03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گھروالوں کےدباؤمیں آکرطلاق  نامہ پر دستخط کردیےتوطلاق واقع ہوگئی ؟
81437طلاق کے احکاممدہوشی اور جبر کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

سوال

میں نےاپنےگھروالوں کےدباؤمیں آکرطلاق نامہ دستخظ کردیے(مجھ پرزبردستی کی گئ تھی،طلاق نامہ بھی گھروالوں نےپہلےسےتیارکررکھاتھا )والدین کی طرف سےمجبور کیاگیاکہ اگرتم بیوی کو رکھوگےتوقیامت کےدن ہم  تمہیں معاف نہیں کریں گے،طلاق نامہ میں جولکھاہواتھاوہ میں نےنہیں پڑھا،کیونکہ مجھے پڑھنا نہیں آتاتھا،بس اتنا معلوم تھاکہ یہ طلاق نامہ ہےمیں نےاس پر سائن کردیے،توازروئےشریعت طلاق ہوئی یانہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں مذکورہ صورت میں اکراہ کاحکم نہیں لگایاجاسکتا،کیونکہ اکراہ کےشرعامعتبرہونےکےلیےضروری ہےکہ مکرہ(دھمکی دینےوالا) جس چیز کی دھمکی دےرہاہے،وہ خوداس کام کےکرنےپرقادربھی ہو، جبکہ صورت مسئولہ میں جس چیزکی دھمکی دی گئی ہےوہ نتیجہ کےاعتبارسےایک اخروی معاملہ ہے،دھمکی دینےوالااس طرح کی بددعا کرنےپرتوفی الفوراگرچہ قادرہے،لیکن قیامت کےدن کاابھی سےفیصلہ نہیں کیاجاسکتا۔

دوسری بات یہ ہےکہ والدین کی طرف سےبددعا اگر ظلما ہوتووہ قبول نہیں ہوتی ،لہذا موجودہ صورت میں یہ اکراہ شرعامعتبرنہیں ہوگا،اور طلاق نامہ پردستخط کرنےکی صورت میں ایک طلا  ق رجعی واقع ہوجائےگی۔

چونکہ آپ نےبغیر پڑھےدستخظ کیےہیں ،لہذا ایک طلاق رجعی واقع ہوگی،اگرچہ طلا ق نامہ میں زیادہ طلاق لکھی گئی ہوں،مذکورہ طلاق کےبعد دوبارہ رجوع بھی ہوسکتاہے۔

حوالہ جات

"رد المحتار"25 / 76:( وشرطه ) أربعة أمور: ( قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا ) أو نحوه ( و ) الثاني ( خوف المكره ) بالفتح ( إيقاعه ) أي إيقاع ما هدد به ( في الحال ) بغلبة ظنه ليصير ملجأ ( و ) الثالث : ( كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا ) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن ، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال ( و ) الرابع : ( كون المكره ممتنعا عما أكره عليه قبله ) إما ( لحقه ) كبيع ماله ( أو لحق ) شخص ( آخر ) كإتلاف مال الغير ( أو لحق الشرع ) كشرب الخمر والزنا۔

"العناية شرح الهداية"13 / 150:

قال ( الإكراه يثبت حكمه إذا حصل ممن يقدر على إيقاع ما توعد به ) شرط الإكراه حصوله من قادر على إيقاع المتوعد به ( سلطانا كان أو لصا ) وخوف المكره وقوعه بأن يغلب على ظنه أنه يفعله ليصير بالإكراه محمولا على ما دعي إليه من المباشرة ، فإذا حصل بشرائطه يثبت حكمه على ما سيجيء مفصلا ، ولم يفرق بين حصوله من السلطان واللص ( لأن تحققه يتوقف على خوف المكره تحقيق ما توعد به ، ولا يخاف إلا إذا كان المكره قادرا على ذلك ، والسلطان وغيره عند تحقق القدرة سيان ) الخ

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

23/ربیع الاول    1445ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب