| 82353 | مضاربت کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
میں نے دکان کے کاروبار کے لیے ایک شخص سےبطورِشرکت و مضاربت کے لے لیے مثلاً دس لاکھ روپے ، چھ ماہ بعد دوسرے سے مثلاً پانچ لاکھ لیے، دو ماہ بعد تیسرے سے مثلاً چار لاکھ لیے، بعض کا سرمایہ پورا سال کا روبار میں لگا رہا، بعض کا چھ ماہ ،بعض کا چار ماہ اور بعض کا دو ماہ اب نفع ان میں کس طرح تقسیم کروں؛ تا کہ ہر ایک کو اپنا حق پورا پورا مل جائے۔جواب لکھتے وقت درج ذیل دو وضاحتوں کو بھی ذہن میں رکھیے:
(1) چونکہ میں خود کار و بار کرتا ہوں، اس لیے مجھے معلوم ہے کہ نفع بعض مہینوں میں بہت زیادہ ہوا ہے بعض میں کم اور بعض میں بالکل ہوا ہی نہیں، پس اب اگر سال کے پورے نفع کو بارہ ماہ پر برا برتقسیم کرتا ہوں تو یقینا بعض کا حق دوسرے کے پاس جائے گا۔ (2) ان اشخاص سے رقم لیتے وقت میری دکان میں پہلے سے جو سامان تجارت تھا ،وہ کتنی مالیت کا تھا؟ اس کا حساب بھی میں نےاس وقت نہیں لگایا تھا۔
ان دو وضاحتوں کے پیش نظر دو امور مطلوب ہیں:
(1) صورت مسئولہ میں اب کل سرمایہ کاتعین کس طرح کیا جائے گا ؟ تا کہ نفع کی صحیح مقدار معلوم ہو سکے اور پھر نفع کو ان سب شرکاء پر انصاف کے ساتھ تقسیم کیا جا سکے۔
(2) اگر کل سرمایہ کا تعین اور نفع کی تقسیم کا صحیح اور شرعی طریقہ معلوم نہ ہو سکے تو اب تصفیہ کی کیا صورت ہوگی؟ کیونکہ یہ رقم دینے والے اپنےسرمایہ اور اس کے نفع کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
وضاحت: سائل نے بتايا كہ نفع کی شرح 50،50فیصد طے کی گئی تھی، یعنی مضارب اور رب المال کے درمیان نفع آدھا آدھا ہو گا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کاروبار میں شرکت کی شرائط میں سے ہے کہ شرکت کرتے وقت فریقین کے سرمایہ کی مقدار معلوم ہو، جبکہ صورتِ مسئولہ میں شركت كا معاملہ كرتے وقت آپ کی طرف سےلگائے گئے سرمایہ کی مقدار معلوم نہیں تھی، اس لیے سرمایہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے شرعاً یہ شرکت فاسد ہو گئی اور شرکتِ فاسدہ کا حکم یہ ہے کہ ہرشریک اپنے سرمایہ کے تناسب سے نفع کا حق دار ہوتا ہے،لیکن مذکورہ صورت میں چونکہ فریقین کے سرمایہ کی مقدار معلوم نہیں تھی،اس لیے اب نفع کا یقینی طور پر اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، نیز کس شریک کے سرمایہ سے کتنا نفع حاصل ہوا؟ تو چلتے ہوئے کاروبار میں اس کا بھی حتمی تعین کرنا مشکل ہے، خصوصاً جبکہ یہاں سرمایہ کی مقدار بھی معلوم نہیں۔ اس لیے اب فریقین آپس میں باہمی رضامندی سے صلح کا معاملہ کر سکتے ہیں، جس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ امانت اور دیانت کے تقاضا کے مطابق ایک محتاط اندازہ لگا لیں کہ میرے پاس اتنا سرمایہ تھا اور ہر ہر شریک کے سرمایہ سے اتنا نفع حاصل کیا گیا ہے اور پھر اس کے مطابق ہرفریق کو اصل سرمایہ سمیت اس کا نفع دے دیں، اس کے بعد فریقین ایک دوسرے کو کمی بیشی معاف کر دیں تو معاملہ صاف ہو جائےگا، البتہ آئندہ کے لیے کسی بھی شخص سے کاروبار کے لیے رقم لیتے وقت سرمایہ کی مقدار معلوم کر کے معاملہ کریں اور گزشتہ خلافِ شرع معاملہ پر اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار بھی کریں۔
حوالہ جات
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (5/ 53) المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة:
وشرطها أن يكون رأس المال من الأثمان وهو معلوم والربح بينهما شائعا ونصيب كل منهما معلوما وأن يكون معينا مسلما إليه فإن فقد شيء من هذه الأشياء فسدت.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 63) دار الكتب العلمية،بيروت:
(وأما) العلم بمقدار رأس المال وقت العقد فليس بشرط لجواز الشركة بالأموال عندنا، وعند الشافعي - رحمه الله - شرط (وجه) قوله أن جهالة قدر رأس المال تؤدي إلى جهالة الربح، والعلم بمقدار الربح شرط جواز هذا العقد، فكان العلم بمقدار رأس المال شرطا.
(ولنا) أن الجهالة لا تمنع جواز العقد لعينها بل لإفضائها إلى المنازعة، وجهالة رأس المال وقت العقد لا تفضي إلى المنازعة؛ لأنه يعلم مقداره ظاهرا وغالبا؛ لأن الدراهم والدنانير توزنان وقت الشراء، فيعلم مقدارها فلا يؤدي إلى جهالة مقدار الربح وقت القسمة
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
20/جمادی الاخری 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


