03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
منہ بولابیٹا (لے پالک) کے لیے میراث
81255میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

اپنا بچہ کسی کو گود دے دیا جائے تو  بچے کے حقیقی رشتے دار کے انتقال ہوجانے کی صورت میں کیا وہ بچہ اس کا وارث ہوگا؟ جس شخص نے اس بچے کو گود لیا ہو، بچہ اس کی میراث کا حق دار ہوگا، اگر گود لینے والے نے اس کی ولدیت  کے خانے میں اپنا نام لکھوایا ہوا ہو؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

      شریعت میں لے پالک اور منہ بولے بیٹے کی  حیثیت  حقیقی اولاد  کی طرح نہیں ہے،  اور کسی کو منہ بولا بیٹا بنانے سے وہ حقیقی بیٹا نہیں بن جاتا اور نہ ہی اس پر حقیقی اولاد والے احکام جاری ہوتے ہیں۔ لے پالک اور منہ بولی اولاد کو ان کے اصل والد کی طرف منسوب کرنا ضروری ہے۔

            منہ بولے بیٹے اپنے حقیقی رشتے دار(والد، والدہ، بھائی،بہن وغیرہ) کے تو وارث بنتے ہیں، لیکن جس شخص نے ان کو گود لیا ہے ان کے ترکہ میں ان کا اولاد ہونے کی حیثیت سے حق وحصہ نہیں ہوتا۔ ہاں اپنی زندگی میں بطورِ ہدیہ ( گفٹ)  اسے کوئی چیز دی جاسکتی ہے اور اسی طرح  اگر وہ بچہ شرعی وارث نہ بن رہا ہو تو اس کے حق میں ایک تہائی ترکہ تک کی وصیت کی جاسکتی ہے۔

            منہ بولا بیٹا چونکہ حقیقی بیٹا نہیں ہوتا،اس لیے اس کو اس کے حقیقی والد کی طرف منسوب کرنا ضروری ہے، اس کی ولدیت میں گود لینے والے کا نام درج کرانا  ناجائز ہے، ہاں گود لینے والا شخص بطورِ سرپرست اس بچے کو اپنا نام دے سکتا ہے۔

حوالہ جات

القرآن الکریم: (الأحزاب، الایۃ: 4- 5)

{وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ  ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا اٰبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا }

سنن أبي داود (4/ 330):

"عن أنس بن مالك، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: «من ادعى إلى غير أبيه، أو انتمى إلى غير مواليه، فعليه لعنة الله المتتابعة، إلى يوم القيامة»".

التفسير المظهري (7/ 284):

"لا يثبت بالتبني شىء من احكام البنوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك".

محمد فرحان

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

22/صفر الخیر/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فرحان بن محمد سلیم

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب