شيوعه كسائر أفراده، وفي الأحكام إذا كان من عادة المخاطبين تناول طعام خاص مثلا فورد خطاب عام بتحريم الطعام نحو حرمت عليكم الطعام فقد اتفق الجمهور من العلماء على إجراء اللفظ على عمومه في تحريم كل طعام على وجه يدخل فيه المعتاد وغيره وأن العادة لا تكون منزلة للعموم على تحريم المعتاد دون غيره خلافا لأبي حنيفة عليه الرحمة وذلك لأن الحجة إنما هي في اللفظ الوارد وهو مستغرق لكل مطعوم بلفظه ولا ارتباط له بالعوائد وهو حاكم على العوائد فلا تكون العوائد حاكمة عليه، نعم لو كانت العادة في الطعام المعتاد أكله قد خصصت بعرف الاستعمال اسم الطعام بذلك كما خصصت الدابة بذوات القوائم الأربع لكان لفظ الطعام منزلا عليه دون غيره ضرورة تنزيل مخاطبة الشارع للعرب على ما هو المفهوم لهم من لغتهم.

والفرق أن العادة أولا إنما هي مطردة في اعتياد أكل ذلك الطعام المخصوص فلا تكون قاضية على ما اقتضاه عموم لفظ الطعام، وثانيا هي مطردة في تخصيص اسم الطعام بذلك الطعام الخاص فتكون قاضية على الاستعمال الأصلي اهـ، ومنه يعلم أن الاستمناء باليد إن كان قد جرت عادة العرب على إطلاق ما وراء ذلك عليه دخل عند الجمهور وإن لم تجر عادتهم على فعله وإن كان لم تجر عادتهم على إطلاق ذلك عليه وجرت على إطلاقه على ما عداه من الزنا ونحوه لم يدخل ذلك الفعل في العموم عند الجمهور.

ومن الناس من استدل على تحريمه بشيء آخر نحو ما ذكره المشايخ من قوله صلّى الله عليه وسلّم: «ناكح اليد معلون»وعن سعيد بن جبير: عذب الله تعالى أمة كانوا يعبثون بمذاكيرهم،وعن عطاء: سمعت قوما يحشرون وأيديهم حبالى وأظن أنهم الذين يستمنون بأيديهم والله تعالى أعلم، وتمام الكلام في هذا المقام يطلب من محله، ولا يخفى أن كل ما يدخل في العموم تفيد الآية حرمة فعله على أبلغ وجه ونظير ذلك إفادة قوله تعالى: وَلا تَقْرَبُوا الزِّنى [الإسراء: 32] حرمة فعل الزنا فافهم.

(۲){ وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ (29) إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ (30) فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ} [المعارج: 29 - 31]

التفسير المظهري (10/ 68):

وقال البغوي وفيه دليل على ان الاستمناء باليد حرام وهو قول العلماء۔

الاحادیث المبارکۃ:

كنز العمال (16/ 90):

(۱)سبعة لا ينظر الله إليهم يوم القيامة ولا يزكيهم ولا يجمعهم مع العالمين، يدخلهم النار أول الداخلين إلا أن يتوبوا، إلا أن يتوبوا، فمن تاب تاب الله عليه: الناكح يده، والفاعل،والمفعول به، ومدمن الخمر، والضارب أبويه حتى يستغيثا، والمؤذي جيرانه حتى يلعنوه، والناكح حليلة جاره. "الحسن بن عرفة في جزئه، هب - عن أنس( مرفوعا)".

التلخيص الحبير ط العلمية (3/ 399):

حديث ملعون "من نكح يده" الأزدي في الضعفاء وابن الجوزي من طريق الحسن بن عرفة في جزئه المشهور من حديث أنس بلفظ سبعة لا ينظر الله إليهم فذكر منهم الناكح يده5 وإسناده ضعيف ولأبي الشيخ في كتاب الترهيب من طريق أبي عبد الرحمن الحبلي وكذلك رواه جعفر الفريابي من حديث عبد الله بن عمرو وفيه ابن لهيعة وهو ضعيف.

 اقول:ولکن قال العلامۃ ظفر احمد العثمانی رحمہ اللہ تعالی فی اعلاء السنن(ج۱۱،ص۲۶۳): قلت قد ثبت کونہ محتجا بہ کما مر غیر مرۃ

كنز العمال (16/ 99):

(۲)ألا لعنة الله والملائكة والناس أجمعين على من انتقص شيئا من حقي، وعلى من أبى عترتي، وعلى من استخف بولايتي، وعلى من ذبح لغير القبلة، وعلى من انتفى من ولده، وعلى من برئ من مواليه، وعلى من سرق من منار الأرض وحدودها، وعلى من أحدث في الإسلام حدثا أو آوى محدثا، وعلى ناكح البهيمة، وعلى ناكح يده، وعلى من أتى الذكران من العالمين، وعلى من تحصر ولا حصور بعد يحيى بن زكريا، وعلى رجل تأنث وعلى امرأة تذكرت، وعلى من أتى امرأة وابنتها، وعلى من جمع الأختين إلا قد سلف، وعلى مغور الماء المنتاب، وعلى المتغوط في ظل النزال، وعلى من آذانا في سبلنا، وعلى الجارين أذبالا، وعلى الماشين اختيالا وعلى الناطقين أشفارا بالخنى، وعلى الشابين فضالا، وعلى المعقوس نعالا. "الباوردي - عن بشر بن عطية،(مرفوعا) وضعف".

كنز العمال (16/ 258):

(۳)"مسند علي رضي الله عنه" عن الحارث عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: سبعة لا يكلمهم الله يوم القيامة ولا ينظرإليهم، يقال لهم: ادخلوا النار مع الداخلين، إلا أن تتوبوا، إلا أن يتوبوا، إلا أن يتوبوا: الفاعل، والمفعول به، والناكح يده، والناكح حليلة جاره، والكذاب الأشر، ومعسر المعسر، والضارب والديه حتى يستغيثا. "ابن جرير وقال: لا يعرف عن رسول الله إلا رواية علي، ولا يعرف له مخرج عن علي إلا من هذا الوجه، غير أن معانيه معاني قد وردت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم بها أخبار بألفاظ خلاف هذه الألفاظ".

 واقول:  ان قول ابن جریر ھذا دلیل  علی وجود الشوھد والتوابع لحدیث الباب۔

الإيماء إلى زوائد الأمالي والأجزاء (4/ 352):

(۴)عن عبدالله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «سبعة لا ينظر الله عز وجل إليهم يوم القيامة ولا يزكيهم ويقول: ادخلوا النار مع الداخلين: الفاعل والمفعول به، والناكح يده، وناكح البهيمة، وناكح المرأة في دبرها، وجامع بين المرأة وابنتها، والزاني بحليلة جاره، والمؤذي لجاره حتى يلعنه».

أمالي ابن بشران : أخبرنا أبوبكر محمد بن الحسين بن عبدالله الآجري بمكة: حدثنا الفريابي: حدثنا قتيبة بن سعيد: حدثنا عبدالله بن لهيعة، عن عبدالرحمن بن زياد بن أنعم، عن أبي عبدالرحمن الحبلي، عن عبدالله بن عمرو .. .

البدر المنير (7/ 663):

عن إسماعيل البصري، عن أبي جناب الكلبي، عن ابن عمير عن أبي سعيد الخدري رفعه «أهلك الله - عز وجل - أمة كانوا يعبثون بذكورهم» ثم قال: هذا حديث ليس بشيء؛ إسماعيل مجهول، وأبو جناب ضعيف.

واقول: ولکن لا یخفی علیک ان ابن الجوزی متشدد    فی الحکم علی الحدیث فالحدیث  من حیث السند  ضعیف فقط و بعد وجود التوابع لا ینزل عن درجۃ الحسن ۔

خلاصة البدر المنير (2/ 202):

حديث: "ملعون من نكح يده".

غريب جدًّا، ولا أعلم في الباب غير حديث أبي هريرة مرفوعًا: "أهلك الله أُمَّةً كانوا يعبثون بذكورهم"

كشف الخفاء ط القدسي (2/ 325):

(۵)ناكح اليد ملعون.

قال الرهاوي في حاشية المنار لا أصل له.

 واقول:قال الشيخ علي القاري في "المصنوع في معرفة الحديث الموضوع" بعد سوق الحدیث:"لا أصل له. صرح به الرهاوي"!! وکذا فی کشف الخفاءولکن حکم العلامۃ البانی رحمہ اللہ تعالی علیہ بمطلق الضعف،کما فی السلسلۃ  فالحدیث قد تقوی بالشواھد   والتوابع من الاحادیث النبویۃ    وبآثار الصحابہ والتابعین وکذا بالاستدلال بعموم آیۃ القرآن کما مر انفا،فلا ضیر فی ضعفہ۔

 الآثار:

 فی  التفسیرالمظھری :

قال ابن جريج سالت عطاء عنه فقال مكروه سمعت ان قوما يحشرون وأيديهم حبالى وأظن انهم هؤلاء-

 وعن سعيد بن جبير قال عذب الله امة كانوا يعبثون بمذاكيرهم.

شعب الإيمان (7/ 330):

 عن جميل هو الراسبي، عن مسلمة بن جعفر، عن حسان بن جميل، عن أنس بن مالك قال: " يجيء الناكح يده يوم القيامة ويده حبلى "

مصنف عبد الرزاق الصنعاني (7/ 390):

عن الثوري، عن عبد الله بن عثمان، عن مجاهد قال: سئل ابن عمر عنه قال: «ذلك نائك نفسه»

عن الثوري، ومعمر، عن الأعمش، عن أبي رزين، عن أبي يحيى، عن ابن عباس قال: قال رجل: إني أعبث بذكري حتى أنزل؟ قال: «إن نكاح الأمة خير منه، وهو خير من الزنا»،

السنن الكبرى للبيهقي (7/ 323):

عن سفيان الثوري، عن عمار الدهني، عن مسلم البطين، عن ابن عباس , رضي الله عنهما , أنه سئل عن الخضخضة قال: " نكاح الأمة خير منه وهو خير من الزنا " , هذا مرسل موقوف۔

 اعتراضات کے جوابات:

 سؤال میں پہلا اعتراض اس بارے میں واردتمام احادیث کے ضعیف ہونے کا پیش کیا گیا ہے۔چنانچہ مستفتی نے لکھا ہے  کہ "پوری امت کا اتفاق ہے کہ مشت زنی کے بارے میں وارد ساری احادیث ضعیف ہیں اور ضعیف احادیث صرف فضائل میں بیان ہوتی ہیں، اس سے حرام اور حلال کا مسئلہ ثابت نہیں ہوتا۔"

لیکن اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ  اس مسئلہ میں  جمہور کا مستدل سورت مومنون کی قرآنی آیت نمبر۷ ہے ،لہذا احادیث کا ضعف ان کے استدلال کے لیے مضر نہیں ، بلکہ وہ محض استیناس و تایید کے لیے ہیں،  جیساکہ ابن کثیر میں بھی ایسا لکھاہے،دوسری بات یہ ہے کہ اس بارے میں تمام احادیث کے ضعف کا دعوی بھی درست نہیں، چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت کواعلاء السنن میں حجت قراردیا گیاہے،کما مر نقلا عنہ،تیسرے یہ کہ  اگرچہ اصولاشدیدضعیف احادیث سے استدلال درست نہیں، لیکن یہ بھی اصول میں مسلم ہے کہ  ضعف یا وضع متن ضعف یا وضوع معنی ومفہوم کو مستلزم نہیں، چنانچہ انفرادی طور پرکم درجے کی ضعیف روایت تعدد طرق سے مروی ہویا اسے تعامل حاصل ہوجائے یا اس  کے شوہد اور توابع  موجود ہوں یا دیگر وقطعی نصوص مثلاقرآن مجید یا مشہور حدیث  اس کے معنی ومفہوم کی تایید ہوتی ہو یا اس سے کوئی مسلم مجتہد حقیقی جیساکہ(ائمہ اربعہ) یا مجتہدحکمی مثلامتبحر عالم(جیساکہ مشایخ مذہب) استدلال فر لیں توان تمام صورتوں میں ضعیف درجہ حسن کو پہنچ جاتی ہیں اور قابل استدلال ہوتی ہے۔جبکہ مسئلہ زیر بحث متعلق ضعیف روایات میں تقویت کی تقریبامذکورہ تمام وجوہ موجود ہیں،جیساکہ ابن جریر کی تہذیب  کے حوالے سےکنزل العمال میں علی رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت کے ذیل میں اس کے شواہد وتوابع کا ذکر کیا گیا ہے اور اعلاء السنن میں بھی روایت حضرت انس رضی اللہ کے قابل استدلال ہونے کے بعدروایت علی کے ذیل میں ایسا ہی نقل کیا گیا ہے،نیز علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نےبھی سلسلہ احادیث ضعیفہ میں حدیث ناکح الید ملعون کے تحت  اور علامہ ٖظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ تعالی نے  بفرض ضعف حدیث قرآنی استدلال سے اس کی تقویت پرتقریبا ایسا ہی لکھا ہے۔

قلت:فان لم یوجد سند الحدیث محتجا بہ فلا یضر المستدل، فان الدعوی  ثابتۃ بالقرآن المجید(اعلاء السنن:ج۱۱،ص۲۶۳)

دوسرا اعتراض یہ ہے کہ  اس بارے میں سورت مؤمنون کی آیت نمبر۶،۷،۸ سے استدلال درست نہیں، چنانچہ آیت "حافظون الا علی ازواجھم او ماملکت ایمانھم" کے مفہوم کے بارے میں مستفتی لکھتا ہے کہ"اگر اس کا مطلب اپنی شرمگاہ کو لونڈی اور بیوی کے علاوہ اپنے آپ سے بھی حفاظت کرانے والا لیا جائے تو پھر تو اپنی شرمگاہ کو ہاتھ لگانا اور دیکھنابھی جائز نہیں ہوگا ،کیونکہ جس طرح بیوی اور لونڈی کے علاوہ کسی کے شرمگاہ کو دیکھنا اور ہاتھ لگانا جائز نہیں تو اسی طرح خود لگانا بھی جائز نہیں، جبکہ احادیث سے اس کے خلاف جواز ثابت ہوتا ہے، اگر اس جواز کو ضرورت پر حمل کیا جائے تو بھی کسی عالم نے بلاضرورت مطلقا شرم گاہ کو ہاتھ لگانا حرام اور ناجائز نہیں کہا۔"

اس بارے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ  سورت مؤمنون کی آیت نمبر ۸ کا تو اس مسئلہ سے تعلق ہی نہیں، اورآیت( نمبر۵ اور ۶) جمہور کا مستدل نہیں، بلکہ بعض ائمہ احناف( مثلا امام زیلعی رحمہ اللہ تعالی) کا مستدل ہے جیساکہ رد المحتار میں لکھا ہے،لیکن امام زیلعی رحمہ اللہ تعالی کے ذکر کردہ مستدل کے مطابق بھی  مستفتی کامذکور اعتراض چند وجوہ سے درست نہیں ۔اول تو جمہور کا حرمت استمناء کا استدلال آیت نمبر ۵ اور ۶سے نہیں، بلکہ آیت نمبر ۷ کے کلمہ وراء ذالک کے عموم سے ہے جیساکہ علامہ آلوسی رحمہ اللہ تعالی نے تصریح فرمائی ہے اور دوسرے یہ کہ  اگر آیت ۵ اور ۶سے مان بھی لیا جائے تو اس سے اپنی شرم گاہ کو ہاتھ لگانا  آیت کے حصر کے منافی ہونا  بھی لازم نہیں آتا،اس لیے کہ آیت میں بیوی اور لونڈی کے علاوہ سےاپنی  شرم گاہ کی حفاظت کا ذکر ہے، جبکہ ہاتھ لگانا حفاظت کے منافی نہیں، اس لیے کہ اس آیت نمبر ۵ میں حفاظت سے مراد عدم ابتذال وعدم استعمال ہے، جیساکہ تفسیر بیضاوی میں حفظون کا معنی لایبتذلون لکھا ہے،لہذا حفاظت کے منافی ہر وہ عمل ہے جس سے شرمگاہ میں یا اس کے افعال میں تغیر (غیر طبعی  ہیجانی کیفیت وحالت)پیدا ہو،یعنی قضاء شہوت یا اس کے دواعی ومقدمات مراد ہیں، لہذا مطلقا ہاتھ لگانا ممنوع نہیں، بلکہ بطور استلذاذ کے ہاتھ لگانا ، منی خارج کرنا یا دیکھنا یہ سب مکروہ ہیں، البتہ درجہ کراہت   ابتذال کے درجہ پر موقوف ہوگا۔لہذااستمناء مکروہ تحریمی جبکہ صرف دیکھنا یا ہاتھ لگانامکروہ تنزیہی ہےاوردوسروں کو دکھانا یا لونڈی اور بیوی کے غیر سے استمناء بالید بھی حرام ہوگا۔لہذایہ آیت اگرچہ بیوی  اورلونڈی کے علاوہ کسی  بھی اورمعروف ناجائز طریقہ سے قضاء شہوت کی ممانعت میں نص ہے، لیکن عبارۃ النص کے طورپر(کلمہ حصر سے پیدا ہونے والے عموم سلب سے) ان دو مستثنی مواقع کے علاوہ  جملہ قدیم اور جدیدذرائع سے قضاء شہوت اور اس کے دواعی کی ممانعت کو شامل ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 399)

ويدل أيضا على ما قلنا ما في الزيلعي حيث استدل على عدم حله بالكف بقوله تعالى {والذين هم لفروجهم حافظون} [المؤمنون: 5] الآية وقال فلم يبح الاستمتاع إلا بهما أي بالزوجة والأمة اهـ فأفاد عدم حل الاستمتاع أي قضاء الشهوة بغيرهما هذا ما ظهر لي والله سبحانه أعلم.

تیسرا اعتراض یہ ہے کہ " بطور استدلال یہ کہنا کہ زنا سے بچنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزوں کے ساتھ اس کی اجازت نہیں دی تو معلوم ہوا کہ یہ جائز نہیں، درست نہیں، اس لیے کہ یہ عمل مباح مطلق نہیں، بلکہ مکروہ تنزیہی ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکروہ تنزیہی کا حکم دینا شان رسالت شایان شان نہیں۔"

 اس کا جواب یہ ہے کہ کتب ذخیرہ احادیث میں متعدد مثالیں ملتی ہیں کہ  نفس جواز بتلانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکروہ تنزیہی کی اجازت دی یا خود عمل فرمایا، حقیقت یہ ہے کہ کراہت تنزیہی ایک امر اضافی ہےاور مجبور کے حق میں کراہت نہیں رہتی ،لہذا مقام  اضطرار  یا  وجود مقتضی جواز کی صورت میں بیان جوازمیں مکروہ تنزیہی کی اجازت دینے سے مکروہ  تنزیہی کے ارتکاب کی اجازت دینا لازم نہیں آتا۔لہذا زیر بحث مسئلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حرام کے مخلص بتاتے وقت  اس کا ذکر نہ کرنا جبکہ حالت ا ضطرار یا وجود مقتضی کی صورت میں کراہت بھی نہیں تھی ،دلیل ممانعت ہے،لہذاان السکوت فی معرض البیان بیان کے اصول کے تحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے بیان سے خاموش رہنا دلیل منع وحرمت ہے، نہ کہ دلیل کراہت تنزیہی۔

 چنانچہ اس بارےمیں عثمان بن مظعون کی روایت(المذکورفی الفصل الثانی من باب المساجدومواضع الصلاۃ، من مشكاة المصابيح،) کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سے استدلال درست نہیں ،لیکن یہاں وہی پہلی بات  ذکر کی جاتی ہےکہ جمہور کا استدلال قرآن مجید کی آیت سے ہے اور اگر اس حدیث سے اگر بعض نے استدلال فرمایا ہے، جیساکہ بعض نے لکھا ہے تو  وہ بھی مذکورہ  اصول کے مطابق درست ہے۔

مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (2/ 432):

 وفيه دليل على كراهة الاستمناء باليد

چو تھااعتراض اس بارے میں بعض تابعین سے کراہت تنزیہی اور اباحت کے روایات و اقوال کو بھی پیش کیا گیا ہے۔

جواب سے قبل مناسب ہے کہ اس مقام پر ان آثار کو نقل کردیا جائے جن کی بنیاد پر اس عمل کے علی الطلاق اباحت یا محض کراہت تنزیہی کا قول کیا جاتا ہے، اس کے بعد ان کا جواب لکھا جاتا ہے۔

قائلین جوازکے دلائل اور ان کےجوابات:

المحلى بالآثار (12/ 407):

وقد تكلم الناس في هذا فكرهته طائفة وأباحته أخرى: كما نا حمام نا ابن مفرج نا ابن الأعرابي نا الدبري نا عبد الرزاق عن سفيان الثوري عن عبد الله بن عثمان عن مجاهد قال: سئل ابن عمر عن الاستمناء؟ فقال: ذلك نائك نفسه.

وبه - إلى سفيان الثوري عن الأعمش عن أبي رزين عن أبي يحيى عن ابن عباس أن رجلا قال له: إني أعبث بذكري حتى أنزل؟ قال: أف، نكاح الأمة خير منه، وهو خير من الزنى.

وإباحہ قوم - كما روينا بالسند المذكور إلى عبد الرزاق نا ابن جريج أخبرني إبراهيم بن أبي بكر عن رجل عن ابن عباس أنه قال: وما هو إلا أن يعرك أحدكم زبه حتى ينزل الماء.

حدثنا محمد بن سعيد بن نبات نا أحمد بن عون الله نا قاسم بن أصبغ نا محمد بن عبد السلام الخشني نا محمد بن بشار - بندار - أنا محمد بن جعفر - غندر - نا شعبة عن قتادة عن رجل عن ابن عمر أنه قال: إنما هو عصب تدلكه.

وبه - إلى قتادة عن العلاء بن زياد عن أبيه أنهم كانوا يفعلونه في المغازي " يعني الاستمناء " يعبث الرجل بذكره يدلكه حتى ينزل - قال قتادة: وقال الحسن في الرجل يستمني يعبث بذكره حتى ينزل، قال: كانوا يفعلون في المغازي.

وعن جابر بن زيد أبي الشعثاء قال: هو ماؤك فأهرقه " يعني الاستمناء ".

وعن مجاهد قال: كان من مضى يأمرون شبابهم بالاستمناء يستعفون بذلك - قال عبد الرزاق: وذكره معمر عن أيوب السختياني، أو غيره عن مجاهد عن الحسن: أنه كان لا يرى بأسا بالاستمناء.

وعن عمرو بن دينار: ما أرى بالاستمناء بأسا؟

 قال أبو محمد - رحمه الله -: الأسانيد عن ابن عباس، وابن عمر في كلا القولين - مغموزة.لكن الكراهة صحيحة عن عطاء.والإباحة المطلقة صحيحة عن الحسن.وعن عمرو بن دينار، وعن زياد أبي العلاء، وعن مجاهد.ورواه من رواه من هؤلاء عمن أدركوا - وهؤلاء - كبار التابعين الذين لا يكادون يروون إلا عن الصحابة - رضي الله عنهم ؟

  اس مسئلہ میں اباحت مطلقہ کا قول ابن حزم سے پہلے کسی سے نہیں ملتا،ابن حزم نےدیگر کئی مسائل کی طرح اس مسئلہ میں بھی جمہورامت کی مخالفت کی ہے اور اس بارے میں بعض روایات سے غلط نتائج اخذ کئے ہیں،چانچہ اس مسئلہ کو علی الاطلاق مختلف فیہ کہا ہے اور اس میں ایک رائے اباحت مطلقہ قرار دی ہےجودرست نہیں:

اولا اس بارے میں عرض یہ ہے کہ  ان روایات کا ناقل ابن حزم ہے  جن کا نقل میں متساہل اور متعصب ہونا معروف ہے،لہذااول تو ان اقوال کی ان حضرات کی نسبت  قطعی نہیں۔

 دوسرے اگر ان اقوال کی نسبت درست تسلیم کر بھی لی جائے تو یہ  یاان حضرات کے ذاتی اقوال وآراء ہیں(جیساکہ کہ ان میں یری اور اری کے صیغے اس کی دلیل ہیں،)یا نصوص شرعیہ کے مخالف ہونے کی وجہ سے  قابل استدلال نہیں، بلکہ واجب التاویل ہیں  اور وہ تاویل یہی ہے کہ یہ  سب اقوال مجبوری اور حاجت پر محمول ہیں یعنی استعفاف اور خوف زنا سے حفاظت کی صورت پر حمل ہیں(کما فی اعلاء السنن:ج۱۱،ص۶۳) جیساکہ ان میں"فی المغازی اور استعفاف کے الفاظ اس پر دال ہیں۔لہذا استلذاذ کے طور پر استمناء کے جواز سے ان کا کوئی تعلق نہیں، بلکہ اس صورت کے جواز کا کوئی بھی قائل نہیں،لہذا  اختلاف روایات وآثارسے اختلاف مذاہب  فقہیہ کا نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں۔

 تیسرے ان روایات سے جو ملازمہ ابن حزم نے نکالا ہے کہ ان کے ناقلین چونکہ تابعین ہیں اور تابعین صحابہ ہی سے نقل کرتے تھے تو لہذا یہ بھی صحابہ ہی سے منقول ہوگا، بالکل درست نہیں،اس لیے کہ ان روایات میں  اری اور یری کے صیغے دلال ہیں کہ یہ ان کے اپنے ذاتی اجتہادوقیاس پر مبنی  ہونا زیادہ قرین قیاس ہے،بالخصوص جبکہ خود صحابہ کرام سے ان آثار کے خلاف روایات منقول ہوں۔

چوتھے ابن حزم کا ابن عمر اور ابن عباس  رضی اللہ عنھم سے اباحت اور کراہت دونوں کی روایات کے نقل کا دعوی اس لیے درست نہیں،کہ منع کی روایات مفسر اور صریح ہیں، جبکہ جواز واباحت کی روایات  ظاہرومحتمل ہیں ،لہذا اصولا مفسرکو محتمل پرترجیح ہوگی اورمحتمل واجب التاویل ہو گا۔

 پانچواں اعتراض  حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے ایک اثر نقل کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ" حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما  سے استمناء کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے جواب میں فرمایا کہ اس سے اچھا تھا کہ آپ لونڈی سے نکاح کرتے ، اور ہاں یہ زنا سے بہتر ہے۔ تو اس روایت سے بھی مشت زنی کی حرمت ثابت نہیں ہوتی، لیکن اگر یہ کہا جائے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے سوال سنتے ہی سر جھکایا یا منہ پھیر لیا تھا تو لہذا یہ عمل مکروہ تحریمی ہے تو اس روایت میں کہیں بھی نہیں ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس عمل کو گناہ سمجھ کر منہ پھیر لیا۔ پہلے تو یہ روایت ضعیف ہے اگر صحیح بھی مانا جائے تو یہ منہ پھیرنا شرم کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔"

لیکن  اس پر عرض یہ ہے کہ اس روایت کے متعدد طرق دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت تعدد طرق کی بناء پر سندا قابل اعتبار ہے،اور سائل کا مقصد غلبہ شہوت کے موقع پر استمناء کا حکم معلوم کرنا تھا،لہذا اس سے اباحت مطلقہ یا کراہت تنزیہیہ کا نتیجہ نکالنا بالکل درست نہیں۔

السنن الكبرى للبيهقي (7/ 323):

خبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي، أنبأ أبو عبد الله بن يعقوب، ثنا محمد بن عبد الوهاب، أنبأ جعفر بن عون، أنبأ الأجلح، عن أبي الزبير، عن ابن عباس رضي الله عنهما أن غلاما أتاه فجعل القوم يقومون والغلام جالس , فقال له بعض القوم: قم يا غلام , فقال ابن عباس رضي الله عنهما: دعوه شيء ما أجلسه، فلما خلا قال: يا ابن عباس إني غلام شاب أجد غلمة شديدة فأدلك ذكري حتى أنزل , فقال ابن عباس: " خير من الزنا , ونكاح الأمة خير منه "

سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة (10/ 426):

وأما ما رواه عبد الرزاق في "المصنف" (7/ 391/ 13590) ، وابن أبي شيبة (4/ 379) عن أبي يحيى قال:سئل ابن عباس عن رجل يعبث بذكره حتى ينزل؟ فقال ابن عباس: إن نكاح الأمة خير من هذا، وهذا خير من الزنى!

فهذا لا يصح؛ وعلته أبو يحيى هذا - واسمه مصدع المعرقب ؛ قال ابن حبان في "الضعفاء" (3/ 39) :

"كان ممن يخالف الأثبات في الروايات، وينفرد عن الثقات بألفاظ الزيادات مما يوجب ترك ما انفرد منها، والاعتبار بما وافقهم فيها".

وسائر رجال إسناده ثقات. وقد أسقطه منه بعض الرواة عند البيهقي؛ فأعله بالانقطاع، فقال (7/ 199) :"هذا مرسل، موقوف".

ومثله: ما أخرجه - عقبه - من طريق الأجلح عن أبي الزبير عن ابن عباس رضي الله عنهما:أن غلاما أتاه، فجعل القوم يقومون والغلام جالس، فقال له بعض القوم: قم يا غلام! فقال ابن عباس: دعوه، شيء ما أجلسه! فلما خلا قال: يا ابن عباس! إني غلام شاب أجد غلمة شديدة، فأدلك ذكري حتى أنزل؟ فقال ابن عباس: خير من الزنى، ونكاح الأمة خير منه.

قلت: وأبو الزبير مدلس وقد عنعنه.

والأجلح مختلف فيه.

ثم روى عبد الرزاق من طريق إبراهيم بن أبي بكر عن رجل عن ابن عباس أنه قال:وما هو إلا أن يعرك أحدكم زبه؛ حتى ينزل ماء.

وهذا ضعيف ظاهر الضعف؛ لجهالة الرجل الذي لم يسم.وقريب منه إبراهيم هذا؛ قال الحافظ:"مستور".

واعلم أنه لو صح ما تقدم عن ابن عباس؛ فإنه لا ينبغي أن يؤخذ منه إلا إباحة الاستمناء عند خشية الزنى لغلبة الشهوة.

وأنا أنصح من أصيب بها من الشباب أن يعالجوها بالصوم؛ فإنه له وجاء. كما صح عنه - صلى الله عليه وسلم -.

ولکن اقول:ان  ابن حزم  قد اقر بصحۃنقل الکراھۃ عن ابن عمر وابن عباس حیث قال: الأسانيد عن ابن عباس، وابن عمر في كلا القولين - مغموزة. فالحدیث حجۃعلیہ وعلی من تبعہ ۔

خلاصہ یہ کہ بعض تابعین سے منقول آثار سے مطلقا کراہت تنزیہیہ یا اباحت مطلقہ کا نتیجہ نکالنا بالکل خلاف حقیقت اور خلاف اصول بات ہے۔

 چھٹا اعتراض آخر میں لکھا گیا ہے کہ استمناء کے کراہت تحریمی کا قول صرف فقہاء احناف کا ہے اور وہ بھی کسی دلیل کے بغیر۔

 لیکن اس پر عرض یہ ہے کہ یہ بات لکھنے والے کی نادانی اور ناواقفیت کی کھلی دلیل ہے، اس بارے میں ہم شروع میں لکھ چکے ہیں کہ عام حالت میں استمناء بالید کے حرمت پر تمام مذہب اربعہ متفق ہیں، اگرچہ بعض ائمہ سے روایات اباحت یاکراہت تنزیہیہ کی بھی ملتی ہیں ،لیکن وہ بھی یا بتصریح فقہاءشاذ ومرجوح ہیں یامؤول ہیں جیساکہ امام احمد بن حنبل کی روایت اباحت، باقی یہ بات کہ اس میں ائمہ کااختلاف ہے تو یہ بات مسلم نہیں، پہلی بات تو یہ ہے کہ بعض روایات میں اختلاف،  اختلاف مذاہب فقہیہ کو مستلزم نہیں،(جیساکہ گزرچکا۔) امام احمد حنبل سے اگرچہ اباحت منقول ہے ،لیکن قرطبی اور اس کے علاوہ دیگر کتب میں تصریح ہے کہ ان کے نزدیک استمناء صرف عند الحاجت جائز ہے، لہذا استلذاذا وہ بھی قائل نہیں، چنانچہ مذہب حنبلی کےمشہورمصنف ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالی "الکافی فی فقہ الامام احمد" میں اس کی حرمت کے قائل ہیں،نیزمعاصر حنبلی عالم دین محمد بن صالح ابن عیثمین رحمہ اللہ تعالی نے الشرح الممتع علی زاد المستقنع میں مذہب حنبلی کی تشریح اسی طرح فرمائی ہے کہ حاجت دینی یا دنیوی کے بغیر استمناء حرام ہے اور دلیل حرمت اس پر تعزیر کا مذہب میں مصرح ہونا ہے جو دلیل معصیت ہے اور استدلال سور مؤمنون کی آیت بالا سے ہی فرمایا ہے۔

حوالہ جات

مواهب الجليل في شرح مختصر خليل (3/ 166):

(فائدة) : قال في التوضيح: قال ابن بشير: وقد أخذ المتأخرون من هذا أن الاستمناء باليد حرام لقوله شرار النساء واستدلوا على ذلك بقوله تعالى {والذين هم لفروجهم حافظون} [المؤمنون: 5] الآية انتهى وانظرهذا الأخذ مع قوله، أو عبث بذكره ولم يقل شرار الرجال، فتأمله، ولا شك في حرمة ذلك، والله أعلم.

المجموع شرح المهذب (20/ 31):

ويحرم الاستمناء لقوله عز وجل (والذين هم لفروجهم حافظون الا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم فإنهم غير ملومين) ولانها مباشرة تفضى إلى قطع النسل فحرم كاللواط.

فإن فعل عزر ولم يحد، لانها مباشرة محرمة من غير ايلاج فأشبهت مباشرة الاجنبية فيما دون الفرج وبالله التوفيق

قوله (ويحرم الاستمناء..) قالت الحنابلة ومن استمنى بيده بلا حاجة عزر وعنه يكره ذلك نقل ابن منصور لا يعجبنى بلا ضرورة.

قال مجاهد كانوا يأمرون فتيانهم أن يستعفوا به، وقال العلاء بن زياد كانوا يفعلونه في مغازيهم وعنه يحرم مطلقا.

وقال ابن عقيل إن كان غنيا بوجود طول زوجة أو أمة أو حرة لم يجز له الاستمناء، وأصحابنا وشيخنا لم يطلقوا التحريم ولم يذكروا سوى الكراهة قال وإن كان غير قادر على طول امرأة لكنه لا شهوة له تحمل على الزنا ولا يخاف غلبان اللذة حرم عليه أيضا للخبر، فان كان متردد الحال به للفتور والشهوة وليس له ما يتزوج به لم يحرم، لان حاله دون القادر ودون حال المتغلب للشهوة وإن كان متغلب الشهوة خائفا من العنت للضيق والشهوة ولا جدة له على النكاح جاز له ذلك، قال في الفصول وإن استمنى وصور في نفسه شخصا أو دعا باسمه فان كانت زوجته أو أمته وكان غائبا عنها فلا بأس وإن كان الشخص الذى يتصوره أو نادى أجنبية أو غلاما كره ذلك.

ذكره ابن عقيل وفى هامش مخطوطة الازهر حاشية: قال القاضى في ضمن المسألة لما ذكرالمرأة قال بعض أصحابنا لا بأس به إذا قصد به طفى الشهوة والتعفف عن الزنا، قال والصحيح عندي أنه لا يباح والله أعلم قال ابن العربي في أحكام القرآن، قال محمد بن عبد الحكم: سمعت حرملة بن عبد العزيز قال سألت مالكا عن الرجل يجلد عميرة فتلا هذه (والذين هم لفروجهم حافظون ... هم العادون) وهذا لانهم يكنون عن الذكر بعميرة، وفيه يقول الشاعر: إذا حللت بواد لا أنيس به فاجلد عميرة لا داء ولا حرج ويسميه أهل العراق الاستمناء، وهو استفعال من المنى، وأحمد بن حنبل على ورعه يجوزه بأنه إخراج فضلة من البدن فجاز عند الحاجة، أصله الفصد والحجامة.

وعامة العلماء على تحريمه وهو الحق الذى لا ينبغى أن يدان الله إلا به.

وقال بعض العلماء إنه كالفاعل بنفسه وهى معصية أحدثها الشيطان وأجراها بين الناس حتى صارت قيلة، ويا ليتها لم تقل، ولو قام الدليل على جوازها لكان ذو المروءة يعرض عنها لدناءتها.

فإن قبل فقد قيل إنها خير من نكاح الامة، قلنا نكاح الامة ولو كانت كافرة على مذهب العلماء خير من هذا، وإن كان قد قال به قائل، ولكن الاستمناء ضعيف في الدليل عار بالرجل الدنئ فكيف بالرجل الكبير (وهذا نص ما نقله القرطبى ولم يشر إلى مصدره) وقال الخازن في تفسير (فمن ابتغى وراه ذلك ... ) فيه دليل على أن الاستمناء باليد حرام، وهو قول أكثر العلماء.

الكافي في فقه الإمام أحمد (4/ 93):

 ويحرم الاستمناء باليد؛ لأنها مباشرة تفضي إلى قطع النسل، فحرمت كاللواط، ولا حد فيه؛ لأنه لا إيلاج فيه، فإن خشي الزنا، أبيح له؛ لأنه يروى عن جماعة من الصحابة - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ -.

الشرح الممتع على زاد المستقنع (14/ 318):

ومن استمنى بيده بغير حاجة عزر.

فقوله: «ومن استمنى بيده بغير حاجة عزر» أي: من حاول إخراج المني حتى خرج بيده، سواء كان ذكرا أو امرأة.

وقوله: «بغير حاجة» أي: من غير حاجة إلى ذلك، والحاجة نوعان:

أولا: حاجة دينية.

ثانيا: حاجة بدنية.

أما الحاجة الدينية، فهو أن يخشى الإنسان على نفسه من الزنا، بأن يكون في بلد يتمكن من الزنا بسهولة، فإذا اشتدت به الشهوة، فإما أن يطفئها بهذا الفعل، وإما أن يذهب إلى أي مكان من دور البغايا ويزني، فنقول له: هذه حاجة شرعية؛ لأن القاعدة المقررة في الشرع أنه يجب أن ندفع أعلى المفسدتين بأدناهما، وهذا هو العقل؛ فإذا كان هذا الإنسان لابد أن يأتي شهوته، فإما هذا، وإما هذا، فإنا نقول حينئذ: يباح له هذا الفعل للضرورة.

أما الحاجة البدنية، فأن يخشى الإنسان على بدنه من الضرر إذا لم يخرج هذا الفائض الذي عنده؛ لأن بعض الناس قد يكون قوي الشهوة، فإذا لم يخرج هذا الفائض الذي عنده فإنه يحصل به تعقد في نفسه، ويكره أن يعاشر الناس وأن يجلس معهم.

فإذا كان يخشى على نفسه من الضرر فإنه يجوز له أن يفعل هذا الفعل؛ لأنها حاجة بدنية.

فإن لم يكن بحاجة، وفعل ذلك فإنه يعزر، أي: يؤدب بما يردعه.

واستفدنا من كلام المؤلف أن الاستمناء باليد من غير حاجة حرام، مع أنه لم يصرح به، لكن إيجاب التعزير على فاعله يدل على أنه معصية؛ لأنه سبق لنا أن التعزير يجب في كل معصية، وعلى هذا فيكون حراما، وإذا قلنا: إنه حرام فإنه يحتاج إلى دليل؛ لأن الأصل في غير العبادات الحل.

والدليل قوله تعالى: {والذين هم لفروجهم حافظون * إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم فإنهم غير ملومين * فمن ابتغى وراء ذلك} ـ أي: الأزواج وما ملكت اليمين، فمن طلب الوصول إلى اللذة ولم يحافظ على فرجه فابتغى وراء ذلك {فأولئك هم العادون} [المؤمنون: 5 ـ 7]، والعادي معناه المتجاوز للحد، وهذا يدل على حرمته.ولقول النبي صلى الله عليه وسلم: «يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج، فإنه أغض للبصر وأحصن للفرج، ومن لم يستطع فعليه بالصوم، فإنه له وجاء» ، ووجه الدلالة من ذلك قوله صلى الله عليه وسلم: «ومن لم يستطع فعليه بالصوم»؛ لأن هذه العادة ـ الاستمناء ـ لو كانت جائزة لأرشد إليها النبي صلى الله عليه وسلم؛ لأنها أهون من الصوم، لا سيما عند الشباب؛ ولأنها أيسر؛ ولأن الإنسان ينال فيها شيئا من المتعة، فهي جامعة بين سببين يقتضيان الحل لو كانت حلالا، والسببان هما: السهولة واللذة، والصوم فيه مشقة وليس فيه لذة، فلو كان هذا جائزا لاختاره النبي ـ عليه الصلاة والسلام ـ وأرشد إليه؛ لأنه موافق لروح الدين الإسلامي لو كان جائزا، وعلى هذا فيكون الحديث دليلا على التحريم.

الموسوعة الفقهية الكويتية (45/ 272):

الاستمناء باليد:

لاستمناء الرجل بيده حالات:

الحالة الأولى: الاستمناء لغير حاجة:

اختلف الفقهاء في حكم استمناء الرجل بيده في هذه الحالة:

فذهب المالكية والشافعية والحنابلة في المذهب والحنفية في قول إلى أن الاستمناء محرم؛ لقول الله تعالى: {والذين هم لفروجهم حافظون (4) } .

وذهب الحنفية في المذهب وأحمد في رواية وعطاء إلى أنه يكره، وقيد الحنفية الكراهة بالتحريم حيث صرحوا بأنه مكروه تحريما.

وقال أحمد في رواية نقلها ابن منصور: لا يعجبني بلا ضرورة.

الحالة الثانية: الاستمناء لخوف الزنا:

 اختلف الفقهاء في حكم الاستمناء في هذه الحالة:

فذهب الحنفية والحنابلة في المذهب إلى أن من استمنى في هذه الحالة لا شيء عليه، وعبر الحنفية عن هذا المطلب بقولهم: الرجاء ألا يعاقب.

قال المرداوي: لو قيل بوجوبه في هذه الحالة لكان وجه كالمضطر، بل أولى لأنه أخف، وعن أحمد: يكره.

قال مجاهد: كانوا يأمرون فتيانهم أن يستغنوا بالاستمناء.

وذهب المالكية وأحمد في رواية إلى أنه يحرم ولو خاف الزنا؛ لأن الفرج مع إباحته بالعقد لم يبح بالضرورة، فهنا أولى، وقد جعل الشارع الصوم بدلا من النكاح، والاحتلام مزيل لشدة الشبق، مفتر للشهوة.

وهذا ما يؤخذ من عبارات الشافعية حيث يحرمون الاستمناء إلا إذا تعين طريقا لدفع الزنا.

الحالة الثالثة: الاستمناء عند تعينه طريقا لدفع الزنا:

 ذهب الحنفية والحنابلة والشافعية إلى جواز الاستمناء إذا تعين طريقا للخلاص به من الزنا.

وصرح المالكية بأن استمناء الشخص بيده حرام، خشي الزنا أم لا، لكن إذا لم يندفع عنه الزنا إلا بالاستمناء قدمه على الزنا ارتكابا لأخف المفسدتين.

الحالة الرابعة: الاستمناء عن طريق يد الزوجة:

يرى المالكية في الراجح والحنابلة والحنفية في رأي والشافعية - عدا القاضي حسين - جواز الاستمناء بيد الزوجة؛ لأنها محل استمتاعه كما لو أنزل بتفخيذ أو تبطين.

وذهب الحنفية في الرأي الآخر والقاضي حسين من الشافعية إلى أنه يكره الاستمناء بيد الزوجة. قال ابن عابدين: الظاهر أنها كراهة تنزيهية؛ لأن ذلك بمنزلة ما لو أنزل بتفخيذ أو تبطين.

وقال القاضي: لو غمزت المرأة ذكر زوجها بيدها كره وإن كان بإذنه إذا أمنى؛ لأنه يشبه العزل والعزل مكروه.

ومقابل الراجح عند المالكية أن الاستمناء بيد الزوجة لا يجوز.

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۲ربیع الثانی۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب