| 81540 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
میرا اور میرے شوہر کا جھگڑا ہوا۔ جھگڑے میں میسج پر ایک طلاق دی تھی اور اس کے پروف کے طور پرایک نوٹس بھیجا۔میرے شوہر نے جھگڑے کے بعد تین خالی اسٹامپ پیپر لیےاور ان خالی پیپر پر اپنا اور گواہ نمبر 2 سے سائن کروا کراپنے بھائی کو ارسال کردیے اور کہا کہ گواہ نمبر 1 میں اپنا سائن کرکے ایک نوٹس تحریر کروائیں اور میری بیوی کو بھیج دیں۔ میرے دیور نے وہ 3 نوٹس ایک ساتھ تحریر کروالیےاور بولا کہ وکیل کہہ رہا ہے یہ اکٹھے تحریر ہوتے ہیں۔بعد میں شوہر نے ان سے جھگڑا بھی کیا کہ 1 نوٹس کاکہا تھا تم نے یہ کیا کردیا۔بعد میں میرے سے صلح کا کہا تو ان کے گھر والے کہہ رہے ہیں کہ ہم وہ نوٹس بھی بھیجیں گے جو ہمارے پاس ہیں۔گھر والے کہہ رہے ہیں کہ تم نے 3 سائن کردیے تھے اس لیے 3 طلاق ہوچکی ہیں۔ اور شوہر کے مطابق انہوں نے اس لیے بھیجے تھے کہ اگر صلح نہ ہوسکی تو وہ بھی بھیج دینا۔اب ہمارے لیے کیا حکم ہے؟رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ طلاق جس طرح زبانی کہنے سے ہوتی ہے اسی طرح لکھ کر دینے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق آپ کے شوہر نے ایک طلاق آپ کو میسج کی صورت میں دی ہے۔ پھر اس کے بعدتین کاغذوں پر دستخط کرکے اپنے بھائی کو طلاق لکھوانے کا وکیل بنایا ہے۔ اگر تمام تفصیلات اسی طرح ہیں جیسے سوال میں مذکور ہیں تو آپ کے دیور کو صرف ایک طلاق کا وکیل بنایا گیا تھا۔ لہذا اس کے بقیہ دو نوٹس لکھوانے کی شرعا کوئی حیثیت نہیں ہے۔اور اس نوٹس کی صورت میں بھی آپ پر ایک طلاق واقع ہوئی ہے۔
اب چونکہ دو طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور اس کے بعد بھی دوبارہ ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور ابھی تین حیض عدت نہیں گزری تو شوہر کو چاہیے کہ وہ رجوع کرلیں ۔ اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ دو گواہوں کے سامنے یہ کہہ دیں میں رجوع کرتا ہوں۔ اگر عدت کے ایام ( جو کہ تین حیض ہیں) گزر چکے ہیں تو دوبارہ نکاح کرلیں۔البتہ یہ بات یاد رکھیں کہ آپ کے شوہر کے پاس اب صرف ایک طلاق کا حق رہ جائے گا۔ اگر دوبارہ انہوں نے طلاق دی تو آپ دونوں ایک دوسرے پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائیں گے اور رجوع کا حق باقی نہیں رہے گا۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 246)
(قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب: إذا جاءك كتابي فأنت طالق فجاءها الكتاب فقرأته أو لم تقرأ يقع الطلاق كذا في الخلاصة ط
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 317)
(و) أما في (طلقي ضرتك أو) قوله لأجنبي (طلق امرأتي) ف (يصح رجوعه) منه ولم يقيد بالمجلس لأنه توكيل محض،
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 317)
(قوله أو قوله لأجنبي طلق امرأتي) قيد بالطلاق لأنه لو قال: أمر امرأتي بيدك يقتصر على المجلس ولا يملك الرجوع على الأصح بحر عن الخلاصة في فصل المشيئة ولو جمع له بين الأمر باليد والأمر بالتطليق ففيه تفصيل مذكور هناك (قوله فيصح رجوعه) زاد الشارح الفاء لتكون في جواب أما التي زادها قبل (قوله لأنه توكيل محض) أي بخلاف طلقي نفسك لأنها عاملة لنفسها فكان تمليكا لا توكيلا بحر۔
عبدالقیوم
دارالافتاء جامعۃ الرشید
06/ربیع الثانی/1445
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالقیوم بن عبداللطیف اشرفی | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


