03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بھائی کی شادی پر کیے گئے اخراجات مشترکہ زمین سے وصول کرنا
81754جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

پانچ بھائی جو ایک جوائنٹ فیملی میں رہتے ہیں، جبکہ والد صاحب کے انتقال کے بعد وراثت بھی تقسیم نہیں ہوئی ۔ پانچ بھائیوں میں سے چار کی شادی کا خرچہ زیور، سونا اورمشترکہ زمین فروخت کرکے کیا گیا ۔ زیور تقریبا سات (7) تولہ سے کچھ کم بنایا گیا، جبکہ پانچوے بھائی کی شادی کے وقت یعنی مئی 2015 ء میں دو بھائیوں نےبڑے بھائی کو یہ مشورہ دیا کہ چھوٹے بھائی کی شادی کے لئے مشترکہ زمین فروخت کرنے کے بجائےبڑےتین بھائی مل کر شادی کے اخراجات کا انتظام کرلیتے ہیں ۔ دو بھائیوں نے اپنا زیور فی کس دو تولہ آٹھ ماشہ بڑے بھائی کو دیا ۔ اس وقت کے حساب سے اس کی قیمت ایک لاکھ پینتالیس ہزار (145000) روپے بنی ۔ دو بھائیوں کے ملا کر دو لاکھ نوے ہزار (290000) روپے بنے، جبکہ بڑے بھائی نے مبلغ دو لاکھ (200000) روپے ملا کر شادی کے اخراجات کا انتظام کیا ۔ ان اخراجات میں سب سے بڑے بھائی بےروزگار ہونے کی وجہ سے اورچھوٹے بھائی  جس کی شادی تھی ، وہ بھی ان اخراجات میں شامل نہیں ہوئے ۔

اب جب بٹوارے (زمین وغیرہ کی تقسیم) کا موقع آیا تو دو بھائیوں کا خیال یہ ہے کہ ہمارا چونکہ سونا بھی استعمال ہوا ااور فروخت بھی ہوا اور زمین جوکہ سب  کی مشترکہ ہے فروخت ہونے سے بچ گئی یعنی فائدہ سب کا ہوا ۔ لہٰذا اب ہمارا زیور بھی جو تقریباً سات (7) تولہ سے کچھ کم تھا مشترکہ مال میں سے پورا کر دیا جائے ،چنانچہ بڑے بھائی نے یہ فیصلہ کیا کہ آپ دونوں بھائیوں کا زیور (سات تولہ سے کچھ کم) اب مشترکہ میں سے پورا کر دیتا ہوں اور میں بھی اپنے دو لاکھ(200000) روپے سونے کی قیمت کے تناسب سے ابھی مشترکہ سے وصول کر لیتا ہوں ۔

بڑے بھائی کا خیال ہے کہ دو بھائیوں نے جو سیٹ دیے تھے ان میں سے ایک سیٹ چھوٹے بھائی کےاستعمال میں آ گیا ، جبکہ دوسرا سیٹ فروخت کیا تو اس کی رقم ڈیڑھ لاکھ روپے   ملی ۔ جبکہ میں نے پچاس ہزار روپےاضافی یعنی دو لاکھ (200000) دیے ہیں ۔ 

اب سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح سے ہم تینوں بھائیوں کا مشترکہ سے وصول کرنا درست ہے ؟  اگر نہیں تو شرعی طریقے سے اس معاملہ کا حل کیسے ہو ؟

یہاں یہ بات مدّ نظر رہے کہ یہ معاملہ کرتے وقت شروع میں نہ تو بڑے بھائی نے اس کی وصولی (واپسی) کا کوئی طریقہ کار طے کیااور نہ ہی باقی دونوں بھائیوں نے اس وقت پوچھا کہ ہمارے اس نقصان کا ازالہ (جوکہ زیور بیچنے کی صورت میں ہوا) کیسے کیا جائے گا ؟ مئی 2015 ء میں سونے کی قیمت تقریباً پچاس ہزار (50000) روپے فی تولہ تھی، جبکہ اب تقریباً دو لاکھ (200000) روپے فی تولہ ہے ۔

وضاحت: سائل نے بتایا کہ اگرچہ ہم مشترکہ رہتے ہیں، مگر چونکہ ہر بھائی کو سات تولے سونا دیا گیا تھا، اس لیے یہ بات طے تھی کہدوبھائیوں کی طرف سےدیا گیا سونا اور بڑے بھائی کی طرف سے دیا گیا دو لاکھ روپیہ قابلِ واپسی ہے، کیونکہ اصولی طور پر چھوٹے بھائی کی شادی بھی  مشترکہ زمین بیچ کر کرنا تھی، مگر اس وقت زمین کا ریٹ کم لگا، اس لیے ان بھائیوں کا سونا اور رقم سے شادی کی گئی، لہذا یہ سونا اور رقم ان کو واپس کرنا سب کو معلوم تھا۔ البتہ یہ طے نہیں تھا کہ واپسی کس طرح کی جائے گی؟

سائل چونکہ خود بھی عالم ہے، اس لیے اس کا کہنا ہے کہ مجھے اس پرشرح صدر تھا کہ جس بھائی نے رقم دی اس کو رقم واپس کی جائے گی اور جن بھائیوں نے سونا دیا ان کو سونا دیا جائے گا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق چونکہ خاندان میں یہ بات معروف تھی کہ بھائیوں کی طرف سے دیا گیا سونا اور رقم قابلِ واپسی ہے، کیونکہ جیسے دیگر بھائیوں کی شادیاں مشترکہ زمین بیچ کرکی گئی تھیں اسی طرح چھوٹے بھائی کی شادی بھی زمین بیچ کرنا تھی، مگر زمین کی قیمت کم لگنے کی وجہ سے بڑے بھائی کی رقم اور بھائیوں کا سونا استعمال کر لیا گیا، جبکہ دیگر سب بھائیوں کے پاس سات سات تولے سونا موجود ہے۔ اس لیے مذکورہ سونے اور رقم کی حیثیت قرض کی ہے اور قرض کا اصول یہ ہے کہ جس جنس اور جس کوالٹی  کی چیز بطورِ قرض  دی  جائے اسی جنس اور کوالٹی میں واپس لیا جائے گا، اس لیے جس بھائی نے رقم دی ہے شریعت کی روشنی میں وہ اپنی رقم ہی واپس لینے کا حق دار ہے، دو لاکھ روپے کے برابر اُس  وقت کے حساب سے سونے کا مطالبہ کرنا جائز نہیں۔ البتہ جن دو بھائیوں نے سونا دیا ہے وہ اتنی مقدار میں سونا لے سکتے ہیں، البتہ وہ اسی کیرٹ کا سونا لینے کے حق دار ہیں جس کیرٹ کا سونا شادی کے موقع پر دیا گیا تھا۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 61) دار احياء التراث العربي – بيروت:

الربا هو الفضل المستحق لأحد المتعاقدين في المعاوضة الخالي عن عوض شرط فيه، ولا يعتبر الوصف لأنه لا يعد تفاوتا عرفا، أو لأن في اعتباره سد باب البياعات، أو لقوله عليه الصلاة والسلام: "جيدها ورديئها سواء"

فتح القدير للكمال ابن الهمام (8/ 426) دار الفكر،بیروت:أن الديون تقضى بأمثالها لا بأعيانها.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراتشی

25/ربیع الثانی 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب