| 81256 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میری والدہ نے والد کے انتقال کے بعد دوسری جگہ شادی کرلی تھی، دوسرے شوہر سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ اب میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، ان کی میراث کی تقسیم کیسے کی جائے؟ ہم پانچ بھائی ہیں اور ایک بہن ہے۔سوتیلے والد کو بھی میراث میں سے حصہ ملے گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کی والدہ کو آپ کے والدکی میراث میں سے جو حصہ ملے گا، وہ حصہ اور جو کچھ مرحومہ کے انتقال کے وقت ان کی ملکیت میں سونا، چاندی، نقدی، جائیداد، مکانات، کاروبار، غرض جو کچھ چھوٹا، بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، تو وہ سب ان کا ترکہ یعنی میراث ہے ۔اس سے متعلق حکم یہ ہے اگر ان کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے۔ اس کے بعد اگر انہوں نے کسی غیر ِوارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی(1/3) ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے۔ اس کے بعد جو بچ جائے اس کے 44 حصے کر کے ورثاء کو درج ذیل نقشے کے مطابق تقسیم کر دیا جائے۔سوتیلےوالدکو مرحومہ کے شوہر ہونے کی وجہ سے میراث میں سے حصہ ملے گا۔
|
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
شوہر |
11 حصے |
) 25%ربع) |
|
بیٹا 1 |
6 حصے |
13.6363% (عصبہ بنفسہ) |
|
بیٹا 2 |
6 حصے |
13.6363% (عصبہ بنفسہ) |
|
بیٹا 3 |
6 حصے |
13.6363% (عصبہ بنفسہ) |
|
بیٹا 4 |
6 حصے |
13.6363% (عصبہ بنفسہ) |
|
بیٹا 5 |
6 حصے |
13.6363% (عصبہ بنفسہ) |
|
بیٹی |
3 حصے |
6.8181% (عصبہ بغیرہ) |
|
کل |
44 حصے |
%100 |
حوالہ جات
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْن} [النساء: 11]
{فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْن} [النساء: 12]
محمد فرحان
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
22/صفر الخیر/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد فرحان بن محمد سلیم | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


