03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جی پی فنڈ کی جبری کٹوتی پر ملنے والے انڑسٹ کا حکم
82070سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

جی پی فنڈ پہلے حکومت سرکاری ملازم سے بغیر پوچھے ( یعنی جبراً ) کاٹتی تھی اور بغیر پوچھے اس پر نفع شامل کر کے دیتی تھی، اس کو تو علماء نے جائز قرار دیا تھا، مگر اب جیسا کہ آپ حضرات کے علم میں ہوگا کہ سرکاری ملازم سے جی پی فنڈ کی مد میں حکومت کچھ رقم کاٹ کر جمع کرتی ہے اور اس کاٹنے میں ملازم سے نہیں پوچھتے یعنی یہ کٹوتی پہلے کی طرح اب بھی جبری ہے، البتہ اب حکومت ملازم کوایک اختیار دیتی ہے کہ تم اس پرنفع یعنی سود لوگے یا نہیں ؟ واضح رہے کہ جن ملازمین نے " نہیں" اختیار کر لیا ہو، ان کی ماہانہ تنخواہ نامے ( سیلری سلِپ ) میں GPF lnterest Free واضح الفاظ میں لکھا ہوتا ہے، جبکہ جو ملازمین لیتے ہیں تو ان کی سیلری سلِپ میں Interest applied لکھا ہوتا ہے یعنی حکومت اس اضافے کو انٹرسٹ ( سود ) ہی کا نام دیتی ہے۔ اب جواب طلب بات یہ ہے کہ:

(۱) کیا اب بھی اگر کوئی ملازم نفع وصول کرنے کو اختیار کرے تو یہ سود میں شمار ہوگا یا نہیں ؟

(۲) دوسری بات یہ کہ اس موضوع پر ہم نے مفتی صاحب سے جب استفسار کیا تو اُنھوں نے کہا کہ مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ تعالی نے اس کو جائز قرار دیا ہے اور اس پر اُن کا ایک مستقل رسالہ بھی موجود ہے۔ کیا واقعی یہ بات درست اور حقیقت ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

۱۔جی ہاں ! سود کے نام سے اضافہ  بھی سود نہیں، اس لیے کہ صرف سود کہلانے سے کوئی چیز سود نہیں بن جاتی ، جب تک اس میں سود کے تحقق کی شرائط نہ پائی جائیں اورحکومت  جی پی فنڈ میں جبری کٹوتی پرسود کے نام سے جو اضافہ دیتی ہے وہ بھی در حقیقت ملازم کی تنخواہ کا حصہ ہے،البتہ  تنخواہ کی جزوی مؤخر ادائیگی مشروط ہونے کی وجہ سے اصل تنخواہ میں اضافہ شمارہوگا۔

البتہ اگر کوئی ملازم اپنے اختیار سے درخواست دے کر اپنی جی پی فنڈ کی رقم کسی بیمہ کمپنی کے حوالہ کردے تو ایسی صورت میں وہ کمپنی اس ملازم کی وکیل اور نمائندہ بن جاتی ہے،اور وکیل کا قبضہ  موکل کا قبضہ ہی شمار ہوتا ہے ،لہذا  ایسی صورت میں اس سودی کمپنی سے اصل رقم سے زائدجو منافع ملے گا وہ سود ہوگا اور اس کا بلا نیت ثواب فقراء پرتصدق لازم ہوگا۔

اسی طرح اگر جی پی فنڈ کی مد میں جس رقم  کی کٹوتی اختیاری ہو اس پر ملنے والا نفع اگر چہ صریح سود نہیں،لیکن سود کی مشابہت اس میں ضرور ہے،لہذااس سے بھی حتی الوسع اجتناب لازم ہے۔

۲۔ جی ہاں حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ تعالی نے "پراویڈنٹ فنڈزکوۃ اور سود کا مسئلہ" کے نام سے اس موضوع پر ایک رسالہ لکھا ہے۔

حوالہ جات

۔۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۰جمادی الاولی ۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب