03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرض پر سود اور اجارہ میں جھوٹ کا حکم
82010سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

 (1)اگر میں اپنے کسی دوست سے قرض لیتا ہوں اور وہ کہتا ہے کہ میں 10000 ڈالر دوں گا لیکن مجھے اپنے پیسے کے بجائے 500 ڈالر کا سود ملے تو ہم جانتے ہیں کہ یہ 500 ڈالر دینے والے اور لینے والے کے لیے حرام ہے لیکن کیا اس سے 10000 ڈالر بھی حرام ہو جاتے ہیں یا نہیں؟

 (2)اگر میں اپنی گاڑی کسی دوسرے شخص کو کرایہ دوں اور کہوں کہ یہ میری گاڑی نہیں ہے تو کرایہ کا جو پیسہ مجھے ملتا ہے، وہ میرے لئے حرام یا حلال ہو جاتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

۱۔ اصل مقدار حرام نہیں ہوتی،البتہ اضافی مقداربوجہ سود ہونے کےحرام ہوتی ہے۔

۲۔کرایہ کا پیسہ اس طرح کہنے سے حرام تو نہیں ہوتا ،لیکن معاملہ کرتے وقت ایسی خلاف واقعہ بات کرنے سے معاملہ میں کراہت پیدا ہوتی ہے، البتہ اگر اس بات کا معاملہ کے ساتھ  کوئی خاص تعلق نہ ہو تو کراہت نہیں پیدا ہوتی اگرچہ جھوٹ بولنے کا گناہ ہوگا، اگر اس طرح بات کرنے سے مقصد اپنے مال کی حفاظت ہو تو صاف طور پر چھوٹ بولنے کے بجائے گول مول بات کردی جائے، مثلا مجھے کسی نے دی ہے اور دل میں مقصد یہ ہو کہ اللہ تعالی نے دنیا میں چند دن کے لیے دی ہے۔

حوالہ جات

۔۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۸جمادی الاولی ۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب